عظیم مزاح نگار دلاور فگار

شکیل فاروقی  پير 28 جنوری 2013
S_afarooqi@yahoo.com

[email protected]

بسا اوقات بزرگوں کے منہ سے نکلی ہوئی باتیں حرف بہ حرف درست ثابت ہوتی ہیں۔ مثلاً شوکت تھانوی کے بچپن میں ان کے درج ذیل برجستہ شعر پر تمام بزرگوں کا بہ یک آواز یہ کہنا کہ ’’یہ بچہ بڑا ہوکر ضرور شاعر بنے گا‘‘۔

نہ روٹی نہ سالن میں بھوکا ہوں
اے میرے اﷲ میں کس سے کہوں

اگرچہ دلاور فگار صاحب کے حوالے سے ہمارے علم میں ایسی کوئی بات نہیں، لیکن غالب گمان یہی ہے کہ ان کے بارے میں بھی ان کے لڑکپن کے دور میں کسی پہنچے ہوئے بزرگ نے یہی کہا ہوگا کہ ’’یہ بچہ بڑا ہوکر ایک نابغہ روزگار شاعر بنے گا‘‘۔ دلاور حسین المتخلص فگار 8 جولائی 1929 کو ہندوستان کے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش (یو پی) کے مشہور و معروف مردم خیز قصبے بدایوں میں پیدا ہوئے، جس کی مٹی نے بڑی بڑی نامی گرامی شخصیات کو جنم دیا ہے۔ اگرچہ پاکستان میں بھی فگار صاحب کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی مگر ان کی شہرت کے ڈنکے اس سے بہت پہلے پورے ہندوستان بلکہ پوری اردو دنیا میں خوب زور و شور کے ساتھ بج چکے تھے۔ سچی بات یہ ہے کہ وہ جس مشاعرے میں جاتے اس پر چھا جاتے تھے اور اپنے منفرد کلام اور پڑھنے کے انداز سے مشاعرہ لوٹ لیا کرتے تھے۔ اس سے انکار نہیں کہ ان کے ہم عصروں میں بھی بڑے بڑے مزاح گو شامل تھے، مگر ان کی بات ہی کچھ اور تھی۔ جن لوگوں نے فگار صاحب کو ہندوستان اور پاکستان میں مشاعروں میں کلام پڑھتے ہوئے دیکھا ہے وہ بلا تامل و تکلف اس بات کی گواہی دیں گے۔ ہمارا نہ یہ منصب ہے اور نہ مقام کہ فگار صاحب کا کسی سے موازنہ کریں لیکن خدا لگتی کی بنا پر اتنا ضرور عرض کرنا چاہیں گے کہ مزاح گوئی میں اکبر الہ آبادی کے بعد اگر ہمیں کسی نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے تو وہ دلاور فگار ہی ہیں۔

مزاح نگاری اور مزاح گوئی بڑا جان جوکھوں کا کام ہے۔ یہ تلوار کی دھار پر چلنے کے مترادف ہے۔ اس میں بھول چوک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ زبان و بیان کی معمولی سی لغزش کے نتیجے میں بڑے سے بڑا مزاح گو پھکڑ پن اور ابتذال کی گہری کھائی میں گر سکتا ہے۔ فگار صاحب کا سب سے بڑا کمال یہی تھا کہ وہ کبھی ڈگمگائے نہیں۔ ان کا ایک اور بڑا کمال یہ ہے کہ انہوں نے زندگی کے بڑے بڑے مسائل کی ایک انتہائی ماہر سرجن کی طرح سرجری کی ہے اور طنز و مزاح کے نشتروں کو نہایت احتیاط اور چابکدستی کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ ان کے کلام کی آفاقیت اور ہمہ گیری ان کی مزاح نگاری کا ایک نمایاں وصف ہے۔ ان کے اشعار آج بھی اسی طرح تروتازہ اور حسب حال ہیں۔ عام آدمی کی روز مرہ زندگی کے مسائل کو اپنے منفرد و دلچپ انداز میں پیش کرنے پر انھیں عبور حاصل تھا۔

فگار صاحب نے شعر گوئی کا آغاز 14 برس کی عمر میں 1942 میں کیا۔ بہت جلد انھیں مولوی جام نوائی بدایونی اور مولانا جامی بدایونی جیسے اساتذہ کی صحبت اور رہنمائی میسر آئی جس نے ان کی صلاحیتوں کو نکھار دیا۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے قصبے بدایوں ہی میں حاصل کی اور بعدازاں آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے ایم اے (انگریزی) اور ایم اے (اکنامکس) کی ڈگریاں بھی حاصل کیں۔ اپنے کیرئیر کا آغاز انھوں نے ہندوستان میں درس و تدریس سے کیا اور ہجرت کرکے کراچی آنے کے بعد عبداﷲ ہارون کالج میں بحیثیت لیکچرار کچھ عرصے تک اردو پڑھائی، جہاں فیض صاحب پرنسپل ہوا کرتے تھے۔

فگار صاحب کو صرف شاعری پر ہی نہیں نثر پر بھی عبور حاصل تھا مگر ان کی شہر ت ایک مزاح گو شاعر کے طور پر ہی ہوئی۔ پہلی مرتبہ جب انھوں نے دہلی میں اپنی نظم ’’شاعراعظم‘‘ پڑھ کر سنائی تو ان کی مزاح گوئی کی دھوم مچ گئی اور پھر وہ وقت بھی آیا جب انھیں ’’شہنشاہ ظرافت‘‘ اور ’’اکبر ثانی‘‘ جیسے خطابات سے نوازا گیا جس کے وہ بلاشبہ بجا طور پر مستحق تھے۔ درس و تدریس کے علاوہ وہ کچھ عرصہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ٹاؤن پلاننگ کے طور پر کے ڈی اے سے بھی وابستہ رہے جسے معاشی جبر یا غم روزگار بھی کہا جاسکتا ہے۔ پھر ’’اے روشنی طبع تو برمن بلا شدی‘‘ کے مصداق ان پر ایک کڑا وقت بھی آیا جب انھیں اپنا سایہ بھی گریزاں نظر آیا۔ بس یہی وہ وقت تھا جب ہمیں ان کا انتہائی قرب میسر آیا اور ان کا بیشتر وقت ہمارے ساتھ ہی گزرنے لگا۔ اگر اس عرصہ دشوار کو خیر مستور یا Blessing in Disguise کہا جائے تو شاید یہ مبالغہ نہ ہوگا کیونکہ اس خاکسار کے مشورے کے نتیجے میں ہی وہ شاہکار منظر عام پر آیا جس کا عنوان ’’خوشبو کا سفر‘‘ ہے۔ 100 منتخب ملکی اور غیرملکی آفاقی منظومات کے انگریزی سے اردو میں تراجم پر مشتمل یہ کتاب دلاور فگار صاحب کا ایک بہت بڑا اور لافانی کارنامہ ہے۔ اس ترجمے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ترجمے پر اصل کا گمان ہوتا ہے۔ بس یوں کہیے کہ فگار صاحب نے قادر الکلام کی حیثیت سے ان نظموں کو اردو کے سانچے میں دھال دیا۔ مثلاً ٹی ایس ایلیٹ کی مشہور نظم Moving Starirs کے ایک اقتباس کا ترجمہ بعنوان ’’چلتی سیڑھیاں‘‘ ملاحظہ فرمائیں:

جیسے پت جھڑ میں نرم شاخوں سے
پتیاں نیچے گرنے لگتی ہیں
یونہی زینہ کے نقش میں اکثر
سیڑھیاں چلنے پھرنے لگتی ہیں
دلاور فگار صاحب کی اس منظوم دعا کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیے جس سے انھوں نے ’’خوشبو کا سفر‘‘ کا آغاز کیا ہے:
میرے اﷲ، اے میرے معبود
میری فکر سخن ہو لامحدود
میری فکر ونظر کو وسعت دے
بوئے گل کو سفر کی رخصت دے
میرا فن ہو فراسٹ کا ابہام
کسی صحرا میں ہو مجھے بھی شام

’’خوشبو کا سفر‘‘ کے پیش لفظ میں بعنوان ’’پیش دستی‘‘ کے آخر میں فگار صاحب لکھتے ہیں کہ ’’سوچتا ہوں کہ ترجمہ کا یہ سلسلے یہیں ختم نہ ہو بلکہ کچھ عرصے بعد اسی قسم کا ایک اور مجموعہ پیش کروں‘‘۔ مگر افسوس کہ زندگی اور حالات زندگی نے انھیں اتنی مہلت ہی نہ دی کہ وہ یہ کام سرانجام دیتے جوکہ ان کی کلاہ میں ایک اور سرخاب کے پر کے مترادف ہوتا۔

اگرچہ دلاور فگار صاحب کی وجہ شہرت ان کی مزاحیہ شاعری ہی قرار پائی لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک ہمہ جہت قادر الکلام سخنور تھے، ان ہی کے الفاظ میں ’’لوگ کہتے ہیں کہ میں طنز و مزاح نگار ہوں۔ گویا کہ طنز نگاری شاعری یا کم ازکم سنجیدہ شاعری سے الگ کوئی فن ہے۔ جہاں تک میری طنز نگاری کا تعلق ہے، یہ میری سنجیدہ شاعری ہی کی بنیاد پر مبنی ہوتی دوسری منزل ہے۔ ظاہر ہے کہ بالاخانہ کو گراؤنڈ فلور سے الگ نہیں کیا جاسکتا‘‘۔ شاید بہت کم لوگ اس بات سے آگاہ ہوں گے کہ دلاور فگار ایک منفرد نعت گو بھی تھے۔ دراصل ان کی شخصیت اتنی ہمہ گیر اور پہلو دار تھی کہ ایک مختصر سے کالم میں اس کا احاطہ کرنا ناممکن کی جستجو کے مترادف ہوگا۔ ایک مرتبہ کراچی آرٹس کونسل کے ایک ادبی اجتماع میں انھوں نے نہایت دلچسپ انداز میں اپنے تخیلاتی آسمانی سفر کا قصہ سنایا تھا جس کے دوران فرشتوں نے انھیں جنت میں داخل ہونے سے محض اس بنا پر روک دیا تھا کہ وہ مقررہ وقت سے قبل وہاں پہنچ گئے تھے، فرشتوں کا کہنا تھا کہ وہ واپس جائیں اور پانچ سال بعد وہاں آئیں۔ یہ 31 جنوری 1993 کا واقعہ تھا۔ اس کے تقریباً پانچ سال بعد یعنی 25 جنوری 1998 فگار صاحب نے رخت سفر باندھا اور ملک عدم سدھار گئے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔