عوام کے لیے خوش خبری

ڈاکٹر توصیف احمد خان  بدھ 17 مئ 2017
tauceeph@gmail.com

[email protected]

نیوز لیکس کا جھگڑا طے ہوگیا۔ مسلح افواج کے تعلقات عامہ کے ادارے نے وہ ٹوئٹ واپس لے لیا جس میں وزیراعظم ہاؤس کے جاری کردہ اعلامیے کو مسترد کیا گیا تھا۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل غفور نے کہا کہ مسلح افواج جمہوری اداروں کے استحکام کے حق میں ہیں، وزیراعظم فیصلوں کے مجاز ہیں۔

نیوز لیکس کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس اسکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف تادیبی کارروائی ہوچکی، یوں فوج اور جمہوری حکومت میں کوئی تضاد نہیں۔اب  ان سیاست دانوں، اینکر پرسنز اور کالم نگاروں کے جذبات پر اوس پڑگئی جو 2008 سے جمہوری حکومتوں کے خاتمے اور مارشل لاء کے نفاذ کے خواب دیکھ رہے تھے۔ منتخب سیاسی  اور اعلیٰ فوجی قیادت کے درمیان نیوز لیکس کی رپورٹ کے بارے میں اس وقت اتفاق رائے ہوا جب اس خطے کی صورتحال میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور ایک جمہوری حکومت جس کی ریاست کے تمام ستونوں اور ساری وزارتوں پر بالادستی ہو، وہ اس گھمبیر صورتحال میں ملک کو کسی بحران سے بچا سکتی ہے۔

ترکی کے صدر نے گزشتہ ہفتے بھارت کا دورہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو بڑے پیمانے پر توسیع دینے پر اتفاق رائے ہوا۔ سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ ترکی بھی بھارت کے سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کے بارے میں بھارتی حکومت کے موقف کے قریب ترین پہنچ گیا ہے۔ ترکی کے صدر نے اس دورے کے دوران یہ پیشکش کی کہ وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے معاملے پر مصالحت کرانے کے لیے تیار ہیں، مگر بھارتی حکام نے ترکی کے صدر کی اس پیشکش پر سرد مہری کا اظہار کیا، مگر مبصرین نے اس دورے کے بارے میں لکھا کہ ترکی اور بھارت کے تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہورہے ہیں۔ پھر نئی دہلی میں چین کے سفیر لیوزوہوئی نے ایک تھنک ٹینک میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو چین پاکستان اقتصادی راہداری پروجیکٹ (CPEC) میں شامل ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ سی پیک منصوبہ کسی ملک کی خودمختاری کو متاثر نہیں کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ چین کی ون بیلٹ ون روڈ کی پالیسی اس خطے کے لیے ترقی کا راستہ ہے۔ مغرب کے بعض مبصرین یہ غلط تاثر دیتے ہیں کہ چین بھارت کی ترقی کے حق میں نہیں ہے۔ چین بھارت کی ترقی کا خواہاں اور ترقی کے معاملے میں بھارت کی مدد کا خواہش مند ہے۔ چینی سفیر نے اپنی تقریر میں کہا کہ چین پاکستان اور بھارت کے درمیان مصالحت کے حق میں ہے اور چین کو امید ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان پرامن تعلقات قائم ہوں گے۔ چینی سفیر نے اپنی تقریر میں پیشکش کی کہ اگر بھارت سی پیک منصوبے میں شامل ہوجائے تو اس منصوبے کا نام تبدیل ہوسکتا ہے۔

اس سال کے شروع میں کابل سے آنے والی خبر اور ایک تصویر نے تہلکہ مچایا تھا۔ اس خبر کے مطابق چین نے ایران کی بندرگاہ چاہ بہار کو کابل سے ملانے کے لیے کابل تک ریل لائن بچھادی ہے۔ افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک سے ہوتی ہوئی یہ مال گاڑی 10 دن کا سفر کرکے چاہ بہار پہنچے گی۔ چین کے اس منصوبے سے افغانستان کو سمندر تک جانے کا راستہ مل گیا۔ ادھر  پاک ایران سرحد کے قریب ایرانی حدود میں ایرانی سپاہیوں کی ہلاکت پر ایرانی صدر نے تشویش کا اظہار کیا اور ایران کی فوج کے سربراہ جنرل باقری نے جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی۔ یہ خبریں بھی شایع ہوئیں کہ ایران نے ایران سے جاسوسی کا نیٹ ورک چلانے والے بھارتی شہری تک رسائی کے لیے سفارتی استحقاق طلب کرلیا۔

پھر چمن کے قریب افغانستان کی بارڈر پولیس  نے مردم شمار ی کے لیے آنے والے  پاکستانی عملے اور ان کی حفاظت پرمامور ایف سی کے جوانوں  اور سویلین آبادی  پر اندھادھند گولہ باری کی۔ پاک فوج کو جوابی کارروائی کرنی پڑی۔ یوں چمن کے قریب افغانستان کی سرحد کو بند کردیا گیا۔ اب دونوں ممالک سیٹلائٹ سروے پر متفق ہوئے اور سروے شروع مکمل ہوگیا ہے، مگر حالات کشیدہ رہے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں احتجاجی مہم کے بعد بھارت اور پاکستان کے تعلقات کشیدگی کی تمام حدوںکو پہنچ گئے ۔ امریکا اور یورپی ممالک کے مسلسل دباؤ کی بنا پر سرحدی جھڑپوں میں شدت نہیں آئی مگر کنٹرول لائن پر کشیدگی بڑھتی جارہی ہے۔ ہزاروں میل طویل سرحدیں غیر محفوظ ہوگئی ہیں۔ حکومت کو حالات کو معمول پر لانے کے لیے ڈپلومیسی کی سخت ضرورت ہے۔

صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد امریکا کی خارجہ پالیسی میں تبدیلیاں رونما ہونے لگیں اور اگلے چند ماہ کے دوران صدر ٹرمپ اپنی پالیسیوں کے ساتھ مکمل طور پر برسر اقتدار ہوں گے۔ ان کی پالیسیاں پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے خلاف ہیں۔ انھوں نے انتخابی مہم کے دوران ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی اور ایٹمی پالیسی کے بارے میں سخت بیانات دیے تھے، اس مجموعی صورتحال میں ایک جمہوری حکومت کی اہمیت بڑھ گئی۔ اس بدلتی ہوئی صورتحال میں میاں نواز شریف کی حکومت ہی پاکستان کی خارجہ پالیسی کو بہتر بنا کر خوشگوار صورتحال پیدا کرسکتی ہے۔ میاں نواز شریف امریکا، برطانیہ، بھارت، افغانستان، ایران اور سعودی عرب وغیرہ سے دوستی اور خوشگوار تعلقات کے حق میں ہیں۔ میاں نواز شریف اپنی خارجہ پالیسی کے تحت ہی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی دہلی میں حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی تھی۔

یہی وجہ تھی کہ وزیراعظم مودی کابل سے لاہور آئے اور وزیراعظم نواز شریف کی نواسی کی شادی کی تقریب میں شرکت کی۔ مودی کو سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان آنا تھا مگر بھارت میں طاقتور ہندو انتہاپسندوں کے دباؤ اور ملک میں ہونے والے حالات کی بنا پر یہ ممکن نہ ہوسکا۔ کشمیر میں بھارتی فوج کی بہیمانہ کارروائیوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات سنگین ہوگئے۔ اسی طرح ایران اور افغانستان سے تعلقات بھی اس صورتحال میں متاثر ہوئے۔ میاں نواز شریف کا اپنے نمایندے محمود اچکزئی کے ذریعے افغانستان کے صدر اور چیف ایگزیکٹو سے رابطہ کیا، یوں دونوں ممالک کے درمیان غلط پالیسیوں کے تدارک کا یقین دلایا گیا ۔

میاں نواز شریف کا دورہ چین اور 30 ممالک کے اجلاس میں شرکت اور اربوں ڈالر کے معاہدے کامیابی خارجہ پالیسی کی دین ہیں۔ بھارت نواز عناصر یورپ اور امریکا میں پاکستانی فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے ہیں۔ ان عناصر کا بنیادی زور اس بات پر ہوتا ہے کہ پاکستانی فوج سول حکومت پر بالادستی قائم رکھتی ہے۔ یورپ اور امریکا میں مقیم بعض پاکستانی بھی اس مہم کا حصہ بن جاتے ہیں۔

جو صحافی اور اینکر پرسنز جمہوری حکومت کی نفی کرتے ہیں تو وہ اس حقیقت کو فراموش کردیتے ہیں کہ ان کے بیانیے سے گمراہ کن عناصر کو فوج کے خلاف پروپیگنڈا کا موقع ملتا ہے۔ فوج کا جمہوری حکومت پر اعتماد اور وزیراعظم کی آئینی حیثیت کو تسلیم کرنے سے فوج کا امیج بہتر ہوتا ہے اور پاکستانی ریاست کا جمہوری چہرہ دنیا کے سامنے واضح ہوا ہے۔ اب جمہوری حکومت خطے میں ہونے والی تبدیلیوں اور بدلتی ہوئی دنیا کے سامنے ایک بہتر پالیسی کے ساتھ سامنے آئے گی، اس کا فائدہ پاکستانی ریاست کو ہوگا۔ پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی مارچ 1948 میں اسٹاف کالج کوئٹہ کی فوج کے آئینی کردار کے حوالے سے تقریر کے مطابق فوج کا آئینی حکومت کی بالادستی کو قبول کرنا ہر محب وطن کے لیے خوش خبری ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔