قتل عام کا داغ مٹانےکی کوشش ہے، فضل الرحمن کا اے این پی کی کانفرنس میں شرکت سے انکار

نمائندہ ایکسپریس  پير 21 جنوری 2013
پشاور: مولانا فضل الرحمن قاضی حسین احمد کی یاد میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کررہے ہیں۔ فوٹو: پی پی آئی

پشاور: مولانا فضل الرحمن قاضی حسین احمد کی یاد میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کررہے ہیں۔ فوٹو: پی پی آئی

پشاور: جمعیت علمائے اسلام (ف ) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اے این پی دور حکومت میں صوبے میں دہشت گردی کو فروع ملا، اب قتل عام کا داغ مٹانے اور دوسروں کو گناہ میں شریک کرنے کیلیے آل پارٹیز کانفرنس بلائی جا رہی ہے جس میں ہم شرکت نہیں کرینگے۔

جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جو لوگ الیکشن سے قبل صدر زرداری سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں، لگتاہے انھوں نے زرداری سے مک مکا کر لیا ہے کیونکہ اگر زرداری استعفیٰ دے تو آئین کے مطابق یہی اسمبلی دوبارہ 5سال کیلیے صدر کا انتخاب کرے گی۔ بلوچستان میں گورنرراج غیرآئینی اور غیر جمہوری اقدام ہے، حکومت تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے نگراں حکومت بنائے اور وزیر اعظم کا نام تجویز کیاجائے، ایم ایم اے کی بحالی کیلیے مذہبی جماعتوں کو ایک دوسرے پر تنقید کے بجائے مشاورت کی ضرورت ہے۔

11

 

قبل ازیں ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے قاضی حسین احمد کی مذہبی خدمات اور سیاسی جدوجہد پر روشنی ڈالتے ہوئے انھیں خراج تحسین پیش کیا۔جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ملک میں جمہوریت کی حفاظت اور بروقت عام انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے ا یک نکاتی ایجنڈے پر تمام اپوزیشن جماعتوں کا گرینڈ الائنس بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔ تعزیتی ریفرنس میںعوامی نیشنل پارٹی کے رہنما وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور، انجینئرگل بدین حکمت یار کے ترجمان حزب اسلامی کے رہنما ڈاکٹرغیرت بحیر، مسلم لیگ ہم خیال کے صدر سلیم سیف اللہ خان، جے یو آئی (س)کے صوبائی صدر مولانا یوسف شاہ، قاضی حسین احمد کے صاحبزادے آصف لقمان قاضینے بھی اظہار خیال کیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔