کابل دہشت گرد حملے کے بعد بے بنیاد الزامات کومسترد کرتے ہیں، مشیرخارجہ

ویب ڈیسک  اتوار 4 جون 2017
پاکستان پر امن اور مستحکم افغانستان کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا،سرتاج عزیز۔ فوٹو: فائل

پاکستان پر امن اور مستحکم افغانستان کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا،سرتاج عزیز۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد: مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے کابل دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات کو مسترد کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کابل دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 21 مئی کو کابل میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد افغانستان کے الزامات پر گہری تشویش ہے، دہشت گردی کے واقعے کے چند منٹ بعد ہی افغانستان کے اندر اور باہر سے بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر الزامات عائد کئے گئے جب کہ پاکستان پر الزامات وہ عناصر لگا رہے ہیں جنہیں افغانستان میں امن واستحکام میں کوئی دلچسپی نہیں ایسے عناصر اپنے مضموم ایجنڈے کو آگے بڑھا کر پاک افغان تعلقات خراب کرنا چاہتے ہیں جب کہ اس قسم کے الزامات لگا کر اندرونی سکیورٹی کے مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کابل میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کر چکا ہے اور افغان عوام کے دکھ اور درد کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں کیوں کہ ہم خود دہشت گردی کا شکار ہیں اور دہشت گردی کا شکار ہونے کی وجہ سے ہم افغان عوام کا درد محسوس کرتے ہیں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں :کابل میں جنازے کے دوران دھماکوں سے 20 افراد ہلاک

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ افغانستان کو شدید اندرونی چیلنجز در پیش ہیں، منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ میں اضافہ دہشت گردی اور عسکریت پسندی کو مالی مدد فراہم کرتا ہے جب کہ افغان سرزمین پر داعش ودیگر دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی سے تشدد اور سیکیورٹی مسائل میں اضافہ ہورہا ہے اور افغانستان میں منشیات سے حاصل ہونے والی رقم کو دہشت گردی کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے، افغانستان کو ان بڑے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے سیکیورٹی کے نیٹ ورک کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر کو بھی پڑھیں :کابل کے سفارتی علاقے میں بم دھماکے سے 90 افراد ہلاک

مشیر خارجہ نے کہا کہ افغان حکومت کابل بم دھماکے کی شفاف تحقیقات کرا کر ذمہ داروں کا تعین کرے کیوں کہ پاکستان شفاف تحقیقات کی حمایت کرتا ہے جب کہ پر امن اور مستحکم افغانستان ہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔ پاکستان پر امن اور مستحکم افغانستان کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔