الیکشن کمیشن: عام انتخابات ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز کی منتقلی بھی منجمد

نمائندہ ایکسپریس  منگل 22 جنوری 2013
 فوٹو: فائل

فوٹو: فائل

اسلام آ باد:  الیکشن کمیشن نے انتخابات تک سرکاری بھرتیوں اور ترقیاتی فنڈز کے صوابدیدی استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔

سرکاری بھرتیوں پر پابندی سے متعلق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔ یہ پابندی الیکشن کمیشن نے بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے شکایات موصول ہونے پر لگائی ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ پبلک سروس کمیشنز پر بھرتی پر پابندی کا اطلاق نہیں ہو گا۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم اور دیگر وزرا کے صوابدیدی فنڈز کے استعمال پر بھی پابندی ہو گی۔

نجی ٹی وی کے مطابق الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم کے حلقے میں صوابدیدی فنڈز کی منتقلی کا نوٹس لیتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز دوسرے منصوبوں کو منتقل کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق کسی ترقیاتی منصوبے کے فنڈز دوسرے منصوبے کو منتقل نہیں کیے جا سکتے اور اگر کوئی رقم منتقل کی گئی ہے تو اسے منجمد تصور کیا جائیگا۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ عوام کی جانب سے عام انتخابات سے پہلے سیاسی رشوت کے طور پر مختلف محکموں میں ملازمتوں کی فراہمی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ ہزاروں افراد کو سیاسی بنیادوں پر ملازمتیں فراہم کی جا رہی ہیں تا کہ ان تقرریوں کے ذریعے انتخابات پر اثر انداز ہو سکیں، یہ طریقہ کار قانونی، اخلاقی اور جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔

لہٰذا صرف صوبائی پبلک سروس کمیشنز اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی اسامیوں کے سوا تمام تقرریوں پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔ کمیشن کے علم میں یہ بھی آیا کہ کئی ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز وزیر اعظم کے صوابدیدی فنڈ میں منتقل کیے جا رہے تا کہ وہ اپنے حلقے کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کر سکیں۔ یہ طریقہ کار پری پول دھاندلی کا دوسرا پہلو ہے۔ کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ عام انتخابات شفاف اور منصفانہ بنیادوں پر کرائے جائیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔