کاش، کاش،کاش!!

تنویر قیصر شاہد  جمعـء 19 مئ 2017
tanveer.qaisar@express.com.pk

[email protected]

اگست2016ء میں سوشیلا کارکی نے نیپال کی چیف جسٹس کا حلف اٹھایا تھا۔ کارکی کو نیپال کی پہلی خاتون چیف جسٹس بننے کا عظیم اعزاز ملا۔ اِس پر وہ بجا طور پر فخر کر سکتی تھیں۔ سوشیلا کارکی صاحبہ مگر اس عہدے کی نزاکتوں کا پاس نہ کر سکیں؛چنانچہ 9ماہ کے بعد ہی اُنہیں اس کا حساب بھی دینا پڑا ہے۔ یکم مئی 2017ء کو خبر آئی کہ نیپالی پارلیمنٹ اپنی اس خاتون چیف جسٹس کا مواخذہ کرنے جا رہی ہے۔  چونسٹھ سالہ چیف جسٹس،کارکی، پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ ایگزیکٹو کے معاملات میں دخل اندازی کرنے کی مرتکب ہُوئی ہیں۔

یوں اپنی حدود و قیود سے تجاوز کرنے کے الزام میں اُن کا مواخذہ کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ نیپالی پارلیمنٹ کے249ارکان نے اپنے اکثریتی دستخطوں سے یہ مطالبہ کر دیا ہے۔ نیپالی قوانین کے مطابق،اس مطالبے کے ساتھ ہی اصولی طور پر سوشیلا کارکی اپنے منصب سے علیحدہ کر دی گئیں تاکہ آزادانہ طور پر اُن کا مواخذہ کیا جا سکے۔یہ ہے جمہوریت اور پارلیمنٹ کی اصل طاقت۔ ابھی زیادہ دن نہیں گزرے ہیں کہ جنوبی کوریا کی خاتون صدر، پارک گینو،پر الزام لگایا گیا کہ وہ کرپشن میں ملوث پائی جارہی ہیں۔ جنوبی کوریا کے عوام نے یکمشت اور یک زبان ہو کر مطالبہ کیا کہ چونکہ صدر صاحبہ پر ’’امانت میں خیانت‘‘ کرنے کا شبہ کیا جارہا ہے،اس لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔ چند دن پارک گینو صاحبہ نے مزاحمت تو کی لیکن عوامی دباؤ سے مجبور ہو کر اُنہیں مستعفی ہونا پڑا۔ یہ مارچ 2017ء کی بات ہے۔ جنوبی کوریا کی یہ سابق خاتون صدرصاحبہ گرفتار ہو کر آجکل عدالتوں اور احتسابی کٹہروں کے سامنے کھڑی پائی جا رہی ہیںاور جنوبی کوریا کے عوام نے اپنا نیا صدر(Moon Jaein)بھی منتخب کر لیا ہے ۔

آئس لینڈ اوربرطانیہ کے وزرائے اعظموں (سگمنڈر لاگسن اورڈیوڈ کیمرون) پر پانامہ لیکس کے حوالے سے ،بالواسطہ، کرپشن کے بہت معمولی الزامات عائد کیے گئے۔ دونوں حکمرانوں کے خلاف ابھی ملک بھر میں سارے عوام متحرک ہُوئے  تھے نہ وہاں کی عدالتوں اور سیاسی جماعتوں نے اُنہیں عہدوں سے دستکش ہونے کا مطالبہ کیا تھا لیکن اس سے قبل ہی وہ دونوں اصولی طور پر اقتدار کے ایوانوں سے خاموشی کے ساتھ رخصت ہو گئے۔اِسی طرح یوکرائن کے صدر، پیٹرو پور شنکو، کو بھی پانامہ کرپشن پیپرز کے انکشافات کے نتیجے میں اقتدار چھوڑنا پڑا۔وہاں کے عوام نے اپنے دوسرے حکمران چُن لیے اور زندگی کا کارواں بدستور رواں دواں رہا ۔ ملک بھر میں کوئی سر پھٹول ہُوئی نہ کسی کو اپنے مطالبات منوانے کے لیے دھرنے دینے پڑے اور نہ ہی کسی نے ایمپائر کی انگلی کھڑی کرنے کی دھمکی دی۔

ہمارے ہمسایہ ملک،افغانستان، میں بھی حکمران طبقے نے بڑی جرأت کے ساتھ اصول کی ایک نئی اور مستحسن مثال قائم کی ہے۔اپریل 2017ء کے آخری ہفتے افغانستان کے معروف صوبے،بلخ، کے مشہور شہر (مزار شریف)میں افغان طالبان نے مقامی فوجی چھاؤنی پر اچانک حملہ کر کے پونے دو سو افغان فوجی مار ڈالے۔ یہ خونی اور افسوسناک حملہ(جس کی وزیر اعظم نواز شریف اور جنرل جاوید قمر باجوہ نے بھی فوری طور پر مذمت کی تھی)اُس وقت کیا گیا جب افغان فوجی جمعہ کی نماز ادا کرکے مساجد سے باہر نکل رہے تھے۔ ایک سوستر سے زائد فوجیوں کی المناک ہلاکت پر سارے افغانستان میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ افغان صدر، جناب اشرف غنی، بھی ملک بھر میں نادم ہو کر رہ گئے۔ ظاہر ہے اس کی ساری ذمے داری افغان وزیر دفاع(جنرل عبداللہ حبیبی) اور افغان سپہ سالار(جنرل قدم شاہ شہیم) پر عائد ہوتی تھی کہ وہ ایسا فول پروف بندوبست کرنے میں ناکام رہے جسے بروئے کار لاتے ہُوئے مقتول افغان فوجیوں کی جان بچائی جا سکتی تھی؛ چنانچہ افغان وزیر دفاع اور افغان سپہ سالار فوری طور پر اپنے اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے۔

صدراشرف غنی نے بھی دونوں کے استعفے فوری طور پر منظور کر لیے۔ افغانستان جیسے پسماندہ ملک میں اصول کی ایسی اعلیٰ مثال کے قیام سے ہم سب حیرت میں مبتلا ہیں۔ گوئٹے مالا ایسے غریب ملک کی طاقتور اور دیانتدار اٹارنی جنرل تھیلما ایلڈنہ (Thelma Aldana) نے کرپشن کے الزام میں جہاں ملک کے طاقتور سیاستدانوں کو جیلوں میں ڈالا ہے،وہیں اپنے صدراوٹو پیریز مولیناکو بھی فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار بھی کروایا ہے اور اُن کا مواخذہ بھی کیا ہے۔ یہ صاحب آجکل عدالتوں اور جیلوں کی ہوا کھا رہے ہیں۔فلپائن کی کرپٹ سینیٹر،لیلا ڈی لیما،بھی منی لانڈرنگ کے کیس میں حوالہ زندان کی جا چکی ہیں۔23اپریل 2017ء کو فرانس میں صدارتی انتخابات کا پہلا رَن پڑا تھا۔

گزشتہ کئی ہفتوں سے کہا جا رہا تھا کہ خاتون صدارتی امیدوار، میرین لی پین، جیت جائیں گی اور وہی ہر صورت فرانس کی اگلی صدر بنیں گی۔ امریکا کے ممتاز جریدے، فارن پالیسی، نے تو یہ بھی کہہ دیا تھا کہ میرین لی پین کو جتوانے کے لیے روسی حکمران (پوٹن) خفیہ امداد فراہم کر رہے ہیں،جیسا کہ بعض امریکی اب تک یہ الزام لگا رہے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی کامیابی میں پوٹن اور اُن کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔بہر حال فرانس میں صدارتی انتخابات کا میدان سجا۔ یہ دو مرحلوں میں اپنے انجام کو پہنچنا تھا۔ پہلے مرحلے کے نتائج سامنے آئے تو فتح کا پلڑا صاف طور پر خاتون لی پین کے مخالف امیدوار، ایمانوئل میکرون، کے حق میں جھکتا نظر آرہا تھا۔ لی پین کو اپنی شکست نظر آنے لگی تھی؛ چنانچہ اُنہوں نے دوسرے مرحلے کے شروع ہونے سے پہلے ہی باقاعدہ اپنی پارٹی(FN) کی صدارت سے علیحدہ ہونے کا اعلان کر دیا ۔ 8مئی2017ء کو فرانسیسی صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے نتائج کا اعلان ہُوا تو لی پین کے مخالف 66فیصد سے زائد ووٹ لے کر بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گئے تھے۔

ایمانوئل میکرون اب فرانس کے نئے صدر بن چکے ہیں اور اقتدار و اختیار کی منتقلی کے تمام مراحل پُر سکون انداز میں طے پا چکے ہیں۔ چین میںWang Qishan نامی محتسب آجکل میڈیا میں چھایا ہُوا ہے۔ اُس نے ملک کے اُن بڑے بڑے صنعت کاروں پر ہاتھ ڈالا ہے جو سرکاری بینکوں کا روپیہ کھا گئے تھے اور سوچ رہے تھے کہ ہمیشہ قانون کی گرفت سے بچیں رہیں گے۔ اب اُن کی جائیدادیں بھی بحقِ سرکار ضبط کی جا چکی ہیں اور وہ ساری عمر کے لیے جیلوں میں بھی ڈالے جا چکے ہیں۔Wang Qishan  اتنے طاقتور ہیں کہ چینی صدر بھی اُن کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔ جوزف مسکٹ مالٹا کے وزیر اعظم ہیں۔ایک شاندار سیاسی جدوجہد اور محنت کے بعد ملک کے وزیر اعظم بنے۔

بدقسمتی مگر اُن کی ملاحظہ کیجئے کہ پانامہ کرپشن پیپرز،جس کا انکشاف موزیک فونیسکالا فرم نے کیا تھا،میں اُن کی اہلیہ محترمہ کا نام بھی نکل آیا۔جوزف کی بیوی کا نام مشل (Michelle)ہے۔ الزام عائد کیا گیا کہ مالٹا کے وزیر اعظم، جوزف مسکٹ،کی بیوی صاحبہ نے پانامہ میں ایک آف شور کمپنی(Egrant Inc) بنا رکھی ہے جہاں کچھ رقم چھپائی گئی ہے۔مالٹا قوانین کے مطابق،آف شور کمپنی بنانا غیرقانونی نہیں ہے مگر مالٹا کے عوام کا کہنا تھا کہ خدشہ ہے کہ وزیر اعظم صاحب کی بیوی نے ملک کے ٹیکس لگانے والوں کو دھوکا دینے اور ٹیکس سے بچنے کے لیے یہ کمپنی بنا کر ٹیکس چوری کا ارتکاب کیا ہو۔ یہ حرکت بیوی نے کی ہے ۔

اس میں مگر وزیر اعظم جوزف کا کوئی قصور ہے نہ جرم۔مالٹائی عوام کا مگر کہنا ہے کہ اُ ن کاوزیر اعظم بھی برابر کا شریکِ جرم ہے؛چنانچہ اُن کے خلاف ملک بھر میں زبردست مظاہرے ہُوئے ہیں۔ تنگ آکر وزیر اعظم نے اعلان کیا :’’بابا میری توبہ،مَیں وقت سے پہلے ہی ملک میں انتخابات کروا دیتا ہُوں،اگر مَیں بھی کرپشن کا مرتکب ہُوا ہُوں تو کوئی اور بندہ اپنا نیا لیڈر چُن لیں۔‘‘اب مالٹا میں،وقت سے پہلے، جون2017ء کو جنرل الیکشن ہو رہے ہیں۔کیا ہم یہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ کبھی ہمارے ملک میں بھی جمہوریت کے فروغ، جمہوریت نوازی، اصول اور ضابطے کی ایسی سیاست ہوگی؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔