فیدل کاسترو کی سختیوں سے بچنے کے لیے ایڈز کو گلے لگانے والے کیوبن معاشرے کے باغی

ندیم سبحان میو  جمعرات 18 مئ 2017
لاس فرکس خود کو کیوبن معاشرے کے مرکزی دھارے سے ہم آہنگ کرنے سے معذور رہے۔ فوٹو: نیٹ

لاس فرکس خود کو کیوبن معاشرے کے مرکزی دھارے سے ہم آہنگ کرنے سے معذور رہے۔ فوٹو: نیٹ

ایچ آئی وی، ایڈز جیسا لاعلاج اور مہلک مرض پھیلانے والا وائرس ہے۔ بھلا کون ہوگا جو اس وائرس کا نشانہ بننا چاہے گا؟َ

آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے ایچ آئی وی اور ایڈز کی ہلاکت خیزی سے واقف ہونے کے باوجود اس مہلک وائرس کو گلے لگایا۔ یہ ’حماقت‘ کرنے والے کوئی ایک دو لوگ نہیں بلکہ پورا ’قبیلہ‘ تھا۔ اس ’ قبیلے‘ کا تعلق آںجہانی فیدل کاسترو کے ملک کیوبا سے ہے اور یہ Los Frikis کہلاتا ہے۔

دراصل یہ باقاعدہ کوئی قبیلہ نہیں ہے بلکہ مغربی تہذیب کے دل دادگان، جن سے ان کے اہل خانہ نے قطع تعلق کرلیا تھا، وہ ایک کمیونٹی کی شکل اختیار گئے تھے۔ اس قبیلے کا ہر فرد گانے بجانے کے پیشے سے وابستہ ہے۔ راک میوزک کی ایک قسم اس قبیلے کی پہچان ہے جو punk کہلاتی ہے۔ اسی حوالے سے اس قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی عرف عام میں punk کہا جاتا ہے۔

Los Frikis خود کو کیوبن معاشرے کے مرکزی دھارے سے ہم آہنگ کرنے سے معذور رہے۔ مغربی موسیقی سے والہانہ لگاؤ کے علاوہ ان کے لباس، رہن سہن کے انداز اور دوسرے ثقافتی پہلووں میں بھی امریکی اور یورپی جھلک نظر آتی تھی جو امریکا دشمن ملک میں کسی طور قابل قبول نہیں تھی۔

اس قبیلے نے ایک تو مغربی طرز معاشرت اختیار کررکھا تھا، اس پر طرّہ یہ کہ قبیلے کے مختلف میوزک بینڈز گاتے بھی انگریزی زبان میں تھے۔ یہ 1980ء کی دہائی تھی جب کیوبا میں امریکیوں اور ان سے جُڑی ہر شے سے نفرت عروج پر تھی۔ چناں چہ انگریزی میںگائیکی نے اس قبیلے کو اور زیادہ معتوب بنادیا تھا۔

Los Frikis کے اراکین نے مغربی تہذیب سے لگاؤ کی قیمت بھی ادا کی۔ ان میں سے بیشتر پر گھر کے دروازے بند ہوگئے تھے۔ پولیس انھیں آئے روز کسی نہ کسی ’ جرم‘ کی پاداش میں گرفتار کرلیتی تھی۔ ایک بھی پنک ایسا نہیں تھا جس نے اس دور میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت نہ کی ہوں۔ عملاً یہ طبقہ معاشرے سے کٹ چکا تھا۔ معاشرے کی بے حسی اور حکومتی اداروں کے ناروا سلوک اور اپنے ساتھ ہونے زیادتیوں کے خلاف اس طبقے کے اراکین نے احتجاج کا انوکھا راستہ اختیار کیا۔ وہ اپنی رگوں میں ایڈز کا وائرس اتارنے لگے۔ ان میں سے کئی ایچ آئی وی کا شکار تھے چناں چہ انھی کا خون ان کے ساتھیوں کو اس مہلک وائرس سے متأثر کرنے کے کام آرہا تھا۔

یہ وہ دور تھا جب دنیا بھر میں ایڈز کا چرچا تھا۔ فیدل کاسترو کی حکومت بھی ملک کو اس وبا سے محفوظ رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر اپنا رہی تھی۔ شہریوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص کے لیے خون کی جانچ کی جاتی تھی، اور اس وائرس سے متأثرہ لوگوں کو طبی مراکز میں رکھا جاتا تھا۔ یہ لوگ طبی مراکز تک محدود رہتے تھے، اور باقی زندگی یہیں گزارنے پر مجبور تھے۔ اپنے پیاروں سے دوری اور تنہائی کے عذاب ان لوگوں کو دہری اذیت میں مبتلا کردیا تھا، مگرLos Frikis کے لیے یہ قید کسی نعمت سے کم نہیں تھی۔ یہاں وہ حکومتی عتاب سے محفوظ رہ سکتے تھے۔ دوسرے یہاں انھیں خوراک اور دیکھ بھال بلامعاوضہ میسر آتی۔

اُس زمانے میں کیوبا کو قحط سالی کا سامنا تھا۔ ملک میں غذائی اجناس کی قلت تھی مگر ان مراکز میں خوراک وافر مقدار میں اور تینوں وقت دست یاب ہوتی تھی۔ چناں چہ یہ طبی مراکز ان کے لیے بہترین پناہ گاہ ثابت ہوسکتے تھے۔ یہاں انھیں ہر طرح کا آرام میسر ہوتا نیز وہ پولیس کی چیرہ دستیوں سے بھی محفوظ رہتے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ یہاں وہ سب ایک ساتھ رہ سکتے تھے۔ چناں چہ زیادہ سے زیادہ Los Frikisاپنے جسموں میں ایچ آئی وی سے آلودہ خون اتارنے لگے۔ ان کی تعداد سیکڑوں میں بتائی جاتی ہے۔

1989ء میں جب ایچ آئی وی سے متأثرہ مریضوں کی بحالی کے مراکز وزارت عوامی صحت کے حوالے کیے گئے تو ترقی پسند ڈاکٹروں نے ان خانہ بدوشوں کو گانے بجانے کی آزادی بھی دے دی تھی۔ چناں چہ ان مراکز میں ان کے ایام مزے سے گزر رہے تھے۔

رفتہ رفتہ ان کے لیے صورت حال بہتر ہونے لگی۔ حکومت نے ان کے خلاف کارروائیاں بند کردیں اور معاشرے کے باغیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ Los Frikis کے جن اراکین نے خود کو ایچ آئی وی سے متأثر کیا تھا، ان میں سے بیشتر موت کا شکار ہوچکے ہیں، مگر کچھ اب بھی طبی مراکز میں موجود ہیں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔