کوئی ہے جو مردوں کی بھی سُنے (دوسرا حصہ)

رمضان رفیق  اتوار 30 اپريل 2017
کیا آرام طلبی مردوں کا حق نہیں؟ اگر مرد باہر جاکر دھکے کھا رہا ہو اور اُن کی بیگمات صرف گھر داری ہی کرتی ہوں تو کیا یہ برابری ہے کہ آپ تو سارا دن ٹیلی ویژن میں گھسی رہیں، اور شوہر کام کرتا رہے؟

کیا آرام طلبی مردوں کا حق نہیں؟ اگر مرد باہر جاکر دھکے کھا رہا ہو اور اُن کی بیگمات صرف گھر داری ہی کرتی ہوں تو کیا یہ برابری ہے کہ آپ تو سارا دن ٹیلی ویژن میں گھسی رہیں، اور شوہر کام کرتا رہے؟

ظالم مردوں کی کہانیاں مہذب معاشروں میں کب کی دم توڑ چکی ہیں، اب تو خواتین اور مردوں کے برابر حقوق کی جنگ جاری ہے، کبھی مرد اپنا فطری حق سمجھتے ہوئے عورت کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی عورت اپنے ہی الگ رنگ سے مرد کو رام کرتی نظر آتی ہے۔ 

میرے پچھلے بلاگ ’کوئی ہے جو مردوں کی سنے‘ پر ہمارے بہت سے فاضل دوستوں نے سوالات کی بوچھاڑ کی ہے۔ ایک دوست نے تو یہاں تک کہنے کی کوشش کی ہے کہ میرے اِن خیالات سے مردانہ بالادستی کی بو آتی ہے، اور اِن خیالات کے پڑھنے سے پہلے تک وہ مجھے ایک معقول آدمی سمجھتے تھے یعنی اُن کی سوچ سے اختلاف کا مطلب ہی نامعقولیت ہے۔ بہت سے دوستوں نے یہ لکھا کہ اِس مضمون سے روایتی مردانہ خُو بو آتی ہے۔ یعنی انہوں نے ہمارے سبھی دلائل یک جنبش قلم رد کردئیے کہ یہ ٹھیک نہیں ہیں۔ خیر درست کیا ہے؟ ابھی اِس کی وضاحت جاری نہیں ہوئی۔

میری تحریر پر جو سوالات اُٹھائے گئے اُن کا باری باری جواب دیا جائے تو مناسب ہوگا۔

اِس مردانہ سوسائٹی میں مردوں کے حقوق کی آواز کیونکر؟

جب مرد ہر طرف چھائے ہوئے ہیں، یعنی کاروبار سے لیکر سماجی دنیا تک، تو مردوں کے حقوق کی آواز اٹھانا کس طرح مناسب ہوسکتا ہے؟ دیکھئے عرض یہ ہے کہ زیرِ بحث مضمون صرف سماجی زندگی کو ہی موضوع بنایا گیا ہے، پیرٹی آرگنائزیشن مردوں اور عورتوں کے برابر حقوق کے لئے کام کرنے والی ایک تنظیم کی طرف سے کی گئی تحقیق سے کچھ فائدہ اٹھاتے ہیں۔

گھریلو تشدد کا شکار ہونے والے ہر پانچ افراد میں سے دو مرد ہیں۔ ہمیشہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ ’بے چاری‘ تو صرف عورت ہی ہوسکتی ہے جس نے زخم کھائے ہیں لیکن جو چوٹیں مرد کھاتے ہیں وہ تو کسی کو دِکھا بھی نہیں پاتے۔ اِسی رپورٹ کے توسط سے معلوم ہوا کہ بہت سے مرد خود پر ہونے والے ظلم کو رپورٹ ہی نہیں کرواتے کیونکہ اُن کو لگتا ہے اِس سے اُن کے مردانہ امیج کو نقصان پہنچ سکتا ہے، یعنی ابھی اکثریت مرد رپورٹ نہیں کرواتے پھر بھی پانچ میں سے دو مرد گھریلو تشدد کا شکار ہیں۔

میں ذاتی طور پر ایسے کئی دوستوں کو جانتا ہوں جو شادی کے بعد یہاں ڈنمارک میں آئے ہیں، اور میں نے یہ واضح طور پر محسوس کیا ہے کہ اُن کے سسرالی اُن کے ساتھ مناسب سلوک روا نہیں رکھتے۔ اُن کو اپنے پاکستان میں موجود خاندان کی کفالت کرنے سے روکا جاتا ہے، وہ پیسے کہاں کہاں خرچ کرتے ہیں اِس حوالے سے پائی پائی کا حساب لیا جاتا ہے۔ اِس طرح کا نفسیاتی تشدد شاید کسی شمار میں بھی نہ ہو؟

کیا گھر سنبھالنے والی عورت کھانا بھی بنائے گی؟

برابری کا مطلب برابر کام کرنا بھی ہوتا ہے۔ اگر مرد اور عورت نے کام تقسیم کرلئے ہیں، یعنی مرد کہتا ہے کہ میں کما کر لاؤں گا، کفالت کروں گا، اور دوسری عورت کہتی ہے کہ وہ گھر سنبھالے گی، بچوں کی پرورش کرے گی۔ لیکن اگر کمانے والا تو اپنی ذمہ داری پوری دل جوئی سے نِبھا رہا ہو، اُس نے آج تک یہ گلہ نہیں کیا کہ کس مشکل سے اُس نے روزگار کمایا ہے، اِس کام کے لئے اُسے کیا تکالیف اٹھانا پڑتی ہیں، کس کس کی کڑوی کسیلی باتیں سننے کو ملتی ہیں اور دوسری طرف جب وہ گھر جائے اور گھر کا سکون ہی نہ ملے تو اُسے تشدد نہیں کہیں گے تو اور کیا کہیں گے؟

جس متعلقہ واقعہ کا تذکرہ کیا گیا ہے یہ ایک حقیقی واقعہ ہے۔ فون کسی اور دوست نے نہیں کیا، اُسی گھر کے فرد نے اپنے لئے کھانے کا پوچھا ہے، کیا دو افراد کے لئے بھی کھانا نہیں بنایا گیا؟ اگر نہیں تو کوتاہی کس کی ہے؟ جب ایسی کوتاہیاں معمول کا حصہ بن جائیں تو تشدد کون کررہا ہے؟

اگر گھر داری بھی گھر والی کی ذمہ داری نہیں تو کس کی؟

کیا عورتیں خانساماں ہیں؟ یا بچے پیدا کرنے کی مشینں ہیں؟ یا اُن کی ذمہ داری مردوں کو خوش کرنا ہے؟ کیا یہ سوچ پرانی نہیں ہے؟ اگر عورت اور مرد برابر ہیں تو کیا دونوں کی ذمہ داریاں برابر نہیں ہونی چاہئیں؟ کچھ کام ایسے ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کے بغیر نہیں ہوسکتے، جیسے مرد بچے پیدا نہیں کرسکتا، یہ تکریم عورت کے حصے میں ہی آئی ہے، لیکن بچے کی کی بہترین پرورش کے لئے وسائل کی ذمہ داری مرد کی ذمہ داری ہے اور عورت کو باہر جاکر کام کرنے کی ذمہ داری کا حکم نہیں دیا گیا، لیکن اگر وہ گھر میں رہ کر بھی کام نہیں کرتی تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ پھر وہ مرد کے برابر کیسے ہوسکتی ہے؟

اُس نے ایسا کیا کیا ہے جو اُس کو مرد کے برابر سمجھا جائے؟ میرے خیال میں تو یہ امتیازی سلوک ہے۔ برابری ہم اُسی کو کہیں گے جس میں حقوق و فرائض برابر ہیں، اگر کام بانٹے گئے ہیں تو ہر فریق اپنی ذمہ داری بطریقِ احسن نبھائے۔

کیا آرام طلبی عورتوں کا حق نہیں؟

اِس کا جواب یہی ہے کہ کیا آرام طلبی مردوں کا حق نہیں؟ اگر مرد باہر جاکر دھکے کھا رہا ہے، جیسا کہ مذکورہ مضمون میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ یہ اُن لوگوں کی کہانی ہے جن کی بیگمات صرف گھر داری ہی کرتی ہیں، تو کیا یہ برابری ہے کہ آپ تو سارا دن ٹیلی ویژن میں گھسی رہیں، اور شوہر کام کرتا رہے؟

عورتوں کو گھریلو ملازم نہیں سمجھا جانا چاہیئے

پاکستانی کلچر میں جہاں مرد اور عورت کے درمیان کام کی تقسیم موجود ہے، وہاں اگر ایک عورت گھریلو ملازم ہے تو مرد بھی تو گھر سے باہر ملازم ہے؟ کیا کبھی کسی مرد سے سُنا گیا کہ گھر سے باہر اُس کو کیا کیا کام کرنے پڑتے ہیں۔ ایک مرد اِس بات میں بھی فخر محسوس کرتا ہے کہ اپنا گردہ بیچ کر بھی اپنے گھر تک فاقوں کو نہیں پہنچنے دیتا اور وہاں برابری کی دعوے دار خواتین گھر کے کام کرنے پر بھی اپنی توہین محسوس کرے تو اِس بیماری کا علاج ناممکن ہے۔

کیا مرد کا رتبہ ایک درجہ زیادہ ہے؟

کچھ خواتین کو اِس بات پر بہت اعتراض ہے کہ مذہبی نقطہ نظر سے مرد کو عورت پر فضیلت کی بات کیوں دی جاتی ہے؟ مذہبی حوالے سے کوئی عالم ہی اِس کا جواب دے تو مناسب ہوگا۔ لیکن ہاں سماجی حوالے سے جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کا قانون ہی چلتا ہے۔ وہ عورتیں جو مردوں سے زیادہ کماتی ہیں وہ کب اپنے مرد کو خاطر میں لاتی ہیں؟ جہاں عورتیں اور مرد معاشی اعتبار سے برابر ہیں، جیسے ڈنمارک میں، وہاں کون کہتا ہے کہ مرد کا رتبہ عورت کے مقابلے میں ایک درجہ زیادہ ہے؟ میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ ہمارے دیسی کلچر کے حساب سے جہاں جہاں عورتیں مردوں کو بیاہ کر لانے میں کامیاب ہوئی ہیں ایسے خاندانوں کو ایک کیس اسٹڈی کے طور پر پرکھ کر دیکھ لیجئے، رتبہ اُسی کا بلند ہے جس نے خرچہ کیا ہے۔

میں اپنے خیالات پھر سے دہراتا ہوں کہ کسی وقت میں عورت مظلوم تھی، وہ وقت جو میں نے نہیں دیکھا، جہاں عورت پر ظلم ہوتا ہے وہ جگہیں بھی میں نے نہیں دیکھیں۔ میں نے جو اِردگرد دیکھا وہ تو یہی ہے کہ اب گھر گھر(کوپن ہیگن سے لیکر پاکستان کے شہری علاقوں تک) عورت ہی حکمراں و فیصلہ ساز ہے۔ وہ اتنی گئی گزری نہیں کہ کوئی اُس کے حقوق غصب کرسکے، اُس کو اپنا آپ منوانا آگیا ہے، اب تو ایسا وقت ہے جس میں مردوں کو اپنے لئے برابری کا مطالبہ کرنے کی ضرورت در پیش ہوگی۔

آج جب مرد و عورت نے مل جُل کر کفالت کا بوجھ تقسیم کرلیا ہے تو اِس بات میں کوئی حرج نہیں کہ مرد بھی پرورش کے کاموں میں ہاتھ بٹاتا نظر آئے، ہاں اگر عورت باہر بھی کام کرتی ہے اور پھر گھر داری بھی اُسی کو کرنا پڑے تو اُس کیس میں عورتوں کا شکوہ مناسب اور جائز ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔
رمضان رفیق

رمضان رفیق

رمضان رفیق کوپن ہیگن میں رہتے ہیں، اور ایگری ہنٹ نامی ویب سائٹ چلاتے ہیں۔ ان کے بلاگ تحریر سے تقریر تک میں پڑھے جاسکتے ہیں۔ http://tehreer-say-taqreer-tak.blogspot.com/



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

loading...