تفتیشی افسر خفیہ معلومات میڈیا کو دے رہے ہیں‘ چیئرمین نیب

اسد کھرل / عمر ننگیانہ  منگل 22 جنوری 2013
کامران کے کمرے سے ماہرنفسیات کا نسخہ برآمد‘ فیڈرل لاجز عملے کے بیانات قلمبند فوٹو: فائل

کامران کے کمرے سے ماہرنفسیات کا نسخہ برآمد‘ فیڈرل لاجز عملے کے بیانات قلمبند فوٹو: فائل

اسلام آ باد:  چیئرمین نیب نے تفتیشی افسروں کی سخت سرزنش کرتے ہوئے ان پر حساس اور خفیہ معلومات میڈیا کو دینے کا الزام عائد کیا ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق کامران فیصل کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کے دوران ہڑتالی ریجنل افسروں سے ویڈیو لنک پر خطاب کے بعد افسروں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایسا کرنا بغاوت کے زمرے میں آتا ہے، اس موقع پر نیب کے ریجنل افسروں نے سینئرحکام کی کارکردگی سمیت مختلف معاملات پر سوالات اٹھائے،اس دوران ڈپٹی ڈائریکٹر پنجاب احمد رضا نے یہاں تک کہہ دیا کہ اعلٰی انتظامیہ کرپٹ ہے۔

چیئرمین نیب نے حفظ ماتقدم کے طور پر ہائی پروفائل کیسز پر کام کرنے والے افسروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے پاس آتشیں اسلحہ رکھیں اور اپنی جائے قیام تبدیل کرتے رہیں، انھوں نے رینٹل پاور کیس کے تفتیشی افسر اصغرخان اور اوگرا کیس کے تفتیشی افسروقاص احمد خان کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر کسی محفوظ مقام پر منتقل ہوجائیں، دوسری جانب پولیس کی تفتیشی ٹیم کو فیصل کے کمرے سے پولی کلینک اسپتال کی ماہر نفسیات کا نسخہ ملا ہے ۔

جس کے مطابق انہیں اینٹی ڈپریشن ادویات تجویز کی گئی تھیں۔ تاہم ہسپتال انتظامیہ نے تردید کی کہ فیصل کبھی انکے اسپتال میں اس مقصد کے لیے آئے، ترجمان کے مطابق کامران صرف ایک بار12اکتوبر2012 کو اسپتال آئے اور انھوں نے اپنی گردن کا ایکسرے اور خون کے چند ٹیسٹ کروائے۔ ادھر جسٹس(ر) جاوید اقبال پر مشتمل کمیشن نے گزشتہ روز فیڈرل لاجز2 کے عملے کے بیانات قلمبند کیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔