افسانے کا حسن بیانیہ نہیں، بیانیے کی تہہ داری ہے!

اقبال خورشید / اشرف میمن  بدھ 23 جنوری 2013
نورالہدیٰ سیدپانچ دہائیوں سے میدان افسانہ نگاری میں مصروف ہیں۔ فوٹو : فائل

نورالہدیٰ سیدپانچ دہائیوں سے میدان افسانہ نگاری میں مصروف ہیں۔ فوٹو : فائل

 تہہ داری اُن کے افسانوں کا خاصہ، اُن کا حسن، اُن کی انفرادیت ہے۔ تاریخ ہو یا فلسفہ، دونوں ہی مضامین پر خوب گرفت ہے۔

تاریخ عالم میں رونما ہونے والے واقعات، اُن میں نہاں ربط اور اُن کے اثرات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ گُتھیاں سلجھانے کے ہنر سے واقف ہیں۔ اور کمال یہ ہے کہ اُن کا علم، مطالعہ اور مشاہدہ اِس سہولت سے تخلیقات کا حصہ بنتا ہے کہ کسی نوع کا بھاری پن محسوس نہیں ہوتا، کہانی کی روانی اور نزاکت قائم رہتی ہے، قاری خود کو الفاظ کے دریا میں بہتا محسوس کرتا ہے۔ اِس ضمن میں ’’دکھ ساگر‘‘، ’’گلوبل سوسائٹی‘‘، ’’تاخیر‘‘، ’’پرواز‘‘، ’’اَن کہی‘‘ اور ’’قیدی لوگ‘‘ کی مثال دی جاسکتی ہے کہ اِن افسانوں میں اُن کا فن اپنے اوج پر نظر آتا ہے!

یہ نورالہدیٰ سید کی کہانی ہے، جن کا تخلیقی سفر پانچ دہائیوں پر محیط ہے، مگر اِس طویل عرصے میں فقط دو ہی مجموعے ’’موسم موسم‘‘ اور ’’تماشا‘‘ منصۂ شہود پر آ سکے کہ زندگی نشیب و فراز کا شکار رہی، ایک سے زاید بار ہجرت کا کرب سہا، نئے ماحول سے ہم آہنگ ہونے کی اذیت سے گزرے۔ اِس موضوع پر بات کرتے ہوئے چودہ افسانوں پر مشتمل ایک گُم شدہ مجموعے ’’کاغذ کا گھر‘‘ کا بھی ذکر آتا ہے۔ سید صاحب کے اِس مجموعے کا قصّہ کچھ یوں ہے کہ ڈھاکا میں قیام کے زمانے میں اِس کا مسودہ تیار ہوا۔

فلیپ معروف افسانہ نگار، شاہد کامرانی نے لکھا۔ صہبا لکھنوی کے پرچے ’’افکار‘‘ میں اِس کی اشاعت کا اعلان بھی کردیا گیا، مگر پھر فسادات پھوٹ پڑے۔ شرپسندوں نے روزنامہ ’’اتفاق‘‘ کا دفتر نذر آتش کر دیا ، اُس کے پہلو ہی میں وہ پریس تھا، جہاں مسودہ موجود تھا۔ ’’کاغذ کا گھر‘‘ جل کر خاکستر ہوا، یا اُس کے اوراق شعلوں سے محفوظ رہے، اِس بابت تو وہ نہیں جانتے، مگر اتنا ضرور علم ہے کہ حالات کے بگاڑ نے اُنھیں اپنے اولین مجموعے سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محروم کر دیا۔ سقوط ڈھاکا کے بعد مالی مسائل نے گھیرے رکھا، جس کی وجہ سے مجموعے کی اشاعت کا معاملہ ٹلتا گیا۔

بالآخر 90ء میں، جب لکھتے ہوئے تین دہائیوں سے زاید کا عرصہ بیت چکا تھا، سترہ افسانوں پر مشتمل ’’موسم موسم‘‘ شایع ہوا، جس کا کریڈیٹ وہ شاہد کامرانی کو دیتے ہیں، جنھوں نے اُن کے بکھرے ہوئے افسانے اکٹھے کیے۔ کتاب میں اُن کے فن سے متعلق محمود واجد، احمد ہمیش اور پروفیسر ریاض صدیقی کے مضامین شامل تھے۔ قارئین اور ناقدین دونوں ہی نے اِس کاوش کو سراہا۔ گذشتہ برس منظرعام پر آنے والا مجموعہ ’’تماشا‘‘ چودہ افسانوں پر مشتمل تھا، جس کا دیباچہ عشرت رومانی اور ڈاکٹر جمال نقوی نے لکھا۔ اِسے بھی ادبی حلقوں میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔

مستقبل کے منصوبے زیر بحث آئے، تو بتانے لگے کہ آج کل وہ ایک ناول ’’سو بکھرائو‘‘ پر کام کر رہے ہیں، جس کے چند باب مکمل ہوچکے ہیں۔ ’’کھیل‘‘ کے نام سے اُن کے افسانوں کے تیسرے مجموعے کی اشاعت جلد متوقع ہے۔ اِسی طرح ایک کتاب ’’یادداشت‘‘ زیر تکمیل ہے، جو اُن کی زندگی سے جُڑی ادبی شخصیات اور واقعات پر مشتمل ہے۔ اِس موضوع پر بات کرتے ہوئے “The Other Sun” نامی کتاب کا بھی ذکر آیا، جو اُن کے منتخب افسانوں کے انگریزی تراجم پر مشتمل ہوگی۔ کہتے ہیں،’’اگر زندگی رہی، تو خواہش یہی ہے کہ تمام منصوبے وقت پر مکمل ہوجائیں۔‘‘

اوراق زیست کے مطابق حضرت مخدوم شرف الدین یحییٰ منیریؒ کی نسبت سے معروف بہارشریف (ضلع پٹنا) نور الہدیٰ سید کا جائے پیدایش ہے۔ تعلق اُن ہی کے خانوادے سے ہے۔ 14ستمبر 1936 کو اُنھوں نے سید شمس الہدیٰ کے گھر آنکھ کھولی، جن کا آبائی وطن، بہارشریف سے چار کلومیٹر دور واقع اوگاواں کا سرسبز علاقہ تھا۔ وہیں خاندان کی زرعی اراضی تھی، جس سے اچھی یافت ہوجاتی۔ جمالی چک کے علاقے اُن کا ننھیال آباد تھا۔ چار چھوٹی بہنوں کے اکلوتے بھائی، نور الہدیٰ سید کا زیادہ وقت یا تو جمالی چک میں گزرا، یا بہار شریف کے محلے شیرپور میں واقع ذاتی گھر میں۔ یادوں کی پنے پلٹتے ہیں، تو اولاً 42ء کا ذکر آتا ہے، جب دوسری جنگ عظیم چھڑی، اور اُن کے گھر کے سامنے ’’اینٹی ایئر کرافٹ گن‘‘ نصب ہوئی۔

وہ وقت بھی یاد ہے، جب ریاست بہار میں ’’اندولن‘‘ شروع ہوا، جس میں اُن کے بہ قول، مسلمانوں کے کاروبار کو خاصا نقصان پہنچا۔ 46ء کے فسادات کی تلخ یادیں بھی ذہن میں محفوظ ہیں۔ انتخابات بھی خوب یاد ہیں۔ اُس دن کا ذکر خصوصی طور پر کرتے ہیں، جب وہ مسلم لیگ کو ووٹ دینے کی خواہش لیے، ہاتھ میں جھنڈا تھامے پولنگ اسٹیشن کی جانب جارہے تھے کہ مخالفین نے پتھرائو شروع کر دیا۔ ایک پتھر اُن کے سر پر لگا۔ چوٹ اتنی گہری تھی کہ وہ بے ہوش ہوگئے۔ بتاتے ہیں، زخم تو چند روز میں بھر گیا، مگر اُس کا نشان آج بھی ہے۔ جُوں جُوں تقسیم کے دن قریب آتے گئے، علاقے میں کشیدگی بڑھتی گئی۔ ماحول بگڑتا گیا۔ جب فسادات شروع ہوئے، تو خاندان دیہی علاقے سے اٹھ کر شہر منتقل ہوگیا۔

وہاں بیتنے والے دن تلخیوں سے بھرپور تھے کہ گائوں سے رابطہ کٹ چکا تھا، زمینوں سے ہونے والی آمدنی اُن تک نہیں پہنچ پا رہی تھی۔ آخر نوبت فاقوں تک پہنچ گئی۔ اس صورت حال نے اُن کے والد کو تدریس کے پیشے کے لیے تیار کیا۔ تقسیم ہند کے بعد اُنھوں نے بہارشریف سے پٹنا کا رخ کیا۔ یہ کم سن نورالہدیٰ سید کے لیے ہجرت کا پہلا تجربہ تھا۔ وہاں والد نے پٹنا مسلم ہائی اسکول میں ملازمت اختیار کر لی۔ سید صاحب نے بھی اُسی ادارے میں داخلہ لے لیا۔ تقسیم کے بعد پٹنا کے ماحول میں بھی اُنھوں نے کشیدگی محسوس کی، مگر وہاں پڑھے لکھے لوگ آباد تھے، تعصب کم تھا، جس کی وجہ سے کشیدگی نے فساد کی شکل اختیار نہیں کی۔ اِس ضمن میں کہتے ہیں،’’میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر لوگ پڑھے لکھے نہ ہو، معاشرے میں تعلیم نہ ہو، تو انسان انسان کو کھا جاتا ہے۔ پریم چند، احمد ندیم قاسمی اور سہیل عظیم آبادی کے افسانوں میں ہمیں جو گائوں نظر آتا ہے، وہ گائوں میرا دیکھا ہوا ہے، مگر میرا تجربہ اُن کے تجربات سے الگ، اور نسبتاً تلخ ہے۔‘‘

ماضی کھنگالتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اُن کے والد انتہائی شفیق اور ایمان دار انسان تھے۔ ’’وہ بہت اچھے شاعر تھے، مگر 46ء کے فسادات سے دل برداشتہ ہو کر وہ شاعری سے کنارہ کش ہوگئے، بعد میں خیرخواہوں کے کہنے پر یہ سلسلہ پھر شروع کیا۔‘‘ کھیلوں میں اُنھوں نے فٹ بال اور بیڈمنٹن کا تجربہ کیا۔ طبیعت میں خاصی جھجک تھی۔ شمار شرمیلے بچوں میں ہوتا تھا، البتہ پڑھائی میں بہت اچھے تھے۔ پٹنا مسلم ہائی اسکول سے 54ء میں میٹرک کرنے کے بعد بہار یونیورسٹی کا رخ کیا۔ آرٹس سے انٹر کا مرحلہ طے کیا۔ ان ہی دنوں بے قراری نے سیاحت کی جانب دھکیلا۔ ہندوستان کے مختلف شہر دیکھے۔

مگدھ یونیورسٹی سے 60ء میں اُنھوں نے گریجویشن کی سند حاصل کی۔ اُسی عرصے میں ایل ایل بی کیا۔ ملازمتوں کا سلسلہ بھی اُسی زمانے میں شروع ہوا۔ چند برس حکومتِ بہار کے ملازم رہے۔ پھر بے قراری ڈھاکا، مشرقی پاکستان لے گئی۔ یہ ہجرت کا دوسرا تجربہ تھا۔ وہاں وہ ایک پرائیویٹ ادارے میں پرچیز آفیسر ہوگئے۔ پھر فوڈز ڈیپارٹمنٹ سے جُڑ گئے۔ مشرقی پاکستان کی فضائوں میں بھی کشیدگی کا بسیرا تھا، جس نے جلد فسادات کی شکل اختیار کر لی۔ مارچ 71ء میں انارکی پھیل گئی۔ وہ پچیس روز اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھر میں مقید رہے۔ وہ انتہائی مشکل دن تھے۔ جون میں جب حالات کچھ بہتر ہوئے، وہ کراچی آگئے۔ یہ تیسری ہجرت تھی۔

یوں تو ہجرت کے ہر تجربے نے تلخ یادوں کو جنم دیا، مگر 46ء کے فسادات کا معاملہ الگ ہے کہ اُس نے پہلی بار ذہن پر کرب کی لکیریں کھنچیں ، غم سے آشنا کیا۔

کراچی آنے کے بعد وہ فوڈز ڈیپارٹمنٹ کا حصہ بن گئے۔ چند روز بعد بیوی بچے بھی یہاں آگئے۔ کوئنز روڈ پر اُنھوں نے ڈیرا ڈالا۔ آنے والے دس برس وہیں بیتے۔ بتاتے ہیں، سقوط ڈھاکا کے بعد اُن کا دفتر سیل ہوگیا تھا۔ ملازمت چلی گئی، تو معاشی مسائل نے گھیر لیا۔ بے روزگاری کے کرب ناک زمانے میں نمک اور روٹی سے پیٹ بھرا۔ حکومتِ پاکستان کے ادارے این ڈی وی پی کی جانب سے تعلیم یافتہ بے روزگاروں کے لیے وظیفے شروع ہوا، تو گزربسر کا امکان نظر آنے لگا۔ این ڈی وی پی کے ایک پروگرام کے تحت بہ طور انسٹرکٹر تربیت حاصل کرنے کے بعد وہ 73ء میں اُس سے منسلک ہوگئے۔ اسلام آباد میں چند ماہ بیتے۔ وہاں جی نہیں لگا، تو استعفیٰ دے کر کراچی لوٹ آئے۔ امتحانی مرحلے سے گزر کر منسٹری آف فوڈ اینڈ ایگلری کلچر، فیڈرل گورنمنٹ کا حصہ بن گئے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کے مراحل طے کرتے گئے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے تک پہنچے۔ 2002 میں ریٹائر ہوگئے۔

نورالہدیٰ سید کے مطالعاتی سفر کا آغاز والد کی معرفت ہوا، جنھوں نے گلستان و بوستان، اخلاق جلالی، چہار مقالہ اور توبۃ النصوح جیسی کتابوں سے آشنا کیا۔ انگریزی زبان سِکھائی۔ فکشن سے دوستی کا آغاز پریم چند سے ہوا، جن سے تعارف نصاب کے وسیلے ہوا تھا۔ پھر دیگر ادیبوں کی جانب متوجہ ہوئے۔ احمد علی، عزیز احمد، ممتاز شیریں، قرۃ العین حیدر اور دیگر کو پڑھا۔ بیدی کا مطالعہ حیران کُن تجربہ رہا، جس کے افسانوں کی تہہ داری اور اسلوب نے بہت متاثر کیا۔ اگلے چند برس مطالعے میں صَرف ہوئے۔ تجزیاتی اور تنقیدی فکر پیدا ہوئی۔ غیرملکی ادیبوں کو بھی جم کر پڑھا۔ منٹو، چیخوف اور سمرسیٹ ماہم کی تکنیک نے تو اُن کے گرد حصار سا بنا لیا تھا۔ اب ادیبوں کے حلقے میں اٹھنے بیٹھنے لگے۔ کئی قدآور شخصیات سے ملاقات رہی۔ مطالعے ہی نے لکھنے کی جوت جگائی۔ قلم تھام لیا۔ لکھا تو جم کر، لیکن چھپنے چھپانے کا سلسلہ ذرا تاخیر سے شروع ہوا کہ جراید میں تخلیقات بھیجتے ہوئے وہ خاصی جھجک محسوس کرتے تھے۔

’’چاند اور گرہن‘‘ اُن کا پہلا مطبوعہ افسانہ تھا، جس کی بُنت میں نفسیاتی عناصر غالب تھے۔ یہ افسانہ 59ء میں ’’پرتو، پٹنا‘‘ میں شایع ہوا۔ اُس عرصے میں لکھی چند کہانیاں مختلف جراید کا حصہ ضرور بنیں، البتہ ’’بازگشت‘‘ حقیقی معنوں میں اُن کا دوسرا افسانہ ٹھہرا، جو 64ء میں ’’شاعر، بمبئی‘‘ کا حصہ بنا۔ آنے والے برسوں میں وہ ’’شب خون، الہ آباد‘‘، ’’افکار، کراچی‘‘، ’’کتاب، ڈھاکا‘‘، ’’دائرہ، ڈھاکا‘‘، ’’ادب لطیف، لاہور‘‘ اور دیگر پرچوں میں باقاعدگی سے چھپتے رہیں۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

ادبی سرگرمیوں کا آغاز تو مطالعے کے ساتھ ہی ہوگیا تھا۔ 56-57 میں اِس عمل میں تیزی آگئی۔ دوستوں کی معیت میں اُنھوں نے ’’فروغ ادب‘‘ نامی ایک ادبی تنظیم کی بنیاد رکھی، جس کی نشستیں اُن ہی کے گھر ہوا کرتی تھیں۔ معروف افسانہ نگار، ڈاکٹر اختر اورینوی کی تنظیم ’’کہکشاں ادب‘‘ کی نشستوں میں بھی شرکت کرتے رہے۔ پٹنا کے مانند ڈھاکا میں بھی ادبی محاذ پر فعال رہے۔ وہاں شاہد کامرانی، شہزاد منظر، علی حیدر ملک اور دیگر سے ملاقات ہوئی۔ کراچی آنے کے بعد 73ء میں شاہد کامرانی کے ساتھ ’’انجمن جدید مصنفیں‘‘ کی بنیاد رکھی، جس نے جلد ہی ادبی حلقوں میں شناخت حاصل کر لی۔ یہ تنظیم برسوں فعال رہی۔ 82ء تا 98ء اِس کی ہفتہ وار نشستیں اُن ہی کے گھر ہوتی رہیں، جن میں تمام علمی و ادبی شخصیات باقاعدگی سے شرکت کیا کرتیں۔ اِس تنظیم کے پلیٹ فورم سے کئی نئے لکھنے والے سامنے آئے۔ سچ تو یہ ہے کہ ’’انجمن جدید مصنفیں‘‘ کے نائب صدر کی حیثیت سے سید صاحب نے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ 98ء کے بعد وقت کے بدلائو اور ترجیحات کی تبدیلی نے اِسے غیرفعال کردیا۔ 2002 میں اُنھوں نے اِسے دوبارہ بحال کیا۔ ذمے داریاں اوروں کو سونپ دیں، مگر یہ سلسلہ چل نہیں سکا۔

ادبی نظریات زیر بحث آئے، تو کہنے لگے،’’عام خیال یہی ہے کہ سید صاحب چُوں کہ ’انجمن جدید مصنفیں‘ چلاتے رہے، تو وہ ضرور جدید فکر کے آدمی ہوں گے، مگر میں روایتی معنوں میں جدیدی نہیں ہوں۔ میرے نزدیک ماڈرن ازم سے مراد یہ ہے کہ ہم اپنے عصر، اپنے زمانے کی صورت حال کو مؤثر انداز، اور متاثرکن اسلوب میں بیان کریں۔‘‘ وہ تہہ داری کو فکشن کی بنیادی شرط قرار دیتے ہیں۔ ’’افسانے کا حسن بیانیہ نہیں، بلکہ بیانیے کی تہہ داری ہے۔ اگر بیانیہ سپاٹ ہے، تو بہتر ہے کہ قاری اخبار پڑھ لے۔‘‘ تہہ داری کے موضوع پر بات کرتے ہوئے وہ رتن سنگھ، الیاس احمد گدی، رشید امجد، احمد ہمیش، سلام بن رزاق اور مظہر الاسلام کی تخلیقات کا حوالہ دیتے ہیں۔ استعارے کی اہمیت کے قائل ہیں، البتہ اُن کے نزدیک تجریدیت کا تجربہ اردو فکشن میں ناکام رہا۔ ’’علامت نگار بھی خود کو منوانے میں کام یاب نہیں رہے۔ میرے نزدیک کامل حقیقت نگاری یا کامل علامت نگاری ممکن نہیں۔ اور اِسی وجہ سے اِنھیں افسانے کی مکمل تعریف قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ‘‘

65ء میں شادی ہوئی۔ خوش گوار ازدواجی زندگی گزاری۔ اُن کی زوجہ، عقیلہ خاتون والدین کا انتخاب تھیں۔ 2005 میں بیگم کے انتقال کا سانحہ پیش آیا، وہ ایک کرب ناک لمحہ تھا۔ خدا نے سید صاحب کو دو بیٹوں، سات بیٹیوں سے نوازا۔ سب کی شادی ہوچکی ہے۔ چُوں کہ بیٹے الگ رہتے ہیں، اِس لیے اب وہ اپنے فلیٹ میں تنہا ہوتے ہیں، جہاں ماضی ساتھ ساتھ چلتا ہے، مگر اُنھیں کسی سے کوئی شکایت نہیں، نہ ہی کسی کو الزام دیتے ہیں۔ تنہائی کے تعلق سے کہتے ہیں،’’زندگی میں دو مواقع ایسے آتے ہیں، جب انسان مکمل طور پر تنہا ہوجاتا ہے۔ ایک وہ وقت، جب وہ جوان ہوتا ہے۔ اُس وقت اپنی تنہائی ختم کرنے کے لیے وہ جوڑی دار تلاش کرتا ہے۔ اِسی طرح بڑھاپے میں بھی انسان تنہا ہوجاتا ہے۔ میں نے اپنے افسانے ’تماشا‘ میں بھی لکھا ہے کہ عورت مر جائے، تو مرد آدھا مر جاتا ہے، مگر آدھے مرے ہوئے کی تعزیت نہیں ہوتی۔‘‘

اُنھیں ہمیشہ خوش لباس شخص کے طور پر شناخت کیا گیا۔ سوٹ اُن کی پہلی ترجیح رہا۔ بیگم کے ہاتھ کے کھانے پسند تھے۔ کہتے ہیں،’’اُنھوں نے میری والدہ ہی سے کھانا پکانا سیکھا تھا!‘‘ گائیکی کے میدان میں لتا کی آواز بھاتی ہے۔ ’’اُن کی خوبی یہ ہے کہ جو لفظ ادا کرتی ہیں، وہ متشکل ہوجاتا ہے۔‘‘ دیوآنند اور مینا کماری کی فنی صلاحیتوں کے معترف ہیں۔ فلموں میں ’’چترلیکھا‘‘ اچھی لگی۔ بیدی پسندیدہ افسانہ نگار ہیں۔ ہم عصروں میں منشایاد اے خیام اور علی حیدر ملک کا نام لیتے ہیں۔ ناولوں میں ’’آگ کا دریا‘‘ اچھا لگا۔ شعرا میں وہ ن م راشد اور تصدق حسین کا ذکر کرتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔