لندن اور کابل میں دہشت گردی کی وارداتیں

ایڈیٹوریل  پير 5 جون 2017
لندن اور افغانستان میں دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں کی ٹائمنگ معنی خیز ہے . فوٹو : فائل

لندن اور افغانستان میں دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں کی ٹائمنگ معنی خیز ہے . فوٹو : فائل

افغانستان میں دہشت گردی کے واقعات پر ابھی تبصرے ہو رہے تھے کہ گزشتہ روز لندن میں دہشت گردی کا واقعہ رونما ہو گیا۔دہشت گردی کے اس واقعے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق  7افراد ہلاک ہوئے ہیں‘ افغانستان میں دہشت گردی کے واقعات اور پھر لندن میں ہونے والی دہشت گردی کے طریقہ کار میں بہت فرق ہے۔

افغانستان میں دارالحکومت کابل میں جنازے کے اجتماع میں 3 دھماکے ہوئے جن میں20افراد مارے گئے‘ افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ بھی جنازے میں شریک تھے تاہم وہ ان دھماکوں میں محفوظ رہے‘ ایسا لگتا ہے کہ دہشت گردی کے اس منصوبے کے ماسٹر مائنڈ کا ٹارگٹ افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ تھے لیکن اس دہشت گردی کے منصوبہ سازوں کا یہ ٹارگٹ حاصل نہ ہو سکا۔

کابل میں ہونے والی اس دہشت گردی سے چند روز قبل بھی افغانستان میں دہشت گردی کی واردات ہوئی تھی جس میں بھاری جانی نقصان ہوا تھا‘ افغانستان کے برعکس لندن میں دہشت گردی کا طریقہ یہ اختیار کیا گیا کہ لندن میں ایک ویگن نے لوگوں کو کچلا اور پھر اس میں مبینہ دہشت گرد باہر نکلے اور انھوں نے گولیوں اور چاقوؤں سے لوگوں کو مارا۔ برطانوی پولیس نے ان مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

لندن اور افغانستان میں دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں کی ٹائمنگ معنی خیز ہے۔ برطانیہ کے شہر برمنگھم میں اتوار کو پاکستان اور بھارت کا میچ شروع ہوا۔ اس میچ سے چند گھنٹے پہلے برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں دہشت گردی کی واردات ہو گئی ‘یہ بھی بڑی اہم بات ہے کہ برطانوی سیکیورٹی فورسز نے تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے‘ اگر یہ دہشت گرد زندہ گرفتار ہو جاتے تو یہ پتہ چل جاتا کہ ان لوگوں کا تعلق کس تنظیم سے ہے۔ لندن دہشت گردی سے چند روز پہلے مانچسٹر میں بھی دہشت گردی کی ایک واردات ہوئی تھی‘ مانچسٹر میں دہشت گردی کی واردات ایک معروف گلوکارہ کے کنسرٹ میں ہوئی تھی جس میں بھاری جانی نقصان ہوا۔

یورپی ممالک خاصے عرصے سے دہشت گردی کا شکار چلے آ رہے ہیں‘ بلجیم ‘فرانس اور جرمنی میں بھی دہشت گردی کی وارداتیں ہوئیں۔ لندن میں ہونے والی دہشت گردی میں یہ بات سامنے نہیں آئی کہ دہشت گردوں کا تعلق کس تنظیم سے ہے البتہ برطانوی میڈیا اسے دہشت گردی ہی قرار دے رہا ہے۔ ادھر افغانستان میں ہونے والی دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ 6جون کو کابل میں 25ملکوں کی ایک انتہائی اہم کانفرنس شروع ہو رہی ہے۔ اس کانفرنس کا مقصد افغانستان قیام امن کی راہ تلاش کرنا ہے۔ اس کانفرنس سے پہلے افغانستان میں دہشت گردی کی وارداتیں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔

افغانستان کی انتظامیہ کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے ملک میں ہونے والی دہشت گردی کی ہر واردات کا تعلق کسی نہ کسی حوالے سے پاکستان کی طرف جوڑنے کی کوشش کرتی ہے حالانکہ یہ پالیسی انتہائی غلط ہے۔ افغانستان کے اندر طالبان جنگجو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے افغان سیکیورٹی فورسز پر حملے کر رہے ہیں۔ افغانستان میں داعش کا عمل دخل بھی خاصا بڑھ گیا ‘اس کے علاوہ افغانستان میں کئی اور گروپ بھی برسرپیکار ہیں جن کے ڈانڈے غیر ملکی قوتوں سے اور غیر ملکی ایجنسیوں سے ملتے ہیں۔ افغانستان کی حکومت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک آسان راستہ اختیار کرتی ہے اور الزام پاکستان پر عائد کر دیتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی عفریت ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے ایک دوسرے پر الزام عائد کرنے کے بجائے مشترکہ اور متحدہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ گزشتہ دنوں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں 39اسلامی ملکوں کا ایک فوجی اتحاد قائم ہوا ‘اس اتحاد کا مقصد بھی دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے عالمی فوجی اتحاد قائم کیا جائے۔ اس کے علاوہ مختلف ملکوں میں اس وقت جو لڑائی جاری ہے‘ اس میں دہشت گرد تنظیمیں لڑ رہی ہیں لیکن بدقسمتی سے امریکا‘ روس اور یورپی قوتیں بھی اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں مسلم ممالک ایک دوسرے کے خلاف پراکسی جنگ میں مصروف ہیں۔ جب تک اس صورت حال کا خاتمہ نہیں ہوتا دنیا میں دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ دہشت گرد اپنے ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں اور وہ حکومتوں کی کمزوریوں سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جب تک اس صورت حال کا خاتمہ نہیں ہوتا دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔