پاکستانی اداروں کی جدید آئی ٹی رجحانات اپنانے میں سبقت

بزنس رپورٹر  پير 21 جنوری 2013
پاکستان کی ٹیکسٹائل کمپنیاں بھی تیزی کے ساتھ جدید آئی ٹی سلوشنز کی جانب راغب ہورہی ہیں اور اس وقت 50ٹیکسٹائل کمپنیاں پاکستان میں اوریکل کی خدمات سے استفادہ کررہی ہیں۔ فوٹو: فائل

پاکستان کی ٹیکسٹائل کمپنیاں بھی تیزی کے ساتھ جدید آئی ٹی سلوشنز کی جانب راغب ہورہی ہیں اور اس وقت 50ٹیکسٹائل کمپنیاں پاکستان میں اوریکل کی خدمات سے استفادہ کررہی ہیں۔ فوٹو: فائل

کراچی: پاکستان کے بڑے اور درمیانے کاروباری اداروں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نئے اور جدید رجحانات اختیار کرنے میں دنیا کے بیشتر ملکوں پر سبقت حاصل ہے۔

بدلتے ہوئے کاروباری حالات کے ساتھ کاروباری اداروں کیلیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ضروریات میں بھی اضافہ ہورہا ہے جس سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں پیچیدگیاں بھی بڑھتی جارہی ہیں اور کاروباری اداروں کے آئی ٹی سسٹمز میں تنوع اور ترقی کیلیے وسائل مہیا کرنا بھی دشوار ہورہا ہے۔ بین الاقوامی آئی ٹی کمپنی اوریکل کے منیجنگ ڈائریکٹر برائے پاکستان، سائوتھ ایشیا گروتھ اکانومیز احسن جاوید نے کراچی میں صحافیوں سے ملاقات میں بتایا کہ پاکستان میں کڑے کاروباری چیلنجز کے باوجود اوریکل کی خدمات کا دائرہ کار وسیع ہورہا ہے۔

پاکستان میں 1100 کارپوریشنز اور ادارے اوریکل کی خدمات سے استفادہ کررہے ہیں جن میں سرفہرست اور مڈل رینج کے بینک، تمام ٹیلی کام کمپنیاں، مینوفیکچرنگ، آئل اینڈ گیس، انشورنس، پبلک یوٹیلٹیز کے ادارے، یونیورسٹیز سمیت پبلک سیکٹر کے اہم ادارے شامل ہیں، پاکستان کی ٹیکسٹائل کمپنیاں بھی تیزی کے ساتھ جدید آئی ٹی سلوشنز کی جانب راغب ہورہی ہیں اور اس وقت 50ٹیکسٹائل کمپنیاں پاکستان میں اوریکل کی خدمات سے استفادہ کررہی ہیں۔ احسن جاوید نے بتایا کہ پاکستان ایشیاپیسفک ریجن میں آسٹریلیا کے بعد دوسرا ملک ہے جہاں ہائرایجوکیشن کے شعبے میں 15یونیورسٹیز اوریکل کی خدمات سے استفادہ کرتے ہوئے ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر کیمپس مینجمنٹ سسٹم استعمال کر رہی ہیں ۔

6

انہوں نے بتایا کہ بدلتے ہوئے کاروباری ماحول اور تقاضوں کی وجہ سے انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق پیچیدگیاں بھی بڑھ رہی ہیں، زیادہ تر کاروباری ادارے آئی ٹی سے متعلق 80سے 90فیصد اخراجات موجودہ آئی ٹی سسٹم کو برقرار رکھنے پر خرچ کرتے ہیں جبکہ 16فیصد اخراجات آئی ٹی سسٹم کو جدید بنانے اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ پر خرچ کیے جاتے ہیں، مختلف آئی ٹی سلوشنز اور ہارڈویئرز و سافٹ ویئرز میں ہم آہنگی کے فقدان کی وجہ سے کاروباری اداروں میں آئی ٹی سسٹم چلانے پر مامور ماہرین کا زیادہ وقت سسٹم میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کو دور کرنے اور مسائل کو حل کرنے پر ہی خرچ ہوتا ہے۔

اوریکل نے کاروباری اداروں کی اس مشکل کو آسان کرتے ہوئے کسی بھی بڑے کاروباری ادارے کیلیے تمام آئی ٹی سہولتیں فراہم کرتے ہوئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی پیچیدگیاں دور کردی ہیں جس سے نہ صرف کاروباری اداروں کی کارکردگی بلکہ منافع میں بھی اضافہ ہوا ہے، اوریکل کسی بھی بڑے کاروباری ادارے کیلیے آئی ٹی کی تمام ضروریات بشمول مکمل ای آر پی (انٹرپرائس ریسروس پلاننگ) سسٹم ، فنانشل سسٹم، آر پی سلوشنز، مڈل ویئر ٹیکنالوجی، ڈیٹا بیس آپریٹنگ سسٹم اور ورچول مشین سمیت متعلقہ ہارڈویئرز، سرورز، اسٹوریج اور فرنٹ فیس ایپلی کیشن سمیت فراہم کرتی ہے جس سے نہ صرف آئی ٹی سسٹم کی پیچیدگیاں کم ہوتی ہیں بلکہ سسٹم کے مختلف سیگمنٹس کے درمیان ہم آہنگی نہ ہونے سے پیدا ہونیو الے مسائل بھی ختم ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اوریکل نے گزشتہ سال گلوبل سطح پر 37ارب ڈالر کا ریونیو کمایا جس میں سے 4.5ارب ڈالر ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ پر خرچ کیے، اوریکل دنیا بھر میں 1لاکھ 15ہزار ملازمین اور 25ہزار پارٹنرز کے ساتھ 145ملکوں میں 4 لاکھ کاروباری اداروں کو جدید آئی ٹی سلوشنز فراہم کررہی ہے اور مختلف پراڈکٹ کیٹیگریز میں 50 پراڈکٹس میں نمبر ون ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تھری جی ٹیکنالوجی آنے سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بھی دوام حاصل ہوگا، پاکستان میں آن لائن ٹریڈنگ ابتدائی مرحلے میں ہے، آن لائن ٹریڈنگ کے ذریعے خدمات اور مصنوعات فروخت کرنے والے بڑی کمپنیاں بھی اوریکل کے مکمل آئی ٹی سلوشنز کے ذریعے صارفین کے اعتماد پر پورا اتررہی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔