فیصلے کے باوجود کلبھوشن یادیو کو پھانسی دی جاسکتی ہے

مانیٹرنگ ڈیسک  جمعـء 19 مئ 2017
امریکا میں 3 مثالیں موجودہیں جہاں عالمی عدالت کے حکم کے باوجود سزائے موت دی گئی۔ فوٹو؛ فائل

امریکا میں 3 مثالیں موجودہیں جہاں عالمی عدالت کے حکم کے باوجود سزائے موت دی گئی۔ فوٹو؛ فائل

 اسلام آباد: عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے باوجود بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو پھانسی دی جا سکتی ہے۔

ایک ٹی وی کے مطابق عالمی عدالت انصاف کے حکم کے باوجودماضی میں امریکا نے 3 مجرموں کو زہریلا انجیکشن لگا کر اور گیس چیمبر میں سزائے موت دے دی۔ پہلا کیس پیراگوئے بنام امریکا تھا،اس کیس میں 1998میں پیراگوئے نے آئی سی جے میں اپنے شہری اینجل فرانسسکوبریڈ کو امریکا میں سنائی گئی سزائے موت رکوانے کی اپیل کی جس پر عدالت نے حکم دیا کہ سزا روکی جائے لیکن امریکا نے اسی سال فرانسسکو کو زہریلا انجکیشن لگا کر سزائے موت دے دی۔ فرانسسکو پر جنسی زیادتی اور قتل کے مقدمات تھے۔

دوسرا کیس جرمنی بنام امریکا تھا، اس کیس میں جرمنی نے 1999میں اپنے شہری والٹر لاگرینڈ کو امریکا میں سنائی گئی سزائے موت کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں اپیل کی جس پر عدالت نے حکم دیا کہ سزا روکی جائے لیکن اس حکم کے باوجود لاگرینڈ کو ایریزونا کے گیس چیمبر میں سزائے موت دے دی گئی۔ لاگرینڈ پر قتل اور بینک ڈکیتی کے الزامات تھے۔

علاوہ ازیں تیسرا کیس میکسیکو بنام امریکا تھا، اس کیس میں میکسیکو نے اپنے شہری جوز میڈیلین کی امریکا میں سزائے موت کے خلاف 2003 میں عالمی عدالت انصاف میںاپیل کی۔ عدالت نے حکم دیا کہ سزا روک دی جائے لیکن جوز میڈیلین کو 2008 میں ٹیکساس میں زہریلا انجیکشن لگا کر سزائے موت دے دی گئی۔ اس پر جنسی زیادتی اور قتل کے الزامات تھے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔