5.5 ٹریلین کا وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا

 آئی ٹی سیکٹر،اوورسیزپاکستانیوں کیلیے مراعات کااعلان متوقع،وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خدوخال کی حتمی منظوری دی جائے گی، کوئی بڑاٹیکس نہیں لگایا جارہا، بجٹ پر بحث 2 ہفتے جاری رہے گی۔ فوٹو: فائل

 آئی ٹی سیکٹر،اوورسیزپاکستانیوں کیلیے مراعات کااعلان متوقع،وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خدوخال کی حتمی منظوری دی جائے گی، کوئی بڑاٹیکس نہیں لگایا جارہا، بجٹ پر بحث 2 ہفتے جاری رہے گی۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد:  وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار آج شام 4 بجے قومی اسمبلی کے اجلاس میں موجودہ حکومت کاپانچواں بجٹ پیش کریںگے تاہم اس سے قبل وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بجٹ دستاویزات کی منظوری دی جائے گی۔ 

ایکسپریس کو دستیاب دستاویزات کے مطابق وفاقی بجٹ کا حجم5.5 ٹریلین روپے ہوگا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں10سے 15 فیصد اضافے، 50 فیصد ایڈہاک الاؤنس تنخواہوں میں ضم کرنے اور ملازمین کیلیے منجمد شدہ ہاؤس رینٹ الاؤنس بھی بحال کیے جانے کا امکان ہے۔

قومی ترقیاتی بجٹ (پی ایس ڈی پی)کاحجم2113 ارب روپے ہوگا جس میں وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم1001  ارب روپے جبکہ صوبوں کے ترقیاتی بجٹ کا حجم 1112 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4000 ارب روپے کے لگ بھگ، دفاعی بجٹ کاحجم 950 ارب روپے، مالیاتی خسارے کاہدف 1.5 ٹریلین روپے اور اخراجات جاریہ کے لیے 4.35 ٹریلین روپے رکھے جانے کی توقع ہے۔ آئندہ مالی سال کے لیے جی ڈی پی کا ہدف 6 فیصد اور مہنگائی (افراط زر) کی شرح 6 فیصد مقرر کی گئی۔سرمایہ کاری کا ہدف 17.2 فیصد مقرر کیا گیاہے۔

بجٹ کے تناظر میں ایف بی آر انتظامیہ نے ایف بی آر ہیڈکوارٹرز کو معمول کے سرکاری کاموں کیلیے بند کردیااور صرف وہی افسران اور اسٹاف ہیڈکوارٹر آئیں گے جن کے نام بجٹ ڈیوٹی کیلیے منظور ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ  وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بجٹ کے خدوخال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی حتمی منظوری دی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ کو بھجوائے جانے والے مسودے میں تنخواہوں میں 10 سے 15 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے اور کہا گیاہے کہ ملازمین کو ملنے والا 50 فیصد ایڈہاک الاؤنس بنیادی تنخواہ میں ضم کرکے 10 فیصد اضافہ دیا جائے تاہم بعد میں اس اضافے کو 15 فیصد کردیا جائے۔ رٹائر ملازمین کی پنشن میں بھی15سے 20 فیصداضافے کی تجویزدی گئی ہے۔ ملازمین کیلیے یوٹیلیٹی الاؤنس کی تجویز بھی دی گئی ہے جبکہ منجمد شدہ ہاؤس رینٹ کو بحال کرنے کی تجویز بھی زیرغورہے۔

بجٹ میں نان فائلرز کیلیے آمدن پر ٹیکس20 سے بڑھا کر25 فیصد تک کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ فائلرز کیلیے آمدن پر ٹیکس ساڑھے 12 سے بڑھاکر 15 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ ٹیکس ریونیو کا تجویز کردہ ہدف حاصل کرنے کیلیے اگلے سال 5 کھرب روپے سے زائد  اضافی ریونیو اکٹھا کرنا ہوگا جس کیلیے نئے ٹیکسوں کانفاذ اور انتظامی و انفورسمنٹ اقدامات کے تحت مجموعی طور پر187 ارب روپے اکٹھے کیے جائیں گے اور باقی 315 ارب معمول کی ریونیوگروتھ اور نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے ساتھ ساتھ ٹیکس واجبات کی ریکوری سے پورا کیا جائے گا۔ ٹیکس ٹو جی ڈی کی شرح کا ہدف 11 فیصد مقررکیا جارہا ہے۔

بانڈز اور سیکیورٹیز کے منافع پر بھی ٹیکس کی شرح بڑھانے کاامکان ہے، کمرشل درآمدکنندگان پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میںکمی کی جائے گی۔ ملک پاؤڈرکی درآمد پر عائدڈیوٹی کی شرح میںبھی کمی کا امکان ہے۔ آئی ٹی سیکٹرکیلیے مراعات کا امکان ہے۔

سمندر پار پاکستانیوں کیلیے بھی مختلف مراعات کا اعلان کیا جائے گا جس میں ہاؤسنگ اسکیم شروع کرنے کی تجویز شامل ہے۔ بجٹ میں کوئی بڑاٹیکس نہیں لگایا جا رہا تاہم تجارت کے فروغ اورمعیشت کی بہتری کیلیے ٹیکسز لگانے کاامکان ہے۔

حکومت زرعی شعبے کی بہتری کیلیے ڈی اے پی اور یوریا کھاد پر سیلز ٹیکس میں نمایاں کمی کرنے جارہی ہے۔ مقامی صنعت کے فروغ کیلیے خام مال پر ڈیوٹیز اور ٹیکسوں میں کمی کرنے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی بزنس ہاؤس ایڈوائزری کمیٹی کے فیصلے کے مطابق وفاقی بجٹ پر بحث 2 ہفتے جاری رہے گی، اجلاس کا دورانیہ صبح 11 سے شام 5 بجے تک مقرر ہوگا، صرف اتوار کو چھٹی ہوگی، وزیر خزانہ 9 جون کو بجٹ پر بحث سمیٹیں گے، 14جون تک وفاقی بجٹ منظور کرلیا جائے گا جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی بجٹ سیشن کے حوالے سے حکمت عملی مرتب کرنے کیلیے آج پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس طلب کیے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔