انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ

ڈاکٹر توصیف احمد خان  ہفتہ 20 مئ 2017
tauceeph@gmail.com

[email protected]

وطن عزیز میں انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری ہے۔ برسوں سے جدوجہد کرنے والی انسانی حقوق کی سرکاری تنظیم انسانی حقوق کمیشن (H.R.C.P) کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لاپتہ ہونے والے افراد کارو کاری، پولیس اور ریاستی اداروں کا تشدد، بدترین طرزِ حکومت اور انصاف مہنگا، مشکل اور دیر سے ملنے کی بناء پر عام آدمی بے بسی کا شکار ہے۔ اس رپورٹ میں جس کا عنوان ’’State of Human Rights 2016‘‘ ہے اعداد و شمار کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس وقت ایک ہزار دو سو انیس (10219) افراد لاپتہ ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توہین رسالت کے قانون کے تحت مقدمات کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ شہریوں کے آمد ورفت کے حق کو سلب کیا گیا ہے۔ ہجوم کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکت، عدلیہ کی تذلیل، میڈیا کے ذریعے خوف کی فضاء قائم کرنے اور سیلف سنسرشپ کے معاملات بڑھ گئے ہیں۔H.R.C.P کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ریپ، اغواء اور گینگ ریپ بڑھ گئے ہیں۔

ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بینکوں کو لوٹنے، موبائل اور کار چھیننے اور دیگر اسٹریٹ کرائم کی شرح بڑھ گئی ہے۔ اس ملک کے مختلف علاقوں میں بچوں کے اغواء، بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی اور بچوں کی شادی کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے۔ گزشتہ سال ایسے چارہزارایک سو انتالیس (4139) واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ یہ اعدادوشمارگزشتہ سے پیوستہ سال کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ ہیں۔ اسی طرح بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے اور دن میں تقریباً 11 بچے اس تشددکا شکار ہوتے ہیں۔ اسی طرح سویلین اداروں کے لیے جگہ کو تنگ کیا جا رہا ہے جس کی بناء پر غیر سرکاری تنظیمیں بحران کا شکار ہیں۔

پاکستان میں انسانی حقوق کا معاملہ ریاستی سطح پرکبھی اہمیت کا حامل نہیں رہا۔ اگرچہ 1956ء، 1962ء اور 1973ء کے دستاویز میں انسانی حقوق کے باب شامل کیے گئے اور اعلیٰ عدالتوں نے انسانی حقوق کے تحفظ کے معرکتہ الآراء فیصلے دیے مگر ریاستی اداروں کی بنیادی ترجیح نہ ہونے کی بناء پر انسانی حقوق کے تحفظ کا معاملہ ثانوی رہا۔ پھر 1973ء کے آئین کے متفقہ طور پر نفاذ کے کچھ دنوں بعد انسانی حقوق کے باب کو معطل کرایا گیا۔ پھر جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں آئین کو معطل کیا گیا اور متنازعہ قوانین نافذ کیے گئے جس کے نتیجے میں شہریوں کے حقوق غضب ہوئے۔

اگرچہ 2008ء میں جنرل پرویز مشرف کے ایوان صدر سے رخصت ہونے کے بعد 18ویں ترمیم کے ذریعے 1973ء کا آئین اپنی اصل شکل میں بحال ہوا مگر دہشت گردی کی جنگ کی آڑ میں انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ دراز رہا۔ شہریوں کے لاپتہ ہونے کا معاملہ نائن الیون کی دہشت گردی کے بعد سامنے آیا۔کہا جاتا ہے کہ شہریوں کے لاپتہ ہونے کے پس پشت ریاستی ادارے اور امریکی سی آئی اے ملوث رہی ہے۔ نائن الیون کی دہشتگردی کے بعد حکومت نے کئی شہریوں کو امریکا کے حوالے کیا ۔ ان میں سے عرب، افغان باشندے اور پاکستانی تھے۔

ان افراد پر القاعدہ کے لیے کام کرنے اور امریکا میں ہونے والی دہشتگردی میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔ لوگوں کو امریکا کے حوالے کرنے کا سلسلہ بند ہوا تو ملکی اداروں پر بعض لوگوں کو لاپتہ کرنے کے الزامات لگائے گئے۔ لاپتہ ہونے والوں میں عمومی طور پر دو قسم کے افراد شامل ہیں۔ان میں ایک جن کا تعلق کالعدم مذہبی تنظیموں سے تھا اور دوسرے جو بلوچ لبریشن فرنٹ اور اس سے ملحقہ تنظیموں سے منسلک تھے۔ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ازخود نوٹس لیا تھا جس کے نتیجے میں بہت سے لاپتہ افراد کا پتہ چل گیا اور کچھ لوگ رہا ہوئے۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سپریم کورٹ کے ریٹائرد جج جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں کمیشن قائم کیا گیا۔ اس کمیشن میں سندھ سے معروف قانون دان اور استاد پروفیسر ڈاکٹر غوث محمد کو شامل کیا گیا مگر کمیشن کا دائرہ محدود ہونے کی بناء پر اس کی کارکردگی بہت زیادہ متاثر کن نہیں رہی۔

لاہور کی ایک فری لانس جرنلسٹس ارم رانی کا معاملہ بین الاقوامی ذرایع ابلاغ کی توجہ کا مرکز رہا۔  ایچ آر سی پی کی سالانہ رپورٹ میں لاپتہ افراد کے بارے میں تفصیلات درج کی گئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے سالانہ اجلاس میں یہ معاملہ شامل ہوتا ہے جس کی بناء پر ملک کی بدنامی ہوتی ہے اور انتہاپسند عناصر کو پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ایک جمہوری ملک کے لیے جہاں ایک آئین کی بالادستی ہے لاپتہ افراد کا مسئلہ شرمندگی کا باعث ہے۔

ایچ آر سی پی کی رپورٹ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ہجوم کے ہاتھوں افراد کی ہلاکت ، ریپ، گینگ ریپ اور بچوں کے اغواء کی وارداتیں بڑھ گئی ہیں۔ لوگوں میں مجموعی طور پر برداشت کا جذبہ کم ہوگیا ہے اور ان لوگوں کا پولیس پر سے اعتماد ختم ہوا ہے۔ اس بناء پر ہجوم عدالتی اختیارکو استعمال کرنے لگتا ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ پولیس ایسے مواقعے پر غائب ہوجاتی ہے،جب ہجوم کسی کو قتل کردیتا ہے تو پولیس والے بعد میں موقعے پر پہنچتے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سندھ میں موبائل اور کار چھیننے، بینک لوٹنے اور دیگر اسٹریٹ کرائم کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ خاص طور پر کراچی شہر میں اسٹریٹ کرائم کے حوالے سے صورتحال انتہائی خراب ہے۔ سندھ کا پولیس کا محکمہ مسلسل بحرانوں کا شکار ہے۔ سندھ میں پولیس افسروں کے تقرر اور تبادلوں کے معاملات دبئی میں طے ہوتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ایس ایچ او اور اوپر کے افسروں کے تبادلوں اور تقرریوں کے لیے لاکھوں روپے کی ادائیگی لازمی ہے۔ یوں ایک کمزور پولیس فورس کے لیے جرائم کو روکنا مشکل ہے۔

رپورٹ میں الیکٹرونک میڈیا پر خوف پھیلانے اور صحافیوں پر سیلف سنسرشپ کا ذکر ہے۔ الیکٹرونک میڈیا کو لوگوں پر خوف پھیلانے اور خبروں کو خود سنسر کرنے (Self Censor) کرنے کے بجائے معروضیت کو خبروں اور ٹاک شوز کی بنیاد بنانا چاہیے۔کاروکاری اور غیرت کے نام پر قتل جیسے جرائم کے خاتمے کے لیے مہم چلانی چاہیے۔ انسانی حقوق کی پامالی سے ترقی متاثر ہوتی ہے اور غربت کی شرح بڑھتی ہے۔ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرکے انھیں ترقی کی دوڑ میں شریک کیا جا سکتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

loading...