جاپان میں جرائم ختم!

ع۔ر  جمعرات 25 مئ 2017
محکمہ پولیس، والدین کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے۔ فوٹو : فائل

محکمہ پولیس، والدین کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے۔ فوٹو : فائل

نگرانی ایک ہفتے سے جاری تھی۔ پانچ پولیس اہل کار شاپنگ سینٹر کے پارکنگ ایریا میں کھڑی کار پر نگاہیں جمائے ہوئے تھے۔ وہ دیکھ چکے تھے کہ کار کا دروازہ مقفل نہیں تھا۔ بالآخر ساتویں روز ایک ادھیڑ عمر کار کی جانب بڑھتا دکھائی دیا۔ جیسے ہی وہ دروازہ کھول کر اندر بیٹھا، اہل کاروں نے اسے چھاپ لیا۔

ادھیڑ عمر شخص کاگوشیما ( جاپان کا جنوبی شہر) میں پولیس کی گرفت سے محفوظ رہنے والے چند ایک قانون شکنوں میں سے تھا۔ جاپان میں پولیس اب اسی طرح کے چھوٹے موٹے، بے ضرر جرائم میں ملوث لوگوں کو گرفتار کرنے کے لیے رہ گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ پولیس نااہل ہوگئی ہے اور بڑے مجرموں پر ہاتھ نہیں ڈال سکتی، وجہ یہ ہے کہ وہاں جرائم کرنے والے باقی نہیں رہے! جنوب مشرقی ایشیا میں واقع ترقی یافتہ ملک میں جرائم کی شرح تیزی سے نیچے آتی رہی ہے اور اب تیرہ کروڑ کی آبادی والے ملک میں جرائم برائے نام رہ گئے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر پولیس کے پاس کرنے کے لیے کوئی کام نہیں رہا۔

جاپان میں جرائم کی شرح پچھلے تیرہ سال سے زوال پذیر ہے۔ قتل کی سالانہ شرح وہاں 3 فی ملین ہے جو دنیا میں سب سے کم ہے۔ امریکا میں یہ شرح 40 فی ملین ہے۔ 2015ء کے دوران پستول سے قتل کرنے کا صرف ایک واقعہ پیش آیا تھا۔ ایک زمانے میں جاپان میں جرائم پیشہ گروہوںکا طوطی بولتا تھا مگر پھر پولیس کی سخت محنت ، بے لچک قوانین اور بے نقص نظام انصاف کی بدولت ان کا صفایا ہوتا چلا گیا۔ حد تو یہ ہے کہ انتہائی منظم جرائم پیشہ گروہوں کا بھی نام و نشان مٹ گیا۔

جرائم کی شرح میں نمایاں کمی کے باوجود محکمۂ پولیس میں بھرتیوں کا سلسلہ روکا نہیں گیا۔ اس وقت پولیس اہل کاروں کی تعداد259000  ہے۔ ایک عشرے قبل جب کہ جرائم عروج پر تھے، محکمے کی کل افرادی قوت محض 15000 تھی۔ ان اعدادوشمار سے ظاہر ہے کہ پولیس اہل کاروں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ جرائم کم ہوتے چلے گئے۔

جاپان میں آبادی کے تناسب سے پولیس افسروں کی تعداد بہت سے ممالک سے زیادہ ہے۔ چناں چہ ان جرائم کی تسلی بخش تحقیقات کے لیے بھی اضافی نفری موجود ہوتی ہے جنھیں دوسرے ممالک میں معمولی سمجھ کر نظرانداز کردیا جاتا ہے جیسے سائیکل کی چوری یا قلیل مقدار میں منشیات کی برآمدگی۔ ایک خاتون کے مطابق انھوں نے الگنی پر سے کپڑے غائب ہونے کی شکایت کی۔ کچھ ہی دیر میں دو افسروں سمیت پانچ پولیس اہل کار تحقیقات کے لیے اس کے گھر پہنچ گئے۔ اسی طرح سراغ رسانوں کی مختصر سی فوج ان بائیس افراد کا سراغ لگانے پر مامور کردی گئی جو اپنے ذاتی استعمال کے لیے بھنگ کاشت کررہے تھے۔

درج بالا مثالوں سے ظاہر ہے کہ اب پولیس کے پاس کرنے کے لیے کچھ زیادہ کام نہیں ہے۔ چناں چہ وہ چھوٹی موٹی قانون شکنی کرنے والوں پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔ حتی کہ سرخ اشارے کی خلاف ورزی کرنے پر سائیکل سواروں کو بھی پکڑلیتے ہیں۔ ایک زمانے میں ہمہ وقت قاتلوں، منشیات کے اسمگلروں اور چوروں ڈکیتوں کے تعاقب میں رہنے والی پولیس اب زیادہ تر، گھروں میں بچوں کی مارپیٹ کے مقدمات میں مصروف رہنے لگی ہے جن کا تناسب بڑھتا جارہا ہے۔

جاپان میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی کا ایک اہم سبب یہ ہے کہ بچوں کو امن پسند شہری بنانے کے لیے محکمہ پولیس، والدین کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے۔ والدین کے ساتھ ساتھ براہ راست بچوں کو بھی جرائم سے دور رہنے کے سلسلے میں آگاہی دی جاتی رہتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔