بے ادبی اور شعری ادب

حمید احمد سیٹھی  اتوار 4 جون 2017
h.sethi@hotmail.com

[email protected]

بیٹھے ہوئے سول سرونٹس میں سے ایک نے پوچھا آپ نے بھی تو کئی عام ا نتخابات میں رجسٹریشن و ریٹرننگ آفیسر کے فرائض سرانجام دیے ہیں، آپ کو معلوم ہو گا ریفرنڈم کو چھوڑ کر بتائیے کسی ایک حلقہ انتخاب میں کتنے Postal Ballot پڑ جایا کرتے تھے۔ میں نے جواب دیا یہی کوئی سو پچاس۔ انھوں نے اتفاق کیا اور بولے ’’آئندہ ہونے والے عام انتخابات میں بے شمار پڑیں گے اور بیشتر پوسٹل ووٹر سول اور باوردی ملازم ہوں گے۔‘‘

میں نے پوچھا کیا یہ پوسٹل ووٹر آزاد مرضی والے ہوں گے تو وہ خاموش ہو گئے۔

آزاد مرضی الیکشن سے مجھے جنرل یحییٰ کے دور والا اکلوتا شفاف الیکشن یاد آ گیا جب میں نے لیڈیز پولنگ اسٹیشن میں دیکھا کہ ایک بے حد ضعیف ووٹر عورت کو بیلٹ پیپر تہہ کرنے اور ڈبے میں ڈالنے میں دقت ہو رہی تھی اور میں نے وہاں رک کر بزرگ خاتون سے کہا لائیے میں تہہ کر کے بیلٹ بکس میں ڈالنے میں مدد کر دوں تو اس عورت نے مجھے غصیلے لہجے میں جواب دیا تھا کہ ’’میری پرچی کو ہاتھ نہ لگانا‘‘ اس الیکشن ہی میں فوری طور پر پہچان نہ سکنے کی وجہ سے میں نے اسی پولنگ اسٹیشن کے معائنے کے دوران عقبی دروازے سے اندر آنے والے ایک مرد کو روک کر کہا حضرت یہ تو لیڈیز پولنگ اسٹیشن ہے آپ کہاں آ رہے ہیں جس پر انھوں نے جواباً کہا اور آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔

میں نے جواب دیا کہ میں علاقہ مجسٹریٹ ہوں ڈیوٹی پر ہوں انھوں نے مسکرا کر کہا میں بھی ڈیوٹی پر ہوں۔ اس دوران میں نے انھیں پہچان لیا وہ مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس عبدالستار تھے۔ انھوں نے مڑ کر اپنے اسٹاف افسر سے کہا کہ ’’نوٹ کرو کہ مجھے پوچھ گچھ کے بعد لیڈیز پولنگ اسٹیشن میں داخلے کی اجازت دی گئی ہے۔‘‘ بہرحال یہ تب کی بات ہے اب حالات مختلف ہیں۔

الیکشن کی بات سے ذہن میں آیا کہ ہم بھی عجیب قسم کے بیمار لوگ ہیں۔ مل بیٹھتے ہیں تو خوشگوار گفتگو سے پلٹ کر اچانک ملکی سیاست میں فریق بن کر چھلانگ لگا دیتے ہیں اور لینا نہ دینا زبانی کلامی مارکٹائی تک جا پہنچتے ہیں۔ ان دنوں ہر محفل میں سپریم کورٹ اور اس کے بعد جائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (JIT) میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے دو صاحبزادوں کے مالی معاملات کی تفتیش پر رائے زنی اور تجزیوں کی لوٹ سیل لگی ہوئی ہے۔ اخبارات، ٹیلی ویژن اور دوستوں کی محفلوں میں شریف فیملی کی مبینہ کرپشن زیر بحث پائی جاتی ہے۔ ایک فریق انھیں ملک کا محسن اور عوام کا مائی باپ ثابت کرنے پر بضد ہوتا ہے تو دوسرا انھیں قزاق کا درجہ دینے پر تلا ہوتا ہے۔

چند روز قبل مسلم لیگ (نواز) کا ایک سینیٹر جو وکیل بھی ہے مائیک پکڑے عدلیہ اور JIT پر اتنا برسا کہ بلا شبہ ہر دو کو دھمکیاں دیتا سنا اور دیکھا گیا۔ جو الفاظ اور اشارے اس وکیل سینیٹر نے فرمائے اور دکھائے وہ صریحاً توہین عدالت تھے۔ گزشتہ قریباً ایک سال سے نواز شریف فیملی مالی بدعنوانیوں کے الزامات کی زد میں ہے اور یہ عمران خان کی ہمت ہے کہ وہ الزامات کو سچ ثابت کرنے پر بضد ہے۔ اس تمام عرصہ میں لوگوں کا یہی ایشو پاس ٹائم رہا ہے جو قابل افسوس ہے۔ پاکستان میں قانوناً وزارت عظمیٰ کی مدت دو ٹرمز تک کر دی جائے تو خاندانی سیاست سے نجات ملنی ممکن ہو سکتی ہے۔

یہ کالم لکھتے ہوئے اور سیاست دوراں کی آلودگی سے بدہضمی کا شکار ہونے کے دوران میری نظر لاہور جمخانہ کے سن 2004ء کے میگزین پر پڑی ہے جس کے سرورق پر میرے استاد اور محسن احمد ندیم قاسمی کے علاوہ کئی دیگر مشاہیر کی تصاویر ہیں۔ آج کل سیاست کی پراگندگی نظروں سے دور کرنے کے لیے میں اس میگزین میں چند اشعار نقل کرتا ہوں جو میرے آپ کے موڈ اور مزاج میں شگفتگی کا باعث ہوں گے۔

لوگ کہتے ہیں کہ سایہ تیرےؐ پیکر کا نہ تھا
میں تو کہتا ہوں جہاں بھر پہ ہے سایہ تیراؐ

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا

(احمد ندیمؔ قاسمی)

اجنبیوں سے دھوکے کھانا پھر بھی سمجھ میں آتا ہے
اس کے لیے کیا کہتے ہو وہ شخص تو دیکھا بھالا تھا

(جمیل الدین عالیؔ)

ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ
دیکھتے ہی دیکھتے کتنے بدل جاتے ہیں لوگ

(حمایت علی شاعرؔ)

میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا
عمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا

اشک رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو
اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو

(منیرؔ نیازی)

دوستوں کے حلقے میں ہم وہ کج مقدر ہیں
افسروں میں شاعر ہیں شاعروں میں افسر ہیں

(کمشنر مرتضیٰ برلاس)

کہانی آپ الجھی ہے کہ الجھائی گئی ہے
یہ عُقدہ تب کھلے گا جب تماشا ختم ہو گا

(افتخار عارف)

میں ایسے شخص کو زندوں میں کیا شمار کروں
جو سوچتا بھی نہیں خواب دیکھتا بھی نہیں

(پیرزادہ قاسم)

’’در شاہی پہ دستک دیتے
مرے ہاتھ اور لب چھلنے لگے ہیں

مگر زنجیر در ہلتی نہیں ہے
محافظ سرد خس خانے سجائے سو رہے ہیں

(منصورہ احمد)

در شاہی سے ٹکرا کر صدائیں لوٹ آئی ہیں
مجھے دربان نے اتنا بتایا ہے

ہمارا بادشہ بس بولتا ہے
سن نہیں سکتا

دل کے دریا کو کسی روز اتر جانا ہے
اتنا بے سمت نہ چل

لوٹ کے گھر جانا ہے

(امجد اسلام امجد)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔