حسین نواز کی تصویر… سیاسی محرکات

مزمل سہروردی  پير 5 جون 2017
msuherwardy@gmail.com

[email protected]

پانامہ کے ہنگامہ میں حسین نواز کی تصویر نے ایک مرتبہ پھر رنگ بھر دیا ہے۔یہ تصویر کوئی اتنی اہم نہیں جتنی اہم بنا دی گئی ہے۔ ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ یہ تصویر حکومت نے جے آئی ٹی کے خلاف جاری ایک منظم مہم کی اگلی قسط کے طور پر جاری کی ہے۔

دوسری طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ تصویر تحریک انصاف کے کسی رہنما کے اکاؤنٹ سے جاری ہوئی ہے‘ بہر حال معاملہ کچھ بھی ہو‘ تصویر منظرعام پر آئی ہے‘ ویسے تو یہ کہا جا تا ہے کہ تصویریں بولتی ہیں۔ہر تصویر کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے۔ پڑھنے والے تصویر کو پڑھ لیتے ہیں۔ اسی لیے امتحانوں میں ایک تصویر دیکر اس پر کہانی لکھنے کا کہا جاتا ہے۔

اس تصویر کے سیاسی پہلو پر بات کرنے سے پہلے اس پر ہونے و الے تبصرے جاننا بھی ضروری ہیں۔ ایک رائے یہ بھی سامنے آئی ہے کہ حالات انسان کو وہاں لے جاتے ہیں جہاں اکثر وہ جانا نہیں چاہتا۔ سب جانتے ہیں کہ حسین نواز پاکستان کی سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے لیکن ایک رائے یہ بھی سامنے آئی ہے کہ جے آئی ٹی کی پیشیوں اور اس تصویر نے حسین نواز کا سیاسی کیریئر شروع کر دیا ہے۔ اسی طرح یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھاکی مصداق حسین نواز اپنے انجام کو پہنچ رہے ہیں۔

یہ بھی رائے سامنے آرہی ہے کہ یہ تصویر اس لیے لیک کی گئی ہے تا کہ یہ تاثر قائم کیا جس کے کہ جے آئی ٹی بہت سخت تفتیش کر رہی ہے ۔ اب اس کے بعد بھی دو رائے سامنے آرہی ہیں ایک یہ ہے کہ جب کل کو جے آئی ٹی شریف فیملی کو کلین چٹ دے دے گی تو کون اس جے آئی ٹی کو غلط کہے گا اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ کل جب سزا دی جائے گی تو عوام کواس لیے ذہنی طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ تصویر کی لیک کا الزام ان پر بھی آرہا ہے جو سب کچھ لیک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ ڈرٹی سیاست کی کڑی ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی سیاست کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تصویر شیئر کی گئی ہے۔ پاکستان کی سیاست میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہاں طاقتور کی سیاست ہے۔ لوگ کمزور نہیں طاقتور کو ووٹ دیتے ہیں۔ بالخصوص دیہی علاقوں میں وڈیروں جاگیرداروں اور جیتنے والے گھوڑوں کی سیاست اس بات کی غماز ہے کہ ابھی تک لوگ طاقتور کو وٹ دینا ہی پسند کرتے ہیں۔ ایک ایسی سوچ کی موجودگی میں یہ تصویر یہ ثابت کرتی ہے کہ شریف فیملی اور بالخصوص میاں نواز شریف کی طاقت ختم ہو چکی ہے۔ وہ کمزور ہو گئے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں دیہی علاقوں میں اب بھی تھانہ اور کچہری کے نام پر ووٹ ملتے ہیں۔ اراکین اسمبلی کے لیے علاقہ کا ایس ایچ او بہت اہم ہے۔ لوگ پولیس کے خلاف انصاف لینے کے لیے منتخب نمایندوں کے پا س جاتے ہیں۔ اور اگر پولیس منتخب نمایندہ کی سننا بند کرد ے تواس کی سیاست ختم ہو جاتی ہے۔ ایسے میں حسین نواز کی تصویر یہ پیغام دے رہی ہے کہ میاں نواز شریف تو اپنے بیٹے کی حفاظت نہیں کر سکا۔ آپ کی کیا حفاظت کرے گا۔ ایک عام آدمی اس تصویر سے یہی پیغام لے گا کہ میاں نواز شریف کے اقتدار کا سورج غروب ہو گیا ہے۔ بس کہانی ختم ہو گئی ہے۔ یہ تصویر ن لیگ کے دیہی ووٹ بینک کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

اس لیے اس تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تصویر انھی قوتوں کی جانب سے لیک کی گئی ہے جو اس وقت میاں نواز شریف کی سیاست ختم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ درست ہے کہ اس تصویر کا پانامہ کی تحقیقات پر کوئی اثر نہیں ہے۔ نہ اس کا شریف فیملی کو کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی اس سے شریف فیملی کے جے آئی ٹی کے خلاف کیس کو کوئی تقویت ملتی ہے۔ بلکہ اس تصویر نے جے آئی ٹی کی ساکھ میں اضافہ کیا ہے۔ جو لوگ جے آئی ٹی سے میاں نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کو نااہل قرار دلوانے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کی امیدوں کو دوام بخشا ہے۔

عوام میں اس تاثر کو مضبوط کیا ہے کہ یہ جے آئی ٹی شریف فیملی کو لے بیٹھے گی۔ اس لیے کیا ایسا نہیں ہے کہ اس تصویر سے شریف فیملی کے سیاسی مخالفین کو زیادہ فائدہ ہوا ہے۔ شائد اسی لیے کہا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف کے کسی رہنما نے اس کو شیئر کیا تا کہ یہ وائرل ہو جائے۔ جو لوگ یہ تجزیہ پیش کر رہے ہیں کہ یہ تصویر حکومتی میڈیا سیل کی جانب سے لیک کی گئی ہے۔ انھیں اس بات کا جواب دینا چاہیے کہ اس سے حکومت اور شریف فیملی کو کیا فائدہ حاصل ہو گا۔ایک بات جو کہی جا رہی ہے کہ شریف فیملی مظلوم بننے کی کوشش کر رہی ہے۔ اور یہ تصویر اسی مظلومیت کی کہانی کی قسط ہے۔ وہ عوام میں مظلوم بننا چاہتے ہیں تا کہ لوگوں کو یہ باور کروایا جا سکے کہ ان کے ساتھ بہت ظلم ہو ا ہے۔ اور وہ مظلوم ہیں۔

یہ درست ہے کہ نہال ہاشمی کی بیوقوفی نے حکومت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ نہال ہاشمی نے بے وقت فائر کھول کر ایک ایسے سیز فائر کو توڑ دیا جو حکومت کے مفاد میں تھا۔ حکومت بہت کوشش کر رہی ہے کہ نہال ہاشمی کی بیوقوفی کے نقصانات سے بچا جا سکے۔لیکن کیا یہ تصویر کسی بھی طرح حکومت کو نہال ہاشمی کے نقصانات سے بچنے میں مدد دے سکتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ نہیں۔ اس وقت حکومت اورپانامہ کا مقدمہ سننے والی عدلیہ کے درمیان محاذ آرائی کی ایک کیفیت بن چکی ہے۔

ججز نے نہال ہاشمی کی تقریر پر سخت ریمارکس دیے اور حکومت نے ان سخت ریمارکس پر اپنا ر دعمل دیا۔ جس کے بعد شائد دونوں طرف سے معاملات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ججز نے جے آئی ٹی پر حسین نواز کے تحفظات کو مسترد کرتے ہوئے ان پر تفصیلی فیصلہ جا ری کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں جب حکومت معاملات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ تصویر حکومتی کوششوں پر پانی پھیر رہی ہے ۔ شائد حکومت کی مدد نہیں کر رہی ہے۔

یہ فلسفہ کہ شریف فیملی جے آئی ٹی کے خلاف ایک کیس بنا رہی ہے ۔ یہ تصویر اس کیس کی کڑی ہے۔ شریف فیملی جے آئی ٹی پر جانبداری کا الزام لگا رہی ہے۔ کیا یہ تصویر جانبداری ظاہر کرتی ہے۔ ایسا نہیں ہے بلکہ کہیں نہ کہیں یہ تصویر جے آئی ٹی کی ساکھ میں اضافہ کرتی ہے۔ اس لیے عمومی رائے یہی بنتی ہے کہ اس تصویر سے شریف فیملی کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہو رہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔