نسلی امتیاز اور تعصبی پڑوس کئی امراض کی وجہ

ویب ڈیسک  جمعرات 18 مئ 2017
نسلی تعصب بعض افراد پر دماغی تناؤ کی وجہ بنتا ہے جس سے ان کا بلڈ پریشر بلند ہوجاتا ہے، ماہرین، فوٹو؛ فائل

نسلی تعصب بعض افراد پر دماغی تناؤ کی وجہ بنتا ہے جس سے ان کا بلڈ پریشر بلند ہوجاتا ہے، ماہرین، فوٹو؛ فائل

میری لینڈ، امریکا: امریکا میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے ایک سروے کے بعد رائے قائم کی ہے کہ اگر آپ کے پڑوس میں نسلی، لسانی اور رنگ کی بنا پر امتیاز برتنے والے افراد رہتے ہیں تو اس کا اثر آپ کی صحت پر ہوسکتا ہے اور اس سے بلڈ پریشر اور امراضِ قلب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

این آئی ایچ نے انکشاف کیا ہے کہ نسلی بنیاد پرامتیازی سلوک کرنے والے علاقوں میں الگ تھلگ رہنے والے سیاہ فام افراد میں بلڈ پریشر بڑھنے کا رحجان دیکھا گیا ہے اور جیسے ہی وہ تعصب کا حامل علاقہ چھوڑ کر کسی دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں ان میں دل کے امراض اور بلڈ پریشر کا خطرہ بھی کم دیکھا گیا ہے۔

یہ سروے این آئی ایچ کے شعبہ امراضِ قلب کے ڈائریکٹر نے کیا ہے جن کا مؤقف ہے کہ نسلی تعصب بعض افراد پر دماغی تناؤ کی وجہ بنتا ہے جس سے ان کا بلڈ پریشر بلند ہوجاتا ہے جو آگے چل کر امراضِ قلب اور فالج وغیرہ کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔

اس تحقیق کے لیے 2 ہزار سے زائد سیاہ فام افراد کا بلڈ پریشر معلوم کیا گیا اور اس وقت ان کی عمر 18 سے 30 برس تھی تاہم 1985 سے شروع ہونے والے اس سروے میں 25 سال تک سیاہ فام رضاکاروں کا جائزہ لیا جاتا رہا جس سے معلوم ہوا کہ تعصب اور نسلی امتیاز والے علاقوں کے سیاہ فام افراد میں بلڈ پریشر کی زیادتی دیکھی گئی جب کہ وہ اس علاقے سے دور ہوئے تو ان کا بلڈ پریشر معمول پر آنے لگا۔ سیاہ فام افراد جیسے ہی معمول کے علاقوں میں بسنے لگے ان کا بلڈ پریشر بھی ٹھیک ہونے لگا۔ ماہرین نے اسے ایک اہم دریافت قرار دیا ہے۔

دوسری جانب سماجی ماہرین نے کہا ہے کہ ہم اب تک تعصب اور نسل پرستی کے ذہنی اور جسمانی اثرات سے اچھی طرح واقف نہیں ہوئے ہیں لیکن اب ہمیں ایک ایسا معاشرہ بنانا ہوگا جہاں لوگ زبان، رنگ اور نسل کی بنا پر ایک دوسرے سے کوئی تعصب نہ برتیں کیونکہ یہ سماجی رویہ خود کئی امراض کی وجہ بن سکتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔