صوبے عوام کی مرضی سے بنیں گے کسی مخدوم کی مرضی سے نہیں، چوہدری نثار

ویب ڈیسک  منگل 22 جنوری 2013
حکومت صوبہ سندھ اوربلوچستان میں بھی ایسی نگراں حکومتیں بنائے جو سب کے لئے قابل قبول ہوں، چوہدری نثار۔ فوٹو: فائل

حکومت صوبہ سندھ اوربلوچستان میں بھی ایسی نگراں حکومتیں بنائے جو سب کے لئے قابل قبول ہوں، چوہدری نثار۔ فوٹو: فائل

اسلام آ باد: قائدحزب اختلاف اورمسلم لیگ(ن) کے رہنما چوہدری نثارعلی خان نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے صوبے عوام کی مرضی سے بنیں گے کسی مخدوم کی مرضی سے نہیں، پیپلز پارٹی اور طاہرا لقادری کے درمیان ہونے والے مک مکا کا حصہ نہیں بنیں گے۔

اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہرمیڈیا سے بات کرتے ہوئے چوہدری نثارعلی خان  کہا کہ مسلم لیگ (ن) چاہتی کہ صوبے بنیں لیکن ہم آئین و قانون کے تحت صوبے بنانے کے حق میں ہیں نہ کہ کسی مخدوم کی خواہش پر۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) اس بات پریقین رکھتی ہے کہ  پنجاب اسمبلی کی متقفقہ قرارداد سے ہی  نئے صوبے بن سکتے ہیں جس کے لئے پیپلز پارٹی اور اس کے حامی  دلچسپی نہیں رکھتے وہ صرف اس کو انتخابی ایشو بنانا چاہتے ہیں۔

چوہدری نثارعلی خان نے کہا مسلم لیگ(ن) نہ تو پیپلزپارٹی اورطاہرالقادری کے درمیان ہونے والے مک مکا کا حصہ ہے اورنہ ہی آصف زرداری اورمخدوم احمدمحمود کے درمیان ہونے والی کسی سوداگری کا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں نئے صوبے کے حوالے سے جو پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی اس میں مسلم لیگ(ن)کی مرضی سے ممبران نہیں لئے گئے بلکہ حکومت نے ان ممبران کا اعلان خود ہی کیا تھا۔

چوہدری نثارعلی خان کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت کے قیام کے لئے مسلم لیگ(ن) اپوزیشن کی دیگرجماعتوں سے مشاورت کررہی ہے اوریہ مشاورت تقریباً مکمل ہونے والی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف نگراں وزیراعظم کے لئے دونام نہیں دیں گے بلکہ صوبوں کے حوالے سے بھی وزرائے اعلیٰ کے لئے دو دونام دیئے جائیں گے۔

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ اسمبلیاں ایک ساتھ تحلیل کرنے کی کنجی مسلم لیگ(ن) کے پاس ہے اگرشہبازشریف بطوروزیراعلیٰ اپنی مرضی سے پنجاب اسمبلی تحلیل کریں گے توتب ہی حکومت اورطاہرالقادری کے درمیان جو کھیل کھیلا گیا ہے وہ کامیاب ہوگا،ہم پاکستان کے مفاد میں جوبہترہوگا وہی فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق،پنجاب اورخیبرپختونخوا کے ساتھ ساتھ صوبہ سندھ اوربلوچستان میں بھی ایسی نگراں حکومتیں بنائی جائیں جو سب کے لئے قابل قبول ہوں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔