صوبے کی ترقی کیلیے 5سو بلین روپے خرچ کررہے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

نمائندگان ایکسپریس  پير 21 جنوری 2013
سکھر: وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں ،وفاقی وزیر خورشید شاہ بھی موجود ہیں۔ فوٹو: آن لائن

سکھر: وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں ،وفاقی وزیر خورشید شاہ بھی موجود ہیں۔ فوٹو: آن لائن

سکھر: وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ حکومت صوبے میں ترقیاتی کاموں پر500 بلین روپے خرچ کررہی ہے۔

عوامی حکومت کی لیڈر شپ نے دنیا بھر میں پاکستان کی عزت اور وقار کو بڑھایا ہے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز بندر وال اور سادھو بیلہ میں جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر وفاقی وزیر مذہبی امور سید خورشید احمد شاہ، رکن قومی اسمبلی نعمان اسلام شیخ اور ایم پی اے ڈاکٹر نصر اللہ بلوچ بھی موجود تھے جبکہ سید خورشید شاہ نے وزیر اعلیٰ کو سکھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا، قائم علی شاہ نے ہندوئوں کی تاریخی تیرتھ گاہ سادھو بیلہ میں جاری ترقیاتی کاموں پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو ترقیاتی کام تیز کرنے اور مقررہ مدت میں مکمل کرنیکی ہدایت کی۔

بعد ازاں وزیر اعلیٰ نے سرکٹ ہائوس میں سکھر کے منتخب نمائندوں اور افسران کے اجلاس میں شرکت کی، اس موقع پر انھیں ترقیاتی کاموں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ علاوہ ازیں شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیرپور کے علامہ آئی آئی قاضی ہال میں 4 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونیوالے شہید بینظیر بھٹو چیئر اور 50 کروڑ 83 لاکھ روپے کی لاگت سے ڈیٹ پام ریسرچ انسٹیٹیویٹ کاسنگ بنیادرکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ ملک کی معاشی،سماجی اور ثقافتی ترقی کا دارومدار بہتر تعلیم سے مشروط ہے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہی انسان جہالت کے اندھیرے سے نہیں۔

18

جمہوری حکومت نے تعلیم اور صحت کیلیے 14،14 ارب روپے مختص کیے ہیں، وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ جب خیرپور کی ڈویژن کی حیثیت ختم کی گئی تو انھوں نے اس وقت کے وفاقی وزیر شہید ذوالفقار علی بھٹو سے خیرپور میں یونیورسٹی اور ریڈیو پاکستان کیلیے گزارش کی جس پر انھوں نے یونیورسٹی اور ریڈیو پاکستان کے قیام کا اعلان کیا۔ جمہوری حکومت نے تعلیم اور صحت کے شعبے میں بہتری لانے کیلیے موثر اقدامات کیے ہیں صوبے میں 7 نئی یونیورسٹیاں قائم کی جارہی ہیں۔ ایک یونیورسٹی پر400 کروڑ روپے لاگت آتی ہے یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی ادارے قائم کرنا اتنا آسان کام نہیں ہے جس کیلیے تعلیمی ماہرین انفرااسٹرکچر اور بجٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ صدر پاکستان کی سیاسی حکمت عملی کے باعث صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ کی منصفانہ تقسیم کے بعد ان کو مالی حق دلوایا جس سے سندھ کو کافی فائدہ ہوا ہے اور صوبے کے مالیاتی وسیلوں میں 55 بلین روپے کا اضافہ ہوا ہے جو تعلیم ،صحت اور ترقی کے کاموں پر خرچ ہورہے ہیں، اس سے قبل پنجاب اور وفاق کو فائدہ ہوتا تھا جبکہ سندھ کو 33 فیصد حصہ ملتا تھا، سید قائم علی شاہ نے کہا کہ سندھ صوبہ مالی وسیلوں سے مالا مال ہے ، ماضی میں حکمراں تعلیم کے بجٹ پر 4 فیصد خرچ کرتے تھے اوراب 18 ویں ترمیم کے بعد ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اختیار صوبوں کے حوالے کیے گئے ہیں جس سے یونیورسٹی سمیت دیگر تعلیمی اداروں میں بہتری آئی ہے ، برطانیہ کے وزیر اعظم کو سندھ میں حکومتی اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔

اس موقع پر پارٹی رہنما سید جاوید علی شاہ ،کمشنر سکھر محمد عباس بلوچ اور ڈی سی خیرپور طاہر حسین سانگی بھی موجود تھے ۔دریں اثناء وزیر اعلیٰ سندھ نے آئی بی اے سکھر کی جانب سے گرلز ہائر سیکنڈری اسکول خیرپور میں اسکول منجمنٹ کو سنبھالنے کیلیے 2 کروڑ روپے انڈومنٹ فنڈ کا اعلان کیا، آئی بی اے سکھر کے ڈائریکٹر نثار احمد صدیقی نے بھی خطاب میں کہا کہ بہتر معیاری تعلیم کے سلسلے میں قائم علی شاہ ،ناہید شاہ اور کم۔بعد ازاں سید قائم علی شاہ نے بھرگڑی ریگولیٹرسے خاکی شاہ پل،،ٹھیڑی پھاٹک سے لقمان تک،ٹھیڑی پھاٹک سے میرواہ تک 10 کروڑ 65 لاکھ روپے کی لاگت سے سڑکوں کی تعمیر کا افتتاح کیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔