پاکستان کا ایک نیا مقدمہ

عبدالقادر حسن  ہفتہ 3 جون 2017
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

پاناما کیس اگلے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ متحدہ تفتیشی ٹیم سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ مدت کے دوران ہی اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے شبانہ روز کام کر رہی ہے اور اس سلسلے میں اس ٹیم کے ارکان نے کیس سے متعلقہ افراد سے تفتیش کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور اس عمل کو مکمل کرنے کے لیے یہ ٹیم کوئی رو رعایت دینے کے موڈ میں نظر نہیں آ رہی جس کا اظہار انھوں نے ہمارے وزیر اعظم کے بڑے صاحبزادے حسین نواز شریف کو تفتیش کے لیے بلا کر ان کی جانب سے وقت نہ دیے جانے کے شکوہ کے باوجود ان کو پیش ہونے کے احکامات دے کر کیا ہے۔

تفتیشی ٹیم کے رویئے سے اس بات کا اظہار ہو رہا ہے کہ وہ انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ملک کے اس بڑے اور اہم ترین کیس کی گتھیاں جلد از جلد سلجھانے کی   کو شش کر رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں پہلے بھی اس طرح کے معاملات کی تحقیقات کے لیے اس نوعیت کی تحقیقاتی ٹیمیں بنائی گئیں جنہوں نے اپنا کام بھی مکمل کیا لیکن ان کی جانب سے کی گئی تحقیقات منظر عام پر نہ آ سکیں یا ان کو یہ اجازت نہ دی گئی کہ وہ اپنے فیصلے عوام تک پہنچائیں۔ جو ں جوں پاناما کیس میں تحقیقات آگے بڑھ رہی ہیں۔

اس کیس کے نئے نئے پرت کھل رہے ہیں جو کہ اس کیس کے ایک اہم فریق وزیر اعظم پاکستان اور ان کے اہل خانہ کے لیے پریشانیوں میں اضافے کا باعث بھی بن رہے ہیں، جس کا اظہار ان کے وزراء کے ایک جتھے کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر میڈیا پر کیا جا رہا ہے۔ یہ بے چینی کیوں ہے جو کہ کیس کے اہم فریق میں سماعت کے دوران پائی جا رہی ہے۔ گو کہ وزیر اعظم کے بیٹے نے بار بار اس بات کا برملا اعلان کیا ہے کہ ان کو اس کیس کی تفتیش کے بارے میں جتنی بار بلایا گیا وہ شامل تفتیش ضرور ہوں گے لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے دو ارکان کے بارے میں اپنے تحفظات بھی اعلیٰ عدالت میں پہنچائے، لیکن ان کے تحفظات کو رد کر دیا گیا۔

پاناما کیس میں تحقیقاتی ٹیم جس رفتار سے کام کر رہی ہے اس سے لگ رہا ہے کہ پہلی مرتبہ پاکستان میں بنایا جانے والا تحقیقاتی کمیشن اپنی رپورٹ جاری کرنے پر مجبور ہو گا چاہے اس تحقیقات کے نتیجے میں جو بھی حقائق سامنے آئیں وہ حقائق عوام کے سامنے ضرور لائے جائیں گے کیونکہ اس کیس کے پیچھے عوامی طاقت کا زور بہت زیادہ ہے اور عوام اس بات کے لیے بے چین ہے کہ اس کیس سے اس بات کا واضح فیصلہ ہو جانا چاہیے کہ اس ملک میں اشرافیہ کے لیے بھی انصاف کے وہی معیار ہیں جو کہ عام لوگوں کے لیے ہیں۔

وزیر اعظم اور ان کا خاندان چونکہ اس کیس کی براہ راست زد میں ہیں اور اعلیٰ عدلیہ کے تاریخی فیصلے کے بعد اب بار ثبوت کی ذمے داری بھی انھی پر آ چکی ہے ان کو اپنے بیرون ملک کاروبار، اثاثوںاور رہائش گاہوں کی خریداری کے متعلق پاکستان سے بیرون ملک روپے کی منتقلی کے ان قانونی طریقوں کو ثابت کرنا ہے جن کے ذریعے یہ جائیدادیں اور اثاثے بنائے گئے اور پاکستان سے کاروبار کو بیرون ملک منتقل کیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ کے اس اہم ترین کیس میں وزیر اعظم پاکستان قانون کی پاسداری کا اعلان کرتے نظر آتے ہیں۔ انھوں نے ذرایع کے بقول اپنی نجی محفلوں میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ اگر تحقیقاتی ٹیم کے سامنے انھیں پیش ہونا پڑا تو وہ قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ضرور اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔

ہمارے وزیر اعظم سیاست کے میدان میں قسمت کے دھنی ہیں اور سیاست کے دوران انھوں نے درپیش مشکلات کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا ہے اور کامیابی نے ان کے قدم چومے ہیں۔ وہ ہمیشہ کٹھن حالات سے کامیابی سے نبر آزما ہوئے ہیں۔ یہ پہلا کیس ہے جس میں وہ پریشان نظر آتے ہیں اور اس بات کا اظہار سپریم کورٹ کے فیصلے کے وقت نظر آیا تھا جب فیصلے سنائے جانے کے بعد وزیر اعظم ہاؤس میں اتاری گئی تصاویر سے ان کے مطمئن چہروں کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ وہ اس فیصلے کے بارے میں کتنے مضطرب تھے۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اس کیس سے منسلک لوگوں کو روزانہ کی بنیاد پر تحقیقات کے لیے بلا رہی ہے اور ان سے کئی کئی گھنٹوں تک سوالات اور جوابات کا سلسلہ جاری ہے ابھی تک تو صرف وزیر اعظم کے صاحبزادوں حسین نواز اور حسن نواز کو ہی طلب کیا گیا ہے اور وہ اپنی مقدور بھر کوشش سے اپنے خاندان کی بیگناہی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کے علاوہ خود وزیر اعظم کی ذات کو بھی تفتیش کے لیے بلایا جا سکتا ہے۔ قطری شہزادے کو بھی دوبارہ خط کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے کی یاددہانی کرائی گئی ہے اور قطر میں موجود وزیر اعظم کے دیرینہ رفقاء کار اس سلسلے میں لائحہ عمل بنا رہے ہیں کہ قطری شہزادے کا بیان قانونی تقاضوں کو پورا بھی کرے کیونکہ ان کی جانب سے پیش کیا جانے والا خط اپنے اندر تمام خرابیاں سمیٹے ریکارڈ کا حصہ بن چکا ہے۔

ایک طرف تو ان پیشیوں کا عمل جاری ہے اور دوسری طرف اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے اور ایسی خبریں شایع ہو رہی ہیں کہ شاید یہ ٹیم کسی دباؤ کے نتیجے میں اپنی پسند کے نتائج حاصل کرنے کے لیے بنائی گئی ہے، یعنی اس ٹیم کی غیر جانبداری مشکوک قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان اخباری خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے ہماری اطلاعات کی وزیر مملکت مریم اورنگزیب نے سپریم کورٹ سے اس پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی ٹیم کے ارکان کو مسلم لیگ نوازکے کراچی سے منتخب سینیٹر نہال ہاشمی نے ا علانیہ دھمکیاں دیں اور ان کے اور اہل خانہ کے لیے زندگی تنگ کرنے کا بھی واشگاف الفاظ میں بر ملا اظہار کیا جس پر سپریم کورٹ نے تفتیشی ٹیم کو دھمکانے پر ازخود نوٹس لے کر ان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے، جب کہ وزیر اعظم نے نہال ہاشمی سے استعفیٰ بھی لے لیا ہے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں اس سے پہلے بھی پرویز رشید اور مشاہد اﷲ خان اپنی حکومت کے ناجائز دفاع میں اپنی وزاتوں کی قربانیاں دے چکے ہیں۔ نواز لیگ کے ابھی اور نہ جانے کتنے کارکن سیاستدان اپنے آپ کو میاں نواز شریف کی سیاست پر قربان کریں گے۔

ہم تاریخی طور پر اس بدقسمتی کا  شکار رہے ہیں کہ جب بھی ملکی معاملات میں تحقیقات کا مرحلہ ہوتا ہے تو اس کو ہم شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیتے ہیں جو کہ ان تحقیقات پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے اور بعد میں اس کو بنیاد بنا کر ان تحقیقات کو جانبدارانہ قرار دے کر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دے دیا جاتا ہے۔

ان شکوک و شبہات کا اظہار کیو ں کیا جا رہا ہے اور کیا اس سارے تحقیقاتی عمل کو ہی سبوتاژ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ وہ کیا عوامل ہیں جو کہ اس ٹیم کو اعتراضات کے نشانے پر لا کر اس کو جانبدار ثابت کرنے کی کوشش ہو رہی ہے حالانکہ اس کے ارکان کے بارے میں حسین نواز کے اعتراضات کو سپریم کورٹ نے مسترد کر کے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ وہ اس ٹیم کو بھر پور سپورٹ کر رہے ہیں اور مقرر کردہ مدت میں ہی اس کے نتائج چاہتے ہیں۔ اس سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ حالات وزیر اعظم کے لیے کچھ اچھے نہیں جا رہے اور خرابی بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ وزیر اعظم اور ان کے خاندان کی سیاست کا تما م تر دارومدار اس کیس کے فیصلے سے وابستہ ہے اور اس کیس سے بچ نکلنے سے ہی ان کی سیاست بچ سکتی ہے۔ قسمت کے دھنی نواز شریف کی قسمت اس کیس کے سلسلے میں بھی کیا کوئی حیران کن موڑ لے گی اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔