’’امیتا‘‘ کے روپ میں چاندنی بھگوانی

مہر النساء  پير 21 جنوری 2013
امیتا کا کردار میری حقیقی زندگی سے میل کھاتا کردار ہے, چاندنی بھگوانی۔  فوٹو : فائل

امیتا کا کردار میری حقیقی زندگی سے میل کھاتا کردار ہے, چاندنی بھگوانی۔ فوٹو : فائل

’’ زندگی خوب صورت ہے۔ اس کا ہر لمحہ خوشی اور مسرت کے ساتھ بھرپور طریقے سے گزارنا ہے۔

مشکلات اور مصائب، رنج و غم جھیلنے کے لیے تیار رہنا ہے۔‘‘ ان خیالات کی مالک یہ سادہ طبیعت اور عام سی لڑکی ’’امیتا‘‘ ہے، جو اپنے خوابوں کے ساتھ زندگی کا سفر طے کر رہی ہے۔ اسے ایک ایسا جیون ساتھی چاہیے، جو اس کی طرح زندگی کو ہنسی خوشی گزارنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ یہ لڑکی سونی ٹی وی چینل کے سوپ ’’امیتا کی امیت‘‘ کی پہلی قسط کے ذریعے اسی ماہ ناظرین کے سامنے آئی ہے۔ حقیقی زندگی میں اسے چاندنی بھگوانی کے نام سے پہچانا جاتا ہے اور اداکاری کے میدان میں وہ چائلڈ ایکٹریس کے طور پر خود کو منوا چکی ہے۔ تاہم اس ڈرامے کو اس کا پہلا قدم مانا جاسکتا ہے۔ اس نوخیز اداکارہ سے ڈرامے کی کہانی اور اس کے خیالات جاننے کے لیے کیا گیا ایک انٹرویو آپ کے لیے پیش ہے۔

کیوں کہ ساس بھی۔۔۔، شش کوئی ہے، کرشمہ کا کرشمہ، کبھی سوتن کبھی سہیلی، کوئی اپنا سا کے علاوہ چند ڈیلی سوپس میں اسے چائلڈ ایکٹریس کے طور پر دیکھا گیا۔ وہ اپنے کیریر کا پہلا مرکزی کردار نبھارہی ہے اور نہایت خوش ہے۔ وہ کہتی ہے،’’ ٹیلی ویژن چینل پر اس وقت کئی ڈرامے نشر ہورہے ہیں، جن کی مقبولیت میں کسی کو شبہہ نہیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ ان کی موجودگی میں ہمارا شو اپنی جگہ ضرور بنائے گا اور اسے بڑی تعداد میں ناظرین میسر آئیں گے۔‘‘

اداکارہ کے مطابق اس کا کسی سے مقابلہ نہیں ہے اور وہ اپنی کام یابی کا دعوی نہیں کر رہی بلکہ یہ یقین ہے کہ مضبوط کہانی اور تمام فن کاروں کی عمدہ پرفارمینس کی وجہی سے اس ڈرامے کو پسند کیا جائے گا۔ وہ اپنے ڈرامے کو حقیقت سے قریب تر بتاتی ہے اور اس کا خیال ہے کہ یہی عنصر اس شو کی کام یابی کا ذریعہ بنے گا۔

امیتا کا کردار اسے کیسا لگا، اس بابت چاندنی نے بتایا،’’ یہ میری حقیقی زندگی سے میل کھاتا کردار ہے۔ میں ایسی ہی ہوں، جیسا رول مجھے دیا گیا ہے۔ اس لیے یہ بہت آسان معلوم ہو رہا ہے۔ زندگی کے بارے میں میرے خیالات بالکل وہی ہیں، جن پر امیتا کا کردار بُنا گیا ہے۔ یہ ایک مثبت کیریکٹر ہے، لیکن مستقبل میں منفی کردار ادا کرنا چاہوں گی۔ میں سمجھتی ہوں کہ وہ میرے کیریر میں شان دار اضافہ ہو گا۔‘‘

اداکاری کی طرف آنے سے قبل وہ متعدد اشتہارات میں کام کر چکی تھی۔ پھر کم عمر اداکارہ کے طور پر کام کیا اور آج ہندوستان کے ایک بڑے ٹی وی چینل پر نظر آرہی ہے۔ ابھی وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے مرحلے سے گزر رہی ہے اور اس کا خیال ہے کہ ٹی وی پر کام کرنے سے اس کی پڑھائی متاثر نہیں ہو گی۔ اداکارہ کے اساتذہ اسے ایک لائق طالبہ کے طور پر جانتے ہیں اور وہ انھیں مایوس نہیں کرے گی۔

اس ڈرامے کی پہلی قسط دیکھنے والوں نے حوصلہ افزاء تبصرے کیے ہیں۔ تاہم ابھی اس کے مستقبل کی بابت کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ چند مزید اقساط نشر ہونے کے بعد ناظرین کے علاوہ ناقدین کی طرف سے خیالات کا اظہار اہمیت کا حامل ہو گا۔ یہ ڈراما بہ طور اداکارہ چاندنی کی شہرت اور کام یابی کا راستہ ہم وار کرنے میں کس حد تک مددگار ثابت ہو گا، یہ جاننے کے لیے تھوڑا عرصہ انتظار کرنا ہو گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔