شاباش جامعہ کراچی!

کامران سرور  جمعرات 18 مئ 2017
سیشن کی نگرانی کرنے والے ممبران کی رپورٹس کی بنیاد پر جامعہ کراچی کے طلبہ کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں پہلی پوزیشن سے نوازا گیا۔ فوٹو: ایکسپریس

سیشن کی نگرانی کرنے والے ممبران کی رپورٹس کی بنیاد پر جامعہ کراچی کے طلبہ کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں پہلی پوزیشن سے نوازا گیا۔ فوٹو: ایکسپریس

یوں تو ہماری جامعات تعلیمی سرگرمیوں کے بجائے کرپشن اور بدعنوانی کی وجہ سے آئے دن خبروں میں رہتی ہیں اور طلبہ کی بہتری کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن بہت دیر بعد سہی، جامعہ کراچی سے ایک اچھی خبر سننے کو ملی جب حال ہی میں او آئی سی کے پلیٹ فارم سے بین الاقوامی سطح پر جامعہ کراچی کے طلبہ کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کیا گیا اور انہیں تنظیم اسلامک کانفرنس یوتھ فورم برائے مکالمہ و تعاون  کے ذریعے کروائے گئے ایک پروگرام پر پہلی پوزیشن سے نوازا گیا۔

اگر بات کی جائے پاکستان کے تعلیمی نظام کی تو اِس میں ہمیں صرف خامیاں اور کوتاہیاں ہی نظر آتی ہیں لیکن اِس کے باوجود بھی ملکی جامعات سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کے کارناموں کی ایک لمبی فہرست پائی جاتی ہے، جنہوں نے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کا نام روشن کیا مگر یہ سب ماضی کا قصہ بن چکے، اب تو شازو نادر ہی کوئی اچھی خبر سننے کو ملتی ہے۔

یہاں میں جامعہ کراچی کا ذکر کرنا نہیں بھولوں گا جو نہ صرف پاکستان بلکہ ایشیا بھر میں صف اول کی جامعات میں شمار ہوتی تھی اور اِس جامعہ نے ڈاکٹر عشرت حسین، شفی نقی جامعی، ثانیہ سعید، وحید مراد، حسینہ معین، پروفیسر پیرزادہ قاسم اور عطاءالرحمان سمیت کئی نامور شخصیات کو اونچا مقام دیا، جنہوں نے آگے چل کر ملک کا نام روشن کیا تاہم کچھ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ملکی بدنامی کا باعث بھی بنے۔ لیکن آج کل ہمیں جامعہ کراچی سے متعلق صرف رشوت خوری، نا انصانی، سرقہ بازی سمیت بری خبریں ہی سننے کو ملتی ہیں، ایسے میں جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے طلبہ کی قائدانہ صلاحیتوں کا بین الاقوامی سطح پر اعتراف کرنا قابلِ ستائش ہے۔

ویسے تو ریٹنگ کے چکر میں اپنی جامعات کی برائیاں بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میں ہمارے میڈیا کا کوئی ثانی نہیں البتہ جہاں جب کوئی اچھائی کی طرف پیش رفت ہو تو میڈیا اِس سے لاتعلقی کا اظہار کردیتا ہے، تاہم میں تو ایکسپریس کے پلیٹ فارم سے اِس قابل تعریف اقدام کو لوگوں تک پہنچانا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں تاکہ وہ لوگ جو ہمارے تعلیمی نظام سے مایوس ہوکر اپنے بچوں کو جامعات میں نہیں بھیجتے اور بہت سے مخالفین اِس بات کی آس لگائے بیٹھے ہیں کہ کب ملک کی تمام جامعات کو تالے لگ جائیں اور جہالت کا بازار مزید گرم ہو، مگر میں انہیں کہنا چاہوں گا۔

’’ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز سے ساقی‘‘

او آئی سی نے تنظیم اسلامک کانفرنس یوتھ فورم برائے مکالمہ و تعاون  کے ذریعے رکن مسلم ممالک کی بڑی جامعات میں نوجوانوں کے لئے ایک پروگرام کا آغاز کیا ہے، جسے ’ماڈل آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اِس پروگرام کا اصل مقصد ان مسلم ممالک میں سفارت کاری کی جانب رجحان رکھنے والے نوجوان طلبہ کی مہارتوں کو اجاگر کرنا ہے تاکہ وہ مستقبل میں او آئی سی کے پلیٹ فارم سے نہ صرف ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے وطن عزیز کا نام روشن کریں بلکہ اِس کے ذریعے مسلم اُمہ کے مسائل بھی اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے ذریعے حل کرسکیں۔

او آئی سی سے الحاق شدہ اِس پرگروام میں ترکی، پاکستان، انڈونیشیا، فلسطین، سعودی عرب، اردن، آزربائیجان،  بنگلادیش، لبنان سمیت مختلف اسلامی ممالک کی جامعات میں ’ماڈل آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن‘ کے نام سے 20 سے زائد کلبز بنائے گئے ہیں۔ جب کہ پاکستان میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سمیت 3 جامعات کو نمائندگی کا موقع دیا گیا جن میں ایک نام جامعہ کراچی کا بھی تھا اور اِس پروگرام کے تحت جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات عامہ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی اور شعبہ کے چیئر پرسن کی زیرنگرانی یہ پرگروام منعقد کرائے گئے۔

ان پروگرامز میں چیئر پرسن سمیت دیگر پروفیسرز نے بھی طلبہ کی رہنمائی کی بلکہ او آئی سی کے ممبران نے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی سینئر طالبات کو موقع فراہم کرتے ہوئے رطابہ طارق کو ملکی کوآرڈینٹر اور حاجرہ محمود کو کلب کا صدر منتخب کیا، جس کے بعد انہوں نے اپنے شعبے کے پروفیسرز کے ساتھ مل کر سینئز اور جونیئرز طلبہ کے انٹریوز لیے اور ایک ایسی ٹیم منتخب کی جو نہ صرف جامعہ کراچی بلکہ پاکستان کے لیے بھی فخر کا باعث بنی۔

اِس پروگرام کے تحت 10 تعلیمی سیشن کروائے گئے، جس میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے نامور پروفیسرز نے مختلف موضوعات پر لیکچرز دیئے اور پھر اِن میں سے ہی طلبہ نے سیشن کے موضوع منتخب کئے، بعد میں جس پر تمام طلبہ کو ہر ملک کی نمائندگی دی جاتی اور پھر وہ اپنے ملک کا نقطہِ نظر پیش کرتے، آخر میں ایک قرارداد پیش کی جاتی جس کی روشنی میں تمام مسائل کے حل پیش کیے جاتے۔

سیشن میں طلبہ نے اسلامی ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے چیدہ چیدہ نکات پیش کیے اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے مسلم اُمہ کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی۔ تمام ممالک کے کلبز میں او آئی سی یوتھ کے ڈائریکٹر جنرل اور ملکی کوآرڈینٹر، تنظیم اسلامک کانفرنس یوتھ فورم برائے مکالمہ و تعاون کے پروجیکٹ اسسٹنٹ سمیت دیگر اہم افراد نے اِن سیشنز کی نگرانی کی اور ملکی کوآرڈینٹرز نے اِن کلب کی ایک حتمی رپورٹ بنا کر پیش کی۔

اِس پروگرام کے اختتام پر آذربائیجان میں ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں اِن سیشن کی نگرانی کرنے والے ممبران کی رپورٹس کی بنیاد پر جامعہ کراچی کے طلبہ کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں پہلی پوزیشن سے نوازا گیا، جب کہ جامعہ کراچی کی جانب سے پاکستان کی نمائندگی کرنے والے رطابہ طارق نے یہ ایوارڈ وصول کیا۔ اِس پرگروام میں شریک تمام کلبوں کی ایک ملکی کانفرنس بھی ستمبر میں پاکستان میں منعقد کی جائے گی، جس میں یہ تمام طلبہ شریک ہوکر اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو دنیا بھر میں اجاگر کریں گے اور یوں انہیں ایک پلیٹ فارم میسر ہوگا جس کے ذریعے وہ آگے چل کر آو آئی سی میں اپنے ملک کی نمائندگی کرسکیں گے۔

آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا گو کہ ہماری منزل ابھی بہت دور ہے، لیکن مجھے امید ہے کہ جہالت کا یہ اندھیرا ایک دن ضرور ختم ہوگا اور یہی نوجوان تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے ملک وقوم کا نام روشن کریں گے کیوں کہ تعلیم ہی واحد راستہ ہے جو ہمیں ایک قوم بناسکتی ہے۔

’’ دل بدل جائیں گے، تعلیم بدل جانے سے‘‘

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا لکھاری کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کےساتھ  blog@express.com.pk  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس

کامران سرور

کامران سرور

بلاگر جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے ماسٹر کررہے ہیں اور اِس وقت ایکسپریس نیوز میں بطور سب ایڈیٹر اپنی ذمہ داری سرانجام دے رہے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔