سنے سنائے ٹوٹکوں کے ذریعے ڈائیٹنگ کے نقصانات

نیاز عاطف (میڈیکل پامسٹ)  اتوار 14 مئ 2017
دورانِ ڈائٹنگ جسم کو مطلوب غذائی اجزا میں کمی واقع ہو جانے سے کئی دوسرے امراض بھی جنم لینے لگتے ہیں۔ فوٹو : فائل

دورانِ ڈائٹنگ جسم کو مطلوب غذائی اجزا میں کمی واقع ہو جانے سے کئی دوسرے امراض بھی جنم لینے لگتے ہیں۔ فوٹو : فائل

ڈائٹنگ کا رجحان ہماری نئی نسل خصوصاً خواتین میں بہت زیادہ پایا جاتا ہے، جس کے لئے سنے سنائے ٹوٹکوں پر اندھا دھند عمل شروع کر دیا جاتا ہے، حالاں کہ اکثر اوقات ان ٹوٹکوں کا استعمال صحت کی بحالی کے بجائے نقصان کا باعث بن جاتا ہے۔

موٹے افراد کی خواہش تو راتوں رات سمارٹ ہوجانا ہوتا ہے، لیکن ڈبلیو ایچ او کے مطابق ایک موٹے شخص کو ایک ماہ میں زیادہ سے زیادہ 3 سے 5 کلو وزن کم کرنا چاہئیے جو طبی اصولوں کے عین مطابق ہے۔ جب ہم وزن طے شدہ پیمانے سے زیادہ کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمارا بدن کئی دوسرے جسمانی مسائل کا شکار ہو سکتا ہے۔

ہم اپنے تمام پڑھنے والوں سے گزارش کریں گے کہ سنے سنائے ٹوٹکوں پر آنکھیں بند کر کے عمل شروع کرنے کی بجائے کسی طبی ماہر یا جڑی بوٹیوں کا علم رکھنے والے سے مذکورہ ترکیب کی افادیت بارے ضرور پوچھ لیا کریں تاکہ بعد ازاں کسی بھی جسمانی الجھن سے محفوظ رہا جا سکے۔

دورانِ ڈائٹنگ جسم کو مطلوب غذائی اجزا میں کمی واقع ہو جانے سے کئی دوسرے امراض بھی جنم لینے لگتے ہیں۔ ڈائٹنگ کرنے والے افراد کو چاہیے کہ اپنی خوراک میں فولاد ،کیلیشیم اور فیٹ برن والی غذائیں جیسے پالک،سیب،ٹماٹر، امرود، اسٹابری،انار،لیمن، پیاز، ادرک، لہسن، زیرہ سفیددودھ اور دہی وغیرہ بکثرت شامل کریں۔ موسم کے لحاظ سے خشک میوہ جات کی مخصوس مقدار بھی روزانہ کھایا کریں۔ وزن کم کرنے کی کوشش میں عام طور پر جسم سے ہیموگلوبن کی مقدار کم ہو جایا کرتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ڈائٹنگ کرنے والوں کی جلد ڈھیلی پڑ کر روکھی اور بے رونق سی ہو جاتی ہے۔

طبی سائنس کے مطابق جب جسم میں آکسیجن کی کمی واقع ہوتی ہے تو جسم کمزور اور سست ہو جاتا ہے، جلد کے خلیات کمزور ہو کر بے جان ہو جاتے ہیں۔ چونکہ آکسیجن ہی زندگی کی علامت مانی جاتی ہے۔بدن میں آکسیجن کی مقدار پوری کرنے کا آسان ذریعہ صبح سویرے کھلی فضا میں چہل قدمی کرنا اور منہ بند کر کے ناک کے راستے لمبی لمبی سانس لینا ہے۔ لہذا اپنی روز مرہ خوراک میں توازن پیدا کر کے ڈائٹنگ کے نقصانات اور موٹاپے سمیت لا تعداد بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔

[email protected]

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔