کریٹی نن کی زیادتی… ایک خطرہ

نیاز عاطف (میڈیکل پامسٹ)  اتوار 14 مئ 2017
فریز، غیر طبعی اور مصنوعی غذائیں ہمیشہ ہمارے گردوں کے لیے نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ فوٹو : فائل

فریز، غیر طبعی اور مصنوعی غذائیں ہمیشہ ہمارے گردوں کے لیے نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ فوٹو : فائل

بلاشبہ گردے انسانی جسم کی چھلنی کا کام کرتے ہیں۔ یہ جسم سے زہریلے مادوں کو خارج کرتے ہیں۔

یورک ایسڈ، یوریا کریٹینائن اور دوسرے نقصان دہ عناصر کو پیشاب کے ساتھ جسم سے باہر نکالنے کا اہم کام بھی یہی گردے سر انجام دیتے ہیں۔ یہ خون کو صاف کر کے ہمیں کئی امراض سے محفوظ رکھتے ہیں۔گردوں کے مسائل سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم قدرتی غذائوں پہ انحصار کریں۔

فریز، غیر طبعی اور مصنوعی غذائیں ہمیشہ ہمارے گردوں کے لیے نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ کولڈ ڈرنکس، بیکری مصنوعات ،مصنوعی معدنی اجزاء،ملٹی وٹامنز،حکیموں کے مبینہ کشتے اور اسٹیرائیڈز کا بکثرت استعمال گردوں کے امراض کا سب سے بڑا سبب ہیں۔

مذکورہ بالا غذائی اجزاء سے بچ کر ہم گردوں کے مسائل سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ بڑھے ہوئے کریٹینائن کو کم کرنے کے لیے سونف قدرت کی ایک بہت بڑی نعمت ہیں۔ آپ روزانہ نصف گرام سونف پانی میں پکا کر ان کا قہوہ دن میں دو سے تین بار پینا شروع کردیں۔

بطور علاج قسط شیریں کا سفوف ایک گرام نہار منہ کھانا بھی تاثیرالاثر نتائج کی حامل طبی ترکیب ہے۔ تین سے چار ہفتے استعمال کرنے کے بعد ٹیسٹ کروا کے چیک کر لیں، انشا اللہ کریٹی نن کی مقدار اپنے درست لیول پہ آ جائے گی۔ لیکن اس دوران ٹماٹر،پالک،چاول ،پروٹین ،کیلیشیم اور فولاد والی غذائوں سے پر ہیز کریں، کیوں کہ یہ مرض کو تقویت بہم پہنچانے کا سبب بن سکتی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔