فلسطین، اسرائیل اور اقوام متحدہ

صابر ابو مریم  جمعـء 19 مئ 2017
مقبوضہ کشمیر میں جاری مسلسل ہندوستانی ریاستی دشت گردی کی بات ہو، تو یہاں بھی دنیا میں امن قائم کرنے کی ٹھیکیدار اقوامِ متحدہ خواب خرگوش میں ملی ہے۔ فوٹو: فائل

مقبوضہ کشمیر میں جاری مسلسل ہندوستانی ریاستی دشت گردی کی بات ہو، تو یہاں بھی دنیا میں امن قائم کرنے کی ٹھیکیدار اقوامِ متحدہ خواب خرگوش میں ملی ہے۔ فوٹو: فائل

فلسطین پر سنہ 1948ء سے قبل اور اِس کے بعد جب سے فلسطین پر غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کا ناپاک وجود قائم ہوا ہے کہ مسلسل صیہونیوں کی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی طرح اگر ہم بات کریں مقبوضہ کشمیر کی تو یہاں بھی ہندوستان کی ریاستی دہشت گردی کو اب ستر سال کا عرصہ بیت چکا ہے، میں نے بلاگ کے زریعے کوشش کی ہے کہ کوشش کی ہے کہ، دنیا کے ان اہم ترین مسائل کے بارے میں عالمی اداروں کی بالخصوص اقوامِ متحدہ کی ناکامی کاجائزہ یا جائے۔

اقوامِ متحدہ جس کے قیام کے اغراض ومقاصد میں سر فہرست دنیا میں امن و امان کا قیام یقینی تھا، افسوس کہ اقوامِ متحدہ روز اول سے ہی عالمی طاقتوں اور صیہونی شکنجہ کے زیر اثر ہی نظر آئی ہے۔ مظلوم فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے صیہونی مظالم ہوں یا پھر صیہونیوں کی نسل پرستانہ کارروائیاں ہوں، اقوامِ متحدہ بالکل خاموش یا پھر گہری نیند کے مزے لیتی ہوئی پائی گئی ہے۔ اسی طرح بات افغانستان، عراق اور پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں عالمی سامراجی قوتوں کی فوجی چڑھائی اور ڈرون حملوں جیسی غیر قانونی حرکتوں کی ہو تو یہاں بھی اقوامِ متحدہ تو نیند کی گولی کھا کر ستی ہوئی دکھا ئی دی ہے۔

اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں جاری مسلسل ہندوستانی ریاستی دشت گردی کی بات ہو، تو یہاں بھی دنیا میں امن قائم کرنے کی ٹھیکیدار اقوامِ متحدہ خواب خرگوش میں ملی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ فلسطین و لبنان، شام، عراق، لیبیا، افغانستان، یمن، کشمیر اور برما سمیت متعدد مقامات پر لاکھوں بے گناہوں کا دریا کی طرح بہتا ہوا خون بھی اقوامِ متحدہ کو اِس گہری اور بدمست نیند سے بیدار کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کر پایا ہے۔

مقبوضہ فلسطین کی بات کریں تو یہاں فلسطینیوں پراسرائیلی جعلی ریاست کے مظالم پر اقوامِ متحدہ کی مجرمانہ خاموشی ماضی میں بھی ہدف تنقید رہی ہے مگر حال ہی میں اقوامِ متحدہ کے موجودہ سیکرٹری جنرل نے کھلے عام صہیونی نسل پرستی کی حمایت کرتے ہوئے ادارے کی ایک اہم عہدیدار کو محض اس لیے عہدے سے ہٹانے کے لئے دباؤ ڈالا کہ انہوں نے فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کی نسل پرستی کو بے نقاب کرنے کی جسارت کرڈالی تھی۔ ریما خلف جو کہ ایک سماجی اور انسانی حقوق کارکن ہیں اور اقوامِ متحدہ کے ادارے ایسکوا برائے مغربی ایشیا کی سربراہ کے عہدے پر کام کرتی رہی ہیں، انہوں نے ماضی میں بھی اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف جاری نسل پرستی کو بے نقاب کرنے میں اپنی تمام تر کوششوں کو بروئے کار لاکر غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کا اصل چہرہ دنیا پرعیاں کیا ہے۔

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ کرہِ ارض پرفوری حل طلب تنازعات میں’مسئلہ فلسطین‘ فہرست میں پہلے نمبر پر ہے مگر اقوامِ متحدہ کے دوغلے اور ’منافقانہ‘ عملی کردار نے فلسطینیوں کی حمایت میں اٹھنے والی ہر آواز کو نظر انداز کرکے اپنی غیرجانب داری کو متنازع بنا دیا ہے۔ جب اسرائیل کے خلاف دنیا کے کسی کونے سے حق اور سچ کی آواز سنائی دیتی ہے تو یہ نام نہاد ’عالمی منصف‘ چلا اٹھتا ہے کہ ’ہائے یہ کیا ہوگیا؟ کسی نے صہیونی ریاست کی پاک دامنی پر داغ کیوں لگا دیا؟ اِس طرح اقوام متحدہ صہیونی ریاست کی دنیا بھر میں پاک دامنی ثابت کرنے میں مصروفِ عمل ہے۔

اقوامِ متحدہ کے معاشی و سماجی کمیشن برائے مغربی ایشیا ’ایسکوا‘ اقوام متحدہ ہی کا ادارہ ہے مگر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اِس ادارے کی جانب سے فلسطین میں اسرائیل کے نسل پرستانہ مظالم کو بے نقاب کرنے والی ادارے کی سربراہ کو چلتا کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی حمایت نہیں بلکہ اسرائیل کی نسل پرستی کی حمایت کررہے ہیں۔ ریما خلف ’ایسکوا‘ کی ڈائریکٹر تھیں۔ انہوں نے برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ماہرین قانون کی معاونت سے حال ہی میں فلسطین میں اسرائیلی مظالم کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی۔ اس رپورٹ میں انہوں نے اسرائیل کو نسل پرست اور نوآبادی نظام کی حامل ایک ظالم ریاست قراردیا۔

ریما خلف کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں واضح اور دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے لکھا کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کیخلاف نسل پرست (اپارتھائیڈ) پر مبنی نو آبادیاتی نظام کی بنادی رکھی ہے۔ اِن کے اِس جملے نے نہ صرف اسرائیل بلکہ دنیا بھر میں صہیونیت نوازوں کو آگ بگولا کردیا، جب کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے ’فلسطین پراسرائیلی قبضے کے مسئلے کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل دستاویز قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے معاشی و سماجی کمیشن برائے مغربی ایشیا ’ایسکوا‘ نے یہ رپورٹ رکن ممالک کے تعاون اور مطالبے کے بعد تیار کی۔ رپورٹ کی تیاری میں عالمی شہرت یافتہ دو اہم ترین انسانی حقوق کے مندوبین ساؤتھ الینوی، کارپونڈیل یونیورسٹی سے وابستہ سیاسیات کی خاتون پروفیسر ورجینیا ٹیللی اور اوقوام متحدہ کے سابق انسانی حقوق مندوب برائے مقبوضہ فلسطین رچرڈ فولک نے کلیدی کردار ادا کیا۔

’ایسکوا‘ کی فلسطین میں نسل پرستی کیخلاف جاری رپورٹ کو ’ نسل پرستی (اپارتھائیڈ)  انسانیت کے خلاف جرم‘ کا عنوان دیا گیا۔ رپورٹ کے آغاز میں بین الاقوامی قوانین کی رو سے نسل پرستی کی تعریف بیان کی گئی اور نسل پرستی کے خلاف ہونے والے عالمی اقدامات کا ایک جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر ایک نسل دوسری نسل کے باشندوں کے خلاف منظم انداز میں تمام شعبہ ہائے زندگی میں امتیازی سلوک روا رکھے، اُن کی املاک کو اپنی ملکیت سمجھے اور اُن پر عرصہ حیات تنگ کردے تو ایسے اقدامات کو نسل پرستی، اپارتھائیڈ قرار دیا جائے گا جسے انسانیت کے خلاف سنگین جرم سے تعبیر کیا جائے گا۔

صہیونی ریاست نے سنہ 1965ء کے نسل پرستی کے خلاف منظور کردہ معاہدے کی شق 3 کی باربار خلاف ورزی کی اور نسل پرستی کا مرتکب ٹھہرا۔ اسی طرح نسل پرستی مخالف معاہدہ روم مجریہ 1973ء اور عالمی فوج داری کے آرٹیکل 7، اور آرٹیکل 2 کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستی کا مرتکب ہوا ہے۔ اِن بین الاقوامی معاہدوں اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے بعد اسرائیل کو بھی بجا طور پر نسل پرست اور اپارتھائیڈ نظام کی حامل ریاست قرار دیا جاتا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر فلسطینیوں کو ایک ہی قوم یا مملکت کے باشندے کہا جاتا ہے جب کہ اسرائیل ایک الگ حیثیت سے ملک ہے۔ اسرائیل اپنی پوری ریاستی میشنری کے ساتھ فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستانہ اقدامات میں ملوث ہے۔ صہیونی ریاست اپنے اقدامات کے نتائج واثرات سے مکمل طور پربے پرواہ ہو کر فلسطینیوں کے خلاف سرگرم عمل ہے۔ جس کی بنیادی وجہ اقوام متحدہ جیسے ادارے کی عدم دلچسپی اور پس پردہ اسرائیل کی حمایت ہے۔ لیکن اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ کو اپنے رویے پر نظر ثانی کرتے ہوئے فلطسین سے کشیمر تک انسانیت کو تباہی سے بچانے کیلئے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا لکھاری کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ   [email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی۔


ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔