ہمارے پاس امریکی جمہوریت بچانے کے لیے ایک سال بچا ہے، ٹموتھی سینڈر

سید بابر علی  اتوار 14 مئ 2017
فسطائیت پسند ٹرمپ امریکا کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ فوٹو : فائل

فسطائیت پسند ٹرمپ امریکا کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ فوٹو : فائل

ٹموتھی سینڈر امریکا کے مشہور مورخ، مصنف اور دانش ور ہیں۔ یالے یونیورسٹی میں تاریخ پڑھانے والے ٹموتھی ویانا کے انسٹی ٹیوٹ فار ہیومن سائنس کے مستقل فیلو بھی ہیں۔

1997میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کرنے والے سینڈر کو پانچ یورپی زبانوں پر مکمل عبور حاصل ہے۔ ان کی چھے کتابیں نیشنل ازم، مارکسزم اور ماڈرن سینٹرل یورپ: اے بائیو گرافی آف کازی مائرز کیلیس کروز، دی ری کنسٹرکشن آف نیشنز: پولینڈ، یوکرائن، لتھوانیا، بیلاروس، اسکیچ فرام آ سیکریٹ وار: اے پولش آرٹسٹ مشن ٹو لبریٹ سوویت یوکرائن، دی ریڈ پرنس: دی سیکریٹ لائیوز آف ا ے ہیبس برگ آرک ڈیوک اور دی بلڈ لینڈز: یورپ بٹوین ہٹلر اینڈ اسٹالن شایع ہوچکی ہیں۔ آخرالذکر کتاب ایمرسن پرائز ان ہیومینیٹیز، امریکی اکادمی آف ادبیات اور فنون کی جانب سے لٹریچر ایوارڈ، Leipzig ایوارڈ اور سیاسی بصیرت کا Hannah Arendtانعام جیت چکی ہے۔ ان کی درج بالا کتاب کا دنیا کی 33زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے اور چھے ملکوں میں بیسٹ سیلر رہ چکی ہے۔

ان کی حال ہی میں مکمل ہونے والی کتاب بلیک ارتھ: دی ہولوکاسٹ ایز ہسٹری اینڈ وارننگ 24غیرملکی زبانوں میں شایع ہوگی۔ ان کے علاوہ سینڈر تحقیقی جرنل؛ جرنل آف ماڈرن یورپین ہسٹری اینڈ ایسٹ یورپین پالیٹکس اینڈ سوسائٹیز کے ادارتی بورڈ کے رکن بھی ہیں۔ تاریخ، اور جمہوریت پر گہری نظر رکھنے والے ٹموتھی دو کتابوں؛ وال اراؤنڈ دی ویسٹ: اسٹیٹ باڈرز اینڈ امیگریشن کنٹرولز ان یورپ اینڈ نارتھ امریکا اور اسٹالن اینڈ یورپ: ٹیرر، وار، ڈومینیشن کے شریک مصنف بھی ہیں۔

امریکا کے حالیہ صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح کے بعد امریکا کے نظام جمہوریت کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات کے حوالے سے ان کی ایک کتاب؛ آن ٹرینی: ٹوئنٹی لیسنز فرام دی ٹوئنتھ سینچری منظر عام پر آئی ہے۔ جس میں انہوں نے امریکا کے جمہوری نظام کے ایک سال میں خاتمے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اس کتاب کے تناظر میں امریکا کی خبری ویب سائٹSalon.comنے ان کا ایک انٹرویو شایع کیا ہے جس کا ترجمہ قارئین کی دل چسپی کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امریکی جمہوریت بحران کا شکار ہے۔ بہ ظاہر ایسا لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے منتخب ہونے کے بعد پیدا ہونے والی ہنگامی صورت حال معمول پر آگئی ہے۔ ٹرمپ اپنے سیاسی دشمنوں کو تشدد آمیز دھمکیاں دے چکے ہیں۔ وہ اس بات کو بھی واضح کرچکے ہیں کہ وہ امریکی جمہوریت کے اصولوں اور روایتوں پر اس وقت تک یقین نہیں رکھتے جب تک وہ ان کے مفاد میں نہ ہوں۔ ٹرمپ اور اُن کے مشیر آزاد میڈیا کو اپنی حکومت کے لیے دشمن تصور کرتے ہیں۔ ٹرمپ تواتر سے جھوٹ بولتے ہیں اور ذرائع ابلاغ کے ساتھ ان کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ ٹرمپ اپنے ووٹرز کو متحرک کرنے کے لیے نسلی اور موروثی تعصب کو استعمال کرتے ہوئے لاطینیوں اور مسلمانوں کی تحقیر کرچکے ہیں۔

ٹرمپ آزاد عدلیہ کو ختم کرنے کی دھمکیاں بھی دے چکے ہیں اور اپنے غیرآئینی اور غیر قانونی حکم ناموں کے خلاف کھڑے ہونے کی جرأت کرنے والے ججوں کو سزا دینے کے خواہش مند ہیں۔ یہ آئین کی ایک اہم شق کی خلاف ورزی دکھائی دیتی ہے۔ ٹرمپ بڑی کارپوریشنز، غیرممالک، اور دولت مند افراد تک رسائی حاصل کرکے خود کو، اپنے اہل خانہ اور اندرونی حلقوں کو مزید دولت مند بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ٹرمپ اور ان کے نمائندے بھی خود کو قانون سے ماورا سمجھتے ہیں۔

کیا امریکی عوام ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مزاحمت کرسکتی ہے؟ تاریخ ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے کہ استبدادیت اور فسطائیت کے عروج نے جمہوریت کو کیسے زوال پذیر کیا؟ کیا ایسا کوئی طریقہ ہے جس کی بنیاد پر انفرادی طور پر روزانہ کی بنیاد پر اپنی ذاتی زندگیوں میں ٹرمپ کی تحریک کو عروج دینے والی سیاسی اور ثقافتی قوتوں کے خلاف جوابی کارروائی کرسکیں؟ امریکی جمہوریت ڈونلڈ ٹرمپ اور ری پبلیکن پارٹی کے اس زہریلے انجکشن سے پہلے کتنا چل سکتی تھی جس کے ملک کے جسم میں انجیکٹ ہونے سے سیاست بہت مہلک ہوچکی ہے؟

ان تمام سوالات کے جواب جاننے کے لیے میں نے یالے یونیورسٹی کے تاریخ کے پروفیسر ٹموتھی سینڈر سے گفت گو کی۔ ٹموتھی ایک ایوارڈ یافتہ مصنف بھی ہیں۔ ان کی مشہور کتابوں میں ’بلیک ارتھ: دی ہولوکاسٹ ایز ہسٹری اینڈ وارننگ‘، ’بُلڈ لینڈز: یورپ بٹوین ہٹلر اینڈ اسٹالن ‘ شامل ہے۔ حال ہی میں ان کی ایک کتاب ’آن ٹائرینی: ٹوئنٹی لیسنز فرام دی ٹوئنتھ سینچری‘ شایع ہوئی ہے، جس میں انہوں واضح کیا ہے کہ امریکی عوام کس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کی آمریت پسند طرزحکومت کے خلاف ابتدا میں ہی کیسے مزاحمت کر سکتے ہیں۔

Chauncey DeVega: ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابات امریکی جمہوریت کے لیے باعث تشویش ہے۔ یہ کیسے ہوا؟

ٹموتھی سینڈر: ہم سے یہ کہا جاتا ہے کہ 1989(سرد جنگ کا اختتام) میں تاریخ اوور ہوگئی تھی۔ یہ کہہ کر کہ اب دوبارہ ایسا نہیں ہوسکتا ہم بنیادی طور پر کسی مصیبت کو دعوت دے رہے تھے۔ ہمارا یہ بیان کہ ایسا کچھ (کبھی) نہیں ہوسکتا غلط ثابت ہوگیا، یہ ایک ایسی داستان ہے کہ کیسے انسانی فطرت اک طرح سے فری مارکیٹ ہے اور فری مارکیٹ جمہوریت لاتی ہے، لہذا سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے، اور یقیناً اس بیان کا ہر حصہ احمقانہ ہے۔

یونانی اس بات کو سمجھتے تھے کہ جمہوریت ایک طرح سے چند لوگوں کا حکومت کرنا ہے، کیوں کہ اگر آپ کے پاس عدم مساوات کو قابو میں رکھنے کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے تو پھر زیادہ دولت مند افراد زیادہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ٹرمپ کے ساتھ معاملہ کچھ اور ہے وہ جو کررہے ہیں، کہہ رہے ہیں وہ کسی صورت میں جمہوریت نہیں ہے۔ وہ ایک لفظ ادا کیے بنا بھی کہہ رہے ہیں کہ ’ہم سب جانتے ہیں کہ یہ چند لوگوں کی حکومت ہے لہٰذا مجھے آپ کا حکم راں بننے دیا جائے۔‘ حالاںکہ یہ سراسر احمقانہ بات ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ (ٹرمپ) ایک دغاباز آدمی ہیں، وہ اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔

Chauncey DeVega: اپنی تحاریر اور انٹرویوز میں، میں ہمیشہ ٹرمپ کو فسطائیت پسند آدمی کہتا ہو۔ میرے اس دعوے کے کئی مخالف ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ کو نازی کہنا درست ہے؟ اگر نہیں پھر ٹرمپ کی شخصیت کو بیان کرنے کے لیے ہمیں کون سی زبان استعمال کرنی چاہیے؟

ٹموتھی سینڈر: امریکی انداز گفت گو کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم ہر کسی کو جمہوریت پسند، پارلیمینٹرین، نظریہ تکثیریت کا حامی سمجھ لیتے ہیں، جب تک وہ کچھ اور ثابت نہ ہو۔ اور جب وہ کچھ اور ثابت ہوجائے تو ہمارے ذخیرۂ الفاظ میں اس کے لیے کوئی لفظ ہی موجود نہیں ہیں۔

ہم صرف یہی کہتے ہیں کہ ’وہ حاکم مطلق ہے‘، ’وہ آمریت پسند ہے‘۔ ہمارے اردگرد بس یہی الفاظ گھومتے ہیں۔ جس منفی رجحان کی آپ بات کر رہے ہیں وہ 95 فی صد غلط ہے۔ امریکی اس بات کو نہیں سوچنا چاہتے کہ ہمارے پاس موجود ہر شے کا متبادل موجود ہے۔ لہٰذا آپ جب ’فسطائیت‘ کی جو بھی بات کرتے ہیں امریکی اس کے جواب میں ’نہ‘ ہی کہیں گے، کیوں کہ ہمارے یہاں اس منطق کی کمی ہے جو ہمیں ایک مخصوص دائرے سے باہر سوچنے کی اجازت دیتی ہے۔

Chauncey DeVega: کیا امریکیوں کا یہ ردعمل غیرمعمولی ہے؟

ٹموتھی سینڈر: جی ہاں ایسا ہی ہے۔ ہماری عقلی استعداد دنیا بھر میں تنہائی پسندی کا شکار ہوگئی ہے جہاں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عموماً اس طرح کی جمہوریتیں ناکام ہوجاتی ہیں، جنہیں امریکا پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔ اگر آپ امریکی معاشرے کا تجزیہ کریں تو وہاں ہائی اور لو پوائنٹس موجود ہیں۔ میں آپ کے اس سوال کا گول مول جواب نہیں دینا چاہتا کہ ٹرمپ فاشسٹ ہیں یا نہیں۔ جہاں تک میں دیکھتا ہوں تو یقیناً ان کے کچھ خیالات فسطائیت پسند ہیں۔ روشن خیالی اور اداروں کو برباد کرنا بھی فسطائیت ہے۔

اب چاہے وہ اپنی ان حرکتوں اور باتوں کو فاشزم سمجھیں یا نہیں یہ الگ بات ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حقائق کے بارے میں پریشان نہ ہوں، منطق ، استدلال کے بارے میں پریشان نہ ہوں۔ صوفیانہ یگانگت اور صوفی راہ نما اور عوام کے درمیان براہ راست رابطوں کے بجائے ایسا سوچنا بھی نازی ازم ہے۔ چاہے ہم اسے دیکھیں یا نہیں، چاہے ہم اسے پسند کریں یا نہیں، چاہے ہم اسے بھول جائیں، یہ فسطائیت ہی ہے۔ ٹرمپ کی ریلیوں میں ان کی فسطائیت کی ایک واضح نشانی ان کا بات کرنے کا طریقہ اور ان کی زبان ہے، منہ پھٹ انداز میں تکرار ، دشمنوں کو بیہودہ نام دینا، اور ریلیوں میں سے اپنے حریفوں کو نکال باہر کرنا بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

Chauncey DeVega: ذرائع ابلاغ اور دیگر اس بات کو غلط کیسے سمجھ رہے ہیں؟ وہ ڈونلڈٹرمپ اور اس کی تحریک سے درپیش خطرے کو اتنی کم اہمیت کیوں دے رہے ہیں؟

ٹموتھی سینڈر: امریکا میں بل کلنٹن سے ابھی تک کے معاملات آپ دیکھ لیں۔ ایک اسٹیس کو جماعت ہے ، ایک ’نظام کو برباد‘ کرنے والی جماعت ہے۔ جہاں ڈیمو کریٹک پارٹی ’اسٹیٹس کو‘ جماعت بن گئی ہے اور ری پبلیکن پارٹی ’نظام کو برباد‘ کرنے والی جماعت بن گئی ہے۔ اس طرح کی صورت حال میں تبدیلی کا سوچنا بہت مشکل کام ہے کیوں کہ ایک جماعت اپنے طور پر کچھ چیزوں کے حق میں ہے جو کچھ بہتر ہیں، جب کہ دوسری جماعت کے پاس سب کچھ تباہ کرنے کے بڑے آئیڈیاز ہیں حالاںکہ انہیں خود نہیں پتا کہ عملی طور پر اس کا کیا مطلب ہے۔ دراصل کوئی بھی نہیں جانتا کہ آج کے مسائل سے کس طرح نبزدآزما ہوا جائے، جس میں سب سے بڑا مسئلہ عدم مساوات ہے۔ جب دونوں میں سے کسی بھی جماعت میں تخلیقی صلاحیت نہ ہو تو پھر دانش وروں کے لیے اپنے تصوارات کو عملی شکل میں ڈھالنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

Chauncey DeVega: تمام تر اسکینڈلز، ناکامیوں اور نا اہلی کے باوجودٹرمپ سے باز پُرس کیوں نہیں کی گئی؟

ٹموتھی سینڈر: ٹرمپ بنیادی طور پر ٹیلی ویژن کی شخصیت ہیں۔ ایک اسکینڈل اس وقت تک رد عمل کا تقاضا نہیں کرتا جب تک کہ وہ بہت بڑا نہ ہو۔ اس میں لوگوں کی دل چسپی اس وقت ہی بڑھے گی جب تک یہ اسکینڈل بہت بڑا نہ ہو، کیوں کہ ٹیلی ویژن سیریل بھی اسی منطق پر کام کرتی ہے۔

لیکن وہ پہلے تقریباً ایسی واہیات چیزیں کرچکے ہیں کہ اب اور کیا کریں گے؟ میرے خیال میں اس کے دوسرے پہلو پر توجہ دینا زیادہ ضروری ہے، درحقیقت عوام غصے میں ہے۔ لیکن اگر سیاسی منطق کی بنیاد پر ان اسکینڈلز کو دیکھا جائے تو اس پر تحقیق ہونی چاہیے۔ اور اس کے آفیشل حقائق سامنے آنے چاہیے۔

Chauncey DeVega: اپنی کتاب میں آپ نے اس تصور پر تبادلہ خیال کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ہٹلر کی Reichstag (دو سری اور تیسری رائخ کے تحت جرمنی کی مجلس مقننہ) کے جیسے نظریے کے تحت اپنے اقتدار کو طول دیں گے اور اسٹیٹ آف ایمرجینسی نافذ کرکے حکومت پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیں گے۔ آپ ایسا کیوں سمجھتے ہیں؟

ٹموتھی سینڈر: مجھے اس بات کو دو نکات میں بیان کرنے دیں۔ پہلا یہ ہے کہ میرے خیال میں ایسا ہونا ناگزیر ہے کہ وہ ایسا کریں گے۔ اس کی جو وجہ میں سمجھتا ہو وہ یہ ہے کہ مقبولیت حاصل کرنے کا یہ مروجہ طریقہ ان کے لیے قابل عمل نہیں ہے۔ اس ملک میں مقبول ہونے کے لیے مروجہ یا جائز طریقے میں کچھ پالیسیاں ہیں، آپ کو اپنی مقبولیت کی ریٹنگ میں اضافہ اور کچھ انتخابات میں جیتنا پڑتا ہے۔

میں نہیں سمجھتا کہ ان روایتی طریقوں کے ساتھ 2018 ری پبلیکنز کے لیے بہت اچھا ہوگا۔ صر ف اس لیے نہیں کہ صدر تاریخ کا سب سے غیرمقبول صدر ہے، بل کہ اس لیے کہ نہ تو وائٹ ہاؤ س اور نہ ہی کانگریس کے پاس ایسی پالیسیاں ہیں جنہیں عوام کی اکثریت پسند کرتی ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں (عوام کو) سیاست میں ایک نئی ردھم کے تصور سے گمراہ کیا جاسکتا ہے، جو کہ مقبول پالیسیوں اور انتخابی مراحل پر منحصر نہیں ہیں۔ چاہے یہ کام کرے یا نہیں کرے لیکن بہر صورت جب اس ملک کے ساتھ کچھ بہت ہی خوف ناک ہوگا، ہم اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ جلد یا بدیر مستقبل میں ہماری شہری آزادی بہت کم ہونے جا رہی ہے۔

مجھے ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ اس بات کی کوشش کرے گی، لیکن ان کا مقصد پورا نہیں ہوپائے گا، کیوں کہ امریکی عوام بہت عظیم ہے اور ہمارے پاس تیاری کے لیے تھوڑا بہت وقت بھی ہے۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ حکومت کی بہت سی ایجنسیاں اور لوگ اس بات سے آگاہ ہیں اور اسے لازماً زیادہ عرصے تک نہیں چلنے دیں گے۔

Chauncey DeVega: ایک عام شہری کیا کرسکتا ہے؟ آپ کسی کال آف ایکشن کے خواہش مند ہیں؟

ٹموتھی سینڈر: میر ی نئی کتاب ’آن ٹائرینی: ٹوئنٹی لیسنز فرام دی ٹوئنتھ سینچری‘ کا پورا مقصد یہی ہے کہ ہمارے پاس دانش مند فیصلوں کی ایک صدی سے طویل تاریخ ہے اور ہم بہت ہی ہوشیار لوگ ہیں جو اپنے طور پر پہلے بھی اس طرح کی صورت حال کا مقابلہ کرچکے ہیں۔ لیکن اب ہمیں زیادہ عقل مندی اور ہوشیاری کی ضرورت ہے۔

میری کتاب میں طرز حکومت میں تبدیلی کو ایک کمان کی طرح شروع سے آخر تک بتایا گیا ہے۔ اور اس میں آسان سے مشکل چیزیں فراہم کی گئی ہیں، جو لوگ اپنی روزمرہ کی زندگی میں کر سکتے ہیں۔ یہاں اس بات کا ادراک کرنا بھی بہت ضروری ہے کہ وہ کون سی چیز ہے جو آپ کے کسی فعل میں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ یہ ایک طنز ہے لیکن جب ایک استبدانہ طرز حکومت میں تبدیلی کی صورت حال ہو تو پھر جمہوریت سے زیادہ اہمیت انفرادی عمل کی ہوتی ہے۔ استبدانہ طرز حکومت میں تبدیلی کی شروعات میں انسان کے پاس ایک خصوصی طاقت ہوتی ہے، کیوں کہ آمریت پسند حکومت اس نوعیت کی اجازت پر منحصر ہوتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر آپ اس لمحے باخبر ہیں تو آپ اپنی رضامندی ظاہر نہ کرتے ہوئے اس کی راہ میں مزاحم ہونے کا طریقہ تلاش کر سکتے ہیں۔ اور اگر لوگوں کی اکثریت ایسا کرے گی تو اس سے تبدیلی آئے گی، لیکن اگر یہ سب شروعات میں کیا جائے تو۔

Chauncey DeVega: وہ کیا مشکلات اور چیلنجز ہیں جن کا سامنا عوام کرسکتے ہیں؟

ٹموتھی سینڈر: میری درج بالا کتاب کا آخری باب یہی ہے کہ آپ کس طرح زیادہ جرأت مند بن سکتے ہیں۔ کیا حقیقت میںآپ آزادی کی فکر کرتے ہیں؟ اور کیا آپ خطرات مول لے سکتے ہیں؟ کیا لوگ درحقیقت آزادی کے بارے میں فکرمند ہیں؟ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم ابتدا میں چھوٹے خطرات کا سامنا کرتے ہیں تو یہ ہمارے لیے زیادہ اہم تو نہیں ہوں گے لیکن ہمیں مستقبل میں بڑے خطرات سے تحفظ فراہم کریں گے۔ ہم ابھی تک اس مرحلے پر ہیں جہاں احتجاج غیرقانونی نہیں ہے۔ ہم ابھی تک اس مقام پر ہیں جہاں احتجاج ہلاکت خیز نہیں ہے۔ کسی تحریک کی شروعات کے لیے یہ دو اہم باتیں ہیں۔ اگر آپ ایک بار ایسی دنیا میں داخل ہوگئے جہاں احتجاج غیرقانونی ہوجائے تو پھر ان سب کاموں کے لیے خطرات زیادہ اور متوقع نتائج کم سے کم ہوجائیں گے۔

Chauncey DeVega: امریکی جمہوریت کے پاس اس زہر کے مہلک ہونے اور واپسی کے راستے مسدود ہونے تک کے لیے کتنا وقت باقی بچا ہے؟

ٹموتھی سینڈر: آپ کو یہ ماننا پڑے گا کہ اس کا ایک وقت مقرر ہے۔ یہ بات کوئی نہیں جانتا کہ ٹرمپ کے ساتھ یہ مخصوص طرزحکومت تبدیل ہونے میں کتنا وقت لگے گا، لیکن ایک گھڑی ہے جو اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ابھی تین سال باقی ہیں، لیکن قیاس ہے کہ یہ سب کچھ ایک سال میں ہوسکتا ہے۔ جنوری 2018 میں غالباً ہمارے پاس صحیح آئیڈیا ہوگا کہ معاملات کس سمت جا رہے ہیں۔ اور اس عرصے میں یہ ان سے زیادہ ہم پر منحصر ہے۔ ایک بار آپ تباہی کی ابتدا پر پہنچ گئے تو پھر یہ معاملہ ہم سے زیادہ ان کی صوابدید پر ہوگا اور معاملات مزید بد سے بدتر ہوجائیں گے۔

Chauncey DeVega: اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ اور ان کی فورسز متحرک ہو چکی ہیں کیوں کہ ہم امریکی عوام اس کے خلاف دوبارہ اٹھ کھڑے ہیں؟

ٹموتھی سینڈر: جہاں تک بات ہے امریکی عوام کے اٹھ کھڑے ہونے کی تو میں یہی کہوں گا کہ ہر روز آپ کچھ نہیں کرتے۔ اس سے نہیں لگتا کہ آپ آگے بھی کچھ کریں گے۔ لہذا آپ کو ابھی اسی وقت سے شروعات کرنی ہوں گی۔

میری کتاب میں ایسی چیزیں ہی تجویز کی گئیںجن پر ہر فرد بہ آسانی عمل کرسکتا ہے۔ ہمارے پاس دوسری روایات سے ملنے والے اچھے تصورات کی بھرمار ہے، لیکن بنیادی بات یہی ہے کہ آپ کو تبدیلی کے لیے اپنا روزمرہ کا طرز عمل تبدیل کرنا پڑے گا۔ آپ پیشگی اس بات کو نہ مانیں، کیوں کہ پہلے آپ کو اپنی ذات کو تبدیلی کے لیے تیار کرنا ہے۔ اگر آپ ایسا کرسکتے ہیں تو پھر یہ دوسروں کے لیے سبق ہے۔ پہلے سے موجود سیاسی اور سماجی اداروں کی تائید کریں، حق کا ساتھ دیں، اگر آپ پہلی بات پر عمل کریں تو پھر اگلے معاملات نسبتاً آسان ہوجائیں گے۔ اور یاد رکھیں کہ یہ وہ لمحہ ہے جس میں آپ نے اس طرز عمل کا مظاہرہ نہیں کرنا جیسا اکتوبر 2016 میں کیا تھا۔ آپ کو اپنی روش خود اپنانی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔