امریکا سے 350 ارب ڈالر کے معاہدے، سعودیہ 110 ارب ڈالر کے ہتھیار خریدے گا

ویب ڈیسک  ہفتہ 20 مئ 2017

ریاض:  امریکا اور سعودی عرب نے اپنے تاریخی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے 350 ارب ڈالرز کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پردستخط کردیے جن میں سے 110ارب ڈالر کے فوجی آلات اور ہتھیاروں کی خریداری کے معاہدوں پر فوری عمل کیا جائے گا۔ 

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق امریکا اور سعودی عرب نے اپنے تاریخی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے 350 ارب ڈالرز کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پردستخط کردیے جن میں سے 110ارب ڈالر کے فوجی آلات اور ہتھیاروں کی خریداری کے معاہدوں پر فوری عمل کیا جائیگا۔ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے دفاعی اور دہشت گردی میں مددگار ثابت ہونے والے معاہدے آئندہ 10سال میں مکمل ہوں گے۔ ریاض کے الیمامہ شاہی محل میں ہونے والی تقریب میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طویل المدتی اسٹریٹجک ڈویژن کے معاہدوں پردستخط کیے۔ معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے وزرا نے دفاع، عسکری پیداوار، توانائی، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، تیل و دیگر باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے سے متعلق معاہدوں اور یادداشتوں کا تبادلہ بھی کیا۔ دفاعی معاہدے پر دستخط کی تقریب میں امریکی وزیرخارجہ ٹلرسن بھی موجود تھے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ معاہدے دہشت گردی سے نمٹنے، سعودی عرب اور خلیج کی طویل المدتی سلامتی میں کارآمد ثابت ہوں گے۔

اس سے قبل سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بند کمرے میں ایک گھنٹے تک باضابطہ مذاکرات ہوئے۔ شاہ سلمان بن عبد العزیز نے الامرمہ شاہی محل میں صدر ٹرمپ اور خاتون اول سمیت امریکی وفدکے ارکان کواستقبالیہ دیا، صدرٹرمپ کو سعودی عرب کے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ شاہ عبدالعزیز میڈل سے بھی نوازاگیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ریاض کا کہنا ہے امریکی صدر کو باہمی روابط مضبوط کرنے اور دنیا میں امن و استحکام کی کوششوں کے اعتراف میں شاہ عبدالعزیز میڈل دیا گیا۔ ظہرانے کے بعد شاہ سلمان اور مہمان صدر نے محل میں قائم آرٹ گیلری کا دورہ کیا اوراسلامی تہذیب وتمدن اور فن وثقافت کی عکاسی کرنے والے فن پاروں کو دیکھا۔ شاہ سلمان نے صدر ٹرمپ کواسلامی فن پاروں سے متعلق بریفنگ دی۔ امریکی صدر ٹرمپ سعودی ولی عہد اور وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نائف اور نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کریں گے۔

اس سے پہلے امریکی صدر اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر سعودی عرب پہنچے، ریاض آمد پر شاہ سلمان نے صدر ٹرمپ کا ریڈکارپٹ استقبال کیا، امریکی صدر کے ہمراہ انکی اہلیہ میلانیا ٹرمپ، بیٹی ایوانکااورداماد جیرڈ کشنر بھی ہیں۔ صدر ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے اس موقع پر سیاہ رنگ کا لباس زیب تن کیا جب کہ مسز ٹرمپ اور ایوانکا نے سر پر اسکارف نہیں پہنا۔ جنوری 2015 میں جب سابق خاتونِ اول مشیل اوباما سعودی عرب گئی تھیں تو انھوں نے بھی اسکارف نہیں پہنا تھا جس پر ٹرمپ نے ٹویٹ کی تھی کہ مشیل نے اپنے میزبانوں کی توہین کی ہے۔ طیارے سے اترنے کے بعد سعودی شاہ نے ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ سے مصافحہ کیا اور انھیں ایئرپورٹ کی لابی تک ساتھ لے کرگئے۔

دوسری جانب انتہاپسندی کے بڑھتے خدشات کے پیش نظرسیکیورٹی پارٹنرشپ تشکیل دینے کیلیے پہلی امریکا عرب اسلامی کانفرنس آج  سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شروع ہوگی۔ کانفرنس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم نواز شریف سمیت 54 سربراہان مملکت شریک ہونگے۔ امریکی صدرکانفرنس میں ’’اسلام کے پر امن ویژن کیلیے امیدیں‘‘ کے موضوع پر خطاب کریں گے۔ امریکی صدر کے دورہ سعودی کے حوالے سے تشکیل دی گئی سعودی حکومت کی سرکاری ویب سائٹ پر اجلاس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا گیا کہ صدر ٹرمپ اور اسلامی ممالک کے سربراہان دنیا بھر میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خدشات پر قابو پانے اور بہتر سکیورٹی تعلقات کے قیام کو یقینی بنانے کے طریقوں پر غور کریں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سعودی حکومت کی جانب سے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ’عبدالعزیز السعود‘ سے بھی نواز گیا۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے بتایاعرب امریکی سربراہ کانفرنس کے اختتام پر سعودی عرب کی میزبانی میں انسداد دہشت گردی مرکزقائم کیا جائے گا۔ کانفرنس دہشت گردی کے خلاف عالم اسلام اور مغرب کے درمیان ایک نئے اتحاد کی راہ ہموار کرے گی۔ ہم دہشت گردوں، ان کے معاونت کاروں اور سہولت کاروں سب کیخلاف پوری قوت سے جنگ لڑیں گے۔ ہم مغرب اور پوری دنیاکو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اسلام مغرب کا دشمن نہیں۔ عادل الجبیر نے کہا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شریک سعودی عرب کی مسلح افواج امریکا کے بعد دنیا کی دوسری بڑی فوج ہے۔ انسداد دہشتگردی میں امریکا اور سعودی عرب دونوں نے قربانیاں دی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ٹرمپ کا دورہ شدت پسندوں کو تنہا کردیگا چاہے وہ ایران ہو، دولتِ اسلامیہ ہو یا القاعدہ ہو، اس  دورے سے اسلامی دنیا اور مغرب کے درمیان عموماً اور امریکہ کے درمیان خصوصاً مکالمہ بدل جائے گا۔

سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ دورہ سعودی عرب پر امریکی خاتون اول اور ان کی بیٹی کیلیے اسکارف پہننا ضروری نہیں۔ ایوانکا ٹرمپ سعودی عرب میں خواتین کی گول میز کانفرنس میں شریک ہوں گی جس کا موضوع خواتین کو درپیش معاشی مسائل کا حل ہوں گے۔

دوسری جانب وزیراعظم نواز شریف آج سے23مئی تک سعودی عرب کا دورہ کریں گے جہاں وہ ریاض میں پہلی امریکا عرب کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ کانفرنس سے خطاب میں وزیراعظم اسلام کے امن، برداشت اور اتحاد کے پیغام کو اجاگر کریں گے اورخطے میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کی لعنت کو شکست دینے کیلئے پاکستان کی عظیم قربانیوں اور ثمرات پر روشنی ڈالیں گے ۔ ذرائع کے مطا بق وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاشی اور سیکیورٹی معاہدوں پر دستخط کا بھی امکان ہے۔ وزیراعظم نواز شریف سے سابق آرمی چیف جنرل(ر) راحیل شریف کی بھی ملاقات کا امکان ہے۔

واضح رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب کے بعد اسرائیل، فلسطینی علاقے، برسلز، ویٹیکن اور سسلی کا دورہ بھی کریں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔