کرپشن کی تحقیقات اور ترقیاتی کام

ظہیر اختر بیدری  پير 15 مئ 2017
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

ملک بھر میں کرپشن کا بول بالا ہے ’’جس طرف آنکھ اٹھائیں تیری تصویر ہے‘‘ والا معاملہ چل رہا ہے، کیا حکمران، کیا اپوزیشن، سب اس مکروہ دھندے میں ملوث نظر آتے ہیں، یہ سلسلہ روئی کی آگ کی طرح اندر ہی اندر پھیل رہا تھا کہ پاناما لیکس نے روئی کی اس آگ کو بھڑکتی ہوئی تیسرے درجے کی آگ میں بدل دیا۔ پاناما لیکس کا مسئلہ سپریم کورٹ میں گیا تو ملک بھر کی نظریں سپریم کورٹ پر لگ گئیں۔ سپریم کورٹ سے اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ چاہنے والوں کو اس وقت سخت مایوسی ہوئی جب سپریم کورٹ کی متعلقہ بینچ نے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیا۔

بدقسمتی یہ ہے کہ اس قسم کے سیاسی مسئلوں کا فیصلہ فریقین اپنی مرضی کے مطابق چاہتے ہیں، جب کہ منصفوں کی یہ مجبوری ہوتی ہے کہ انھیں اپنے فیصلے قانون اور آئین کے مطابق کرنے پڑتے ہیں۔ عدالتوں پر کس قدر دباؤ ہوتا ہے اس کا اندازہ محترم جج صاحبان کے اس ریمارکس سے ہوتا ہے کہ ججوں کو اپنی جان کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ہمارے وزیراعظم بہت سنجیدہ اور دھیمے سروں میں سوچ سمجھ کر بولنے والے انسان ہیں، ان کے مضبوط اعصاب کی داد دینی پڑتی ہے کہ اپوزیشن کے شدید حملوں اور میڈیا کی چنگھاڑتی سرخیوں کے باوجود موصوف نے بڑے ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا اور ہر سوال کا جواب قانون اور آئین کے مطابق دیتے رہے۔

عمران خان کی لٹھ بازی سے مشتعل ہونے کے بجائے ان کے ہر وار، ہر سوال کا جواب ٹھنڈے مزاج اور تحمل سے دیتے رہے اور اپنے دفاع میں ہر وہ قدم اٹھاتے رہے جو حالات حاضرہ میں ضروری سمجھے جاتے تھے۔ لیکن ایسے دور اندیش اور متحمل مزاج وزیراعظم نے اسلام آباد میں پشاور موڑ سے نیو اسلام آباد ایئرپورٹ تک میٹرو بس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے خلاف توقع یہ حیرت انگیز بات کی ہے کہ ’’ملک میں اتنے گھپلے اور کرپشن اسکینڈلز ہیں کہ جن کی تحقیقات ہونی چاہئیں، لیکن اگر ہم تحقیقات کے چکر میں پڑ گئے تو سارا وقت اسی میں لگ جائے گا پھر ترقیاتی کام کون کرے گا۔‘‘بعد میں اس بیان کی وضاحت بھی آ گئی کہ ایسے نہیں کہا گیا تھا۔

بہرحال ہم کرپشن کی بات کر رہے ہیں‘ بیشک سارا ملک کرپشن کی زد میں ہے اور اس سر سے پاؤں تک پھیلی ہوئی کرپشن کی تحقیقات میں وقت بھی بہت لگے گا لیکن احتساب کا عمل ساتھ ساتھ جاری رہنا چاہیے۔

اس حقیقت سے کوئی ذی ہوش انکار نہیں کر سکتا کہ بڑی اور بھاری بھرکم کرپشن بڑے ترقیاتی منصوبوں میں ہی کی جاتی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ کرپشن کا براہ راست اثر عوام کی روزمرہ کی زندگی پر پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر اربوں روپے کی کرپشن ثابت ہو جاتی ہے اور کرپشن کی رقم ریکور کر لی جاتی ہے تو اس رقم سے صرف گندم میں سبسڈی دی جائے تو آٹا 50 روپے کلو کے بجائے 25 روپے کلو مل سکتا ہے اور ایک غریب کے لیے ایک کلو پر 25 روپے کی سبسڈی بہت بڑی سہولت کا باعث بن سکتی ہے۔ ہم نے یونہی ایک مثال دی ہے حالانکہ کرپشن تو کھربوں میں کی جا رہی ہے۔

پاناما لیکس ایک بہت بڑا لیکن الجھا ہوا کیس ہے، اس کیس میں قانون اور انصاف ایک طرف کھڑے نظر آتے ہیں اور رائے عامہ دوسری طرف کھڑی نظر آتی ہے۔ جمہوری ملکوں میں رائے عامہ کا احترام بنیادی حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کیس میں وزیراعظم کی فیملی ملوث ہونے کی وجہ سے اس کیس کی بہت بڑے پیمانے پر تشہیر ہوئی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کیس میں اپوزیشن کے محترمین کے ساتھ لگ بھگ 4 سو دیگر افراد بھی ملوث ہیں، اصولاً وزیر اعظم کا موقف یہ ہونا چاہیے تھا کہ اس کرپشن کیس میں کسی امتیاز کے بغیر سارے ملوث افراد کے خلاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔

اگر وزیراعظم یہ موقف اختیار کرتے تو ہر ذی شعور اس کی حمایت کرتا۔ اصل میں ہمارے ملک میں کرپشن دیمک کی طرح ہماری قومی زندگی کو چاٹ رہی ہے اور دیمک ایک ایسی بلا ہے جو قومی زندگی کی بنیادوں کو چاٹ جاتی ہے جس کا خاتمہ ہر شخص کی اولین ترجیح ہوتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری اپوزیشن کو ایک گولڈن چانس ہاتھ آیا ہے اور اپوزیشن کے زعما اس حوالے سے حکومت پر پل پڑے ہیں۔ترقیاتی کام سر آنکھوں پر، لیکن کرپشن کے خلاف کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ تحقیقاتی ادارے موجود ہیں جو ترقیاتی کاموں میں حائل نہیں ہو سکتے البتہ کرپشن ترقیاتی کاموں میں حائل ہو سکتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔