دفاع پر اخراجات

ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی  منگل 6 جون 2017

مسلم لیگ نوازکی حکومت نے پارلیمنٹ میں 2017-18کا بجٹ پیش کیا ہے۔ اس بجٹ میں دفاع کے لیے 920ارب روپے ( 8.7ارب ڈالر ) رکھے گئے ہیں۔

دفاعی بجٹ دنیا کے ہر ملک کے اخراجات کا لازمی حصہ ہوتا ہے۔ وہ ملک بھی فوج اور دفاع پر خرچ کرتا ہے جس کے اپنے ہر پڑوسی کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہوں۔ یورپی یونین کے رکن ممالک کو اب ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کا، براعظم امریکا کے ملک کینیڈا کو اپنے کسی پڑوسی کی طرف سے جارحیت کا کوئی خطرہ نہیں، اس کے باوجود یہ سب ممالک اپنی فوجی صلاحیتوں میں مسلسل اضافے کے لیے ہر سال خطیر رقم خرچ کرتے ہیں۔

سال گزشتہ برطانیہ کا دفاعی بجٹ 48ارب ڈالر، فرانس کا 55ارب ڈالر، جرمنی 41ارب ڈالر، ہالینڈ 9 ارب ڈالر، پڑوسیوں سے کسی جارحیت کا خطرہ نہ رکھنے والے ملک کینیڈا کا دفاعی بجٹ 15ارب ڈالر سے زیادہ رہا۔ ایک کروڑ سے کم آبادی والے ملک اسرائیل کا دفاعی بجٹ تقریباً 18ارب ڈالر سالانہ ہے۔ ایک امن پسند قوم جاپان اپنی قومی اور دفاعی صلاحیتوں پر ہر سال 46ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ کرتی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی معاشی اور فوجی طاقت امریکا کا دفاعی بجٹ 600ارب ڈالر سے زائد،  چین کا 200ارب ڈالر سے زائد  اور بھارت کا 55ارب ڈالر سے زائد ہے۔

کئی یورپی ممالک ،کینیڈا، آسٹریلیاوغیرہ اپنے پڑوسیوں سے کسی جارحیت کا خطرہ نہ ہونے کے باوجود دفاع پر اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں لیکن یہ اربوں ڈالر ان میں سے ہر ملک کی جی ڈی پی کا نہایت کم حصہ ہوتے ہیں یعنی ایک سے دو فیصد کے درمیان ۔ ان میں سے کئی ممالک ہتھیار اور دیگر دفاعی ٹیکنالوجیزکو مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیاء اور مشرق بعید کے ممالک مثلاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بھارت، اسرائیل، کوریا، پاکستان اور چند دیگر ممالک کو فروخت کے ذریعے اپنے دفاعی اخراجات سے کئی گنا زیادہ رقم کمالیتے ہیں۔

ایک اہم سوال یہ ہے کہ قومیں اپنے دفاع کومضبوط کیوں بنانا چاہتی ہیں؟ کیا دفاع کا مقصد صرف اپنی نیشنل سیکیورٹی اور اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانا ہے یا دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کا مطلب قومی خود داری کا فروغ اور اپنی معیشت کو ترقی دینا بھی ہے۔

دنیا کا ہر ملک اپنے ڈکلیئرڈ یا ان ڈکلیئرڈ دشمن سے تحفظ کے لیے خود کو تیار رکھنا چاہتا ہے۔ یورپ، امریکا، ایشیا، آسٹریلیا کے براعظموں میں کسی بھی ترقی یافتہ ملک کو دیکھ لیجیے وہ بظاہرکوئی خطرہ نہ ہونے کے باوجود بھی اپنی فوج اور دفاع پر خطیر رقم خرچ کرتا نظر آئے گا، کیوں؟

دفاع پر زیادہ رقم وہ ملک خرچ کرتے ہیں جو اقوام عالم میں اپنے اسٹیٹس کے بارے میں زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ اپنے دفاع کے بارے میں زیادہ حساس ہونا دراصل خوف کی نشانی ہے۔ خوف ایک بہت اہم جذبہ ہے۔ اس سے کئی مثبت کام بھی لیے جاسکتے ہیں اور خوف کے منفی نتائج بھی سامنے آسکتے ہیں۔ خوف کا جذبہ قوموں کو اپنے تحفظ کے اقدامات کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ دشمن کا خوف فوج کے قیام اور دفاعی صلاحیتوں میں مسلسل بہتری کی طرف راغب کرتا ہے۔

بیماریوں اور معذوریوں کا خوف قوموں کو طب کی تعلیم اور صحت کی سہولتوں کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے۔ غربت اور محرومیوں کا خوف افراد اور اقوام کو مسلسل جدوجہد کی طرف مائل کرتا ہے۔ آج کے دور میں ایک عام آدمی کے پاس بھی جو لاتعداد سہولتیں اور آسائشیں ہیں ان میں سے اکثر کے حصول کا سبب خوف کا جذبہ ہی رہا ہے۔ کئی دریافتیں دفاعی مقاصد کے لیے کام کرتے ہوئے سامنے آئیں،بعد میں انھیں مارکیٹ کرنے کے لیے صنعت کاروں اور تاجروں کے حوالے کردیا گیا اور پھر ایک اختراع سے کئی اختراعات ہونے لگیں۔

دشمن سامنے موجود ہو یا مستقبل میں کسی جارحیت کا اندیشہ ہو قوموں کو اپنے دفاع کے لیے بہرحال تیار رہنا چاہیے۔ کسی بھی ملک کی ترقی اس کی سرحدوں کی موثر حفاظت سے منسلک ہے۔ لیکن… سوال یہ ہے کہ معاشی ترقی، سماجی بہتری اور دفاعی اقدامات میں کیا تناسب ہونا چاہیے…؟ایک سوال یہ ہے کہ ایک واضح دشمن کی جارحیت کا ہر وقت خطرہ ہو تو  اس قوم کا طرز عمل اور اس کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟

پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ اسے رقبے، آبادی اور وسائل میں اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن ملک بھارت کے جارحانہ عزائم کا سامنا ہے۔ پاکستان کی مجبوری ہے کہ وہ اپنے دفاع سے کسی بھی طرح غافل نہ ہو۔ پاکستان کو اپنے دشمن بھارت کی طرف سے مسلسل اندیشوں اور خوف کا سامنا ہے۔ دشمن کی جارحیت کے اس خوف سے تحفظ کے لیے پاکستان نے ایٹمی صلاحیت اور بہترین میزائل ٹیکنالوجی حاصل کی۔ اپنے قریبی دوست چین کے تعاون سے لڑاکا طیارہ جے ایف تھنڈر بنایا۔ دفاعی پیداوار کے کئی دیگر شعبوں میں بھی پاکستان تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے لیکن کیا پاکستانی معیشت کے دوسرے شعبے استحکام اور ترقی میں اپنا کردار ٹھیک طرح ادا کررہے ہیں؟

دیکھئے …!  ہمارے ہاں اس حقیقت کو زیادہ اہمیت نہیں دی جارہی کہ سماجی بہتری بھی ملکی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ پاکستان کو اپنے دفاع پر کوئی سمجھوتہ کیے بغیر ملک میں معیاری تعلیم کی شرح اور صحت کے شعبوں میں بہت کام کرنا ہے۔ ملک میں امن وامان اور انصاف کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے، لیکن ہم یہ منازل حاصل نہیں کرپا رہے۔ ہم دفاع پر بجا طور پر اربوں ڈالرز خرچ کررہے ہیں لیکن ان اخراجات کے باوجود خوف کو اپنے لیے استحکام اور ترقی کا ذریعہ نہیں بنا پارہے۔ پاکستانی قوم گزشتہ تین دہائیوں سے حالت جنگ میں ہے۔

ہمیں صرف بھارت سے ہی خطرہ نہیں بلکہ اب ہمیں اندرونی طور پر بھی کئی خطرات کا سامنا ہے۔ ان خطرات سے مقابلہ کرنے کے لیے ایک بہترین فوج کے ساتھ قوم کے ہر طبقے کا کنٹری بیوشن درکار ہے، لیکن ہمارے ملک میں دانشوروں کا ایک طبقہ خامیوں اور خرابیوں کی منفی انداز میں نشاندہی اور نکتہ چینی میں مصروف رہتا ہے۔ ایسی نشاندہی کا مقصد قوم میں بے دلی اورمایوسی پھیلانا نہیں بلکہ خرابیوں کی اصلاح ہونا چاہیے۔ دانشوروں کو طعنہ زن کا نہیں بلکہ معالج اور مصلح کا کردار ادا کرنا چاہیے۔

دانشوروں، صحافیوں، اساتذہ اور ذرایع ابلاغ کا قومی فریضہ ہے کہ وہ پاکستانی سماج کی خامیوں کو اصلاح کی نیت سے سامنے لائیں۔ سماجی سطح پر پاکستان سے کہیں زیادہ خرابیاں بھارت میں پائی جاتی ہیں۔ بھارتی میڈیا میں ان خرابیوں کا ذکر بھی ہوتا ہے لیکن ان خرابیوں کے ذکر کا انداز بھارت کے عمومی امیج کی کسی خرابی کو نمایاں کرنے والا نہیں ہوتا۔ امریکا میں ہر سال ہزاروں خواتین کو صنفی امتیازات حتیٰ کہ جنسی زیادتیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن مغرب سے مرعوب کئی دانشوروں نے ان خرابیوں کو امریکی سماج کی کسی کمزوری یا خرابی سے تعبیر نہیں کیا۔

پاکستان زرعی معیشت سے صنعتی معیشت کی طرف اور دیہی معاشرے سے شہری معاشرے کی طرف سفر کررہا ہے۔ دیہی معاشرے نے کئی رسومات اور رواجوں کو صدیوں سے قبول کررکھا ہے۔ وڈیروں اور مزارعوں کے درمیان سماجی اور معاشی فرق نے بھی دیہی عوام کی سوچ کو بری طرح متاثر کیا ہوا ہے۔ دیہی معاشرے سے شہری معاشرے کی طرف آتے ہوئے ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کئی تبدیلیوں کو بآسانی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے وڈیرے یا دولت مند کی بالادستی اور غریبوں یا ماتحتوں کی حق تلفیوں کو قسمت کا لکھا ہوا سمجھ رکھا ہے۔

کئی سیاست دان اور ایک مخصوص فہم رکھنے والے مذہبی عالم بھی معاشرے کو روایتی طرز پر چلتے رہنے اور جدت کی مزاحمت میں اپنا رسوخ اور زورِ بیان بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔  پاکستانی سماج کی کئی خرابیاں چند مخصوص مائنڈ سیٹ کی وجہ سے ہیں۔ ان خرابیوں کو دورکرنے کے لیے نکتہ چینی اور طنز اور اپنے قومی اداروں کے بارے میں مایوسی یا منفی باتیں پھیلانے کے بجائے اصلاحِ احوال کے طریقے تجویز کرنا چاہئیں۔

پاکستان کو جتنے سنگین خطرات کا سامنا ہے  ان کی وجہ سے دفاع پر خرچ کرنا لازم ہے۔ حکمرانوں، پالیسی سازوں، مالیاتی اور دیگر منتظمین کی ذمے داری ہے کہ ملکی معیشت کی مسلسل ترقی اور سماج کی بہتری کے لیے ایسے پائیدار اقدامات کریں جن سے دفاع کے لیے زیادہ رقم خرچ کرنا بھی پاکستانی قوم کے لیے آسان سے آسان تر ہوتا جائے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔