کراچی کا برقی مستقبل

محمد سعید آرائیں  جمعـء 2 جون 2017

وزیراعظم اور حکومتی حلقوں کی طرف سے مسلسل کہا جارہا ہے کہ آیندہ سال ملک سے لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا اور عوام نے حکومت کے انھی آسروں اور وعدوں پر چار سال توگزار دیے ہیں اور پانچواں سال مشکل سے گزارنے پر مجبور ہیں مگر چار سال کے اختتام پر بجلی کی صورتحال میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی اور عوام ملک بھر میں کراچی سمیت آٹھ سے اٹھارہ گھنٹوں تک ہی لوڈ شیڈنگ برداشت کر رہے ہیں اورحکومت کے قریب یہ گھنٹے نہیں شاید منٹوں کی لوڈ شیڈنگ ہے مگر عوام ہی جانتے ہیں کہ سخت گرمی اور اب رمضان المبارک میں بھی راتوں کو بھی غیر علانیہ لوڈ شیڈنگ کرکے عوام کے صبر کا امتحان لیا جا رہا ہے ۔ بجلی ہونے کے باوجود لوڈ شیڈنگ جان بوجھ کر کراکر حکومت یہ شاید چاہتی ہے کہ عوام پشاور کی طرح گرڈ اسٹیشن پر خود قبضہ کرکے اپنی بجلی خود بحال کرانے پر مجبور ہوجائیں۔

حکومتی بیانات میں ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی سے بھی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا کوئی ذکر نہیں ہوتا کہ کراچی کا برقی مستقبل کیا ہوگا شاید وہ کراچی کو ملک کا حصہ نہیں سمجھتے اور کراچی میں بجلی کی ترسیل کے معاملے سندھ حکومت، وفاقی حکومت اور تمام آئینی ادارے بے بس ہیں۔ نیپرا کے فیصلے جو ملک بھر کے لیے ہوتے ہیں مگرکے الیکٹرک پر فیصلے کا اطلاق نہ ہونے کی فوری وضاحت کردی جاتی ہے۔کراچی میں بجلی کے بحران کے حوالے سے سیاسی جماعتیں اور عوامی نمایندے حکومت سے مکمل مایوس ہوکر عدلیہ سے مداخلت کی اپیلیں کرتے آرہے ہیں۔

جماعت اسلامی کی درخواست پر بھی کے الیکٹرک کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی اورکہا گیا کہ ایسی کارروائی نیپرا کا اختیار ہے اور حکومت کی طرح بے بس نیپرا کچھ نہیں کرتا اور اگر مجبوراً کرتا ہے تو اس کے خلاف کے فیصلے کے خلاف حکم امتناعی مل جاتا ہے مگر عوام کو کہیں سے ریلیف نہیں مل رہا۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور میں کے ای ایس سی کی نجکاری کی تھی جس کا مقصد بجلی کے نظام کو بہتر بنانا تھا ، نجکاری کے اس فیصلے کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں نے برقرار رکھا ہوا ہے۔ ان دونوں بڑی پارٹیوں نے حکومت میں آکر جنرل پرویز مشرف کے سب سے اچھے ضلع حکومتوں کے قیام کو تو فوری منسوخ کردیا جس میں نچلی سطح پر عوام کے منتخب نمایندوں کو مکمل اختیارات ملے تھے اورکمشنری نظام سے نجات ملی تھی مگر کراچی کے عوام کے لیے بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا عذاب 18 سال سے کراچی کے عوام بھگت رہے ہیں۔

پی پی کی سابق وفاقی حکومت نے اپنی سندھ حکومت کے مطالبے پر اپنے پانچ سالوں میں اس بحران کے ذمے داروں کو نہیں پوچھا تو مسلم لیگ (ن) کی حکومت چار سالوں میں پی پی کی سندھ حکومت اور سیاسی جماعتوں کے مطالبات پرکیوں توجہ دیتی۔ اس لیے اس نے بھی خاموشی اختیارکر رکھی ہے۔بجلی کی لوڈ شیڈنگ بڑھانے اور اپنی پیداوار بڑھانے کی بجائے سوئی گیس نہ ملنے اورکبھی حیدرآباد میں بجلی ٹاور گر جانے کا غلط جواز پیش کرنے کی عادت کے الیکٹرک کبھی حکومت بیانات اور عوام کے مطالبات پر توجہ نہیں دیتی بلکہ الٹی دھمکیاں دینے کی اپنی ہی پالیسی پر گامزن ہے کیونکہ اسے پتا ہے کہ ہر ادارہ اس کے آگے بے بس ہے اور کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

پہلی بار کراچی میں کے الیکٹرک کے خلاف جماعت اسلامی سڑکوں پر آئی ہے اور عدالتوں سے بھی انصاف مانگا گیا ہے۔ کراچی کی بڑی جماعتیں بھی آواز بلند نہیں کر رہیں اور اخباری بیانات دے کر عوام کو دھوکا دیا جاتا رہا مگر اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔

جماعت اسلامی کا دھرنا ختم کرانے کے لیے گورنر سندھ نے بھی مداخلت کرکے اور اپنی طرف سے یقین دہانیاں کرا کر احتجاج اور دھرنا ختم کرادیا تھا مگر ان کی کسی بات کو کسی نے اہمیت نہیں دی اور صرف یہ کہہ کر بات ختم کر دی گئی کہ رمضان میں لوڈ شیڈنگ کم کرنے کی کوشش کریں گے مگر ہوا اس کے برعکس کہ لوڈ شیڈنگ گرمی کی شدت کے ساتھ ہی بڑھ گئی اور جہاں کبھی رات کو بجلی بند نہیں کی جاتی تھی وہاں بھی اب بند کرکے شہریوں کو پانی سے بھی محروم کردیا گیا ہے۔ پانی آنے کے وقت بجلی نہیں ہوتی اور بجلی آتی ہے تو پانی بند ہوجاتا ہے اور لوگوں کو رمضان میں وضو کے لیے بھی پانی میسر نہیں آرہا۔

کراچی میں بجلی کے نئے میٹروں پر طویل پابندی کے بعد نئے میٹر لگنا شروع ہوگئے ہیں لیکن سننے میں آ رہا ہے کہ عام گھریلو میٹر لگوانے پر بھی تقریباً 20 ہزار روپے ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں دیگر اشیا زیادہ خریدنے پر وہ کچھ کم قیمت پر مل جاتی ہیں مگر بجلی کے زیادہ استعمال پر فی یونٹ رقم بڑھ جاتی ہے۔ جن گھروں میں میٹر کم ہیں وہاں بجلی مہنگی پڑتی ہے اور نئے میٹر لگوانا مہنگا کرکے بھی عوام کو لوٹا جا رہا ہے۔ پہلے بجلی کے میٹر یا زائد بل کی شکایات کے حوالے سے مفت میں فیصلہ ہو جاتا تھا وہ اب بند کردیا گیا ہے اور اب دادرسی کے لیے وفاقی محتسب کا ریجنل آفس ہے جہاں 80 فیصد درخواستیں کے الیکٹرک کے خلاف آرہی ہیں جہاں مفت شنوائی اور شکایات سنی جا رہی ہیں۔ فیصلہ اسلام آباد سے آتا ہے جس پر بھی کے الیکٹرک مہینوں عمل نہیں کرتا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔