ڈسکوز سے ایڈوانس ٹیکس وصولی کیلیے ایف بی آر کا بلنگ سافٹ ویئر تبدیل کرنے سے انکار

ارشاد انصاری  جمعرات 1 جون 2017
سافٹ ویئرجولائی2013کے بعد والی پوزیشن پرلانیکی ہدایت،ڈی جی ودہولڈنگ کاجی ایم (ریونیو) پیپکو لاہور کو خط۔ فوٹو: فائل

سافٹ ویئرجولائی2013کے بعد والی پوزیشن پرلانیکی ہدایت،ڈی جی ودہولڈنگ کاجی ایم (ریونیو) پیپکو لاہور کو خط۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد:  فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اربوں روپے کے ریونیو نقصان سے بچنے کیلیے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے ایڈوانس ٹیکس وصولی کیلیے بلنگ سافٹ ویئر تبدیل کرنے سے انکار کردیا ہے اور بلنگ سافٹ ویئر دوبارہ جولائی 2013 سے بعد والی پوزیشن پر واپس لانے کی ہدایت کردی ہے جبکہ اس بارے میں ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے باقاعدہ لیٹر لکھ دیا گیا ہے۔

’’ایکسپریس‘‘ کو دستیاب دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ڈائریکٹر جنرل ودہولڈنگ ٹیکس محبوبہ رزاق کی جانب سے جنرل مینجر (ریونیو) پیپکو واپڈا ہاؤس لاہور کو لیٹر لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ریجنل ٹیکس آفس حیدر آباد کی جانب سے ایڈوانس ٹیکس کٹوتی کیلیے بلنگ سافٹ ویئر میں تبدیلی کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل دائر رکھی ہے اس لیے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 235کے تحت بجلی کے بلوں پر ایڈوانس ٹیکس کی رقم کا تعین کرنے کیلیے جنرل سیلز ٹیکس کی رقم کو نکالا نہیں جاسکتا ہے لہٰذا بلنگ سافٹ ویئر دوبارہ جون 2013 سے بعد والی پوزیشن پر واپس لا جائے جس کے تحت جولائی کے پیریڈ کے بلوں پر ایڈوانس ٹیکس کی کیلکولیشن کی گئی تھی۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ جون 2013سے پہلے بجلی کے بلوں پر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 235 کے تحت ایڈوانس ٹیکس کی رقم کا تعین صرف استعمال شدہ بجلی کے چارجز کی بنیاد پر کیا جارہا تھا اور ایڈوانس ٹیکس کیلکولیٹ کرتے وقت جی ایس ٹی کی رقم منہا کردی جاتی تھی جو کہ خلاف قانون تھا جس کے بارے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے وضاحت طلب کی گئی اور ایف بی آر کی وضاحت کے بعد جولائی 2013 سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے ایڈوانس ٹیکس کی کیلکولیشن کے بارے میں سافٹ ویئر تبدیل کردیا گیا اور ایڈوانس ٹیکس کیلکولیٹ کرتے وقت استعمال شدہ بجلی کے چارجز میں جی ایس ٹی کی رقم کو بھی شامل کیا جاتا ہے اور جی ایس ٹی کی رقم شامل کرنے کے بعد جو مجموعی چارجز بنتے ہیں ان پر ایڈوانس ٹیکس کی کیلکولیشن کی جاتی ہے لیکن بعد میں لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ کے فیصلے کی روشنی میں دو جولائی 2016کو ایک بار پھر بلنگ سافٹ ویئر تبدیل کردیا گیا اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے ایڈوانس ٹیکس کلیکولیٹ کرنے کیلیے استعمال شدہ بجلی کے چارجز میں سے جی ایس ٹی کی رقم نکال دی گئی ہے۔

علاوہ ازیں ایف بی آر کے ود ہولڈنگ ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور موازنہ کیا گیا ہے، اس دوران یہ معلوم ہو اہے کہ بلنگ سافٹ ویئر تبدیل کرکے ایڈوانس ٹیکس کیلکولیشن کیلیے استعمال شدہ بجلی کے چارجز میں سے جی ایس ٹی کی رقم منہا کرنے سے ریونیو کا بھاری نقصان ہورہا ہے اور اس کے بعد ریجنل ٹیکس آفس حیدر آباد نے اسی قسم کے ایشو کے بارے میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل دائر کررکھی ہے اور یہ اسی نوعیت کا معاملہ ہے جس نوعیت کے معاملے میں لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے فیصلہ دیا گیا ہے لہٰذا یہ معاملہ چونکہ سُپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر التوا ہے اس لیے بجلی کے بلوں پر ایڈوانس ٹیکس کیلکولیٹ کرتے وقت جی ایس ٹی کی رقم کو منہا نہیں کیا جاسکتا ہے لہٰذا بجلی پر ایڈوانس ٹیکس کیکلولیٹ کرنے کے لیے بلنگ سافٹ ویئر دوبارہ جون 2013 سے بعد والی پوزیشن پر واپس لا جائے اور اسی سافٹ ویئر کے تحت ایڈوانس ٹیکس کیلکولیٹ کرکے وصول کیا جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔