گورے کرکٹ شائق کے کچھ سوال

سلیم خالق  منگل 6 جون 2017
پی سی بی کے چیئرمین ایک سابق سفارتکار شہریارخان ہیں اور ان کی جگہ صحافی نجم سیٹھی سنبھالیں گے۔ فوٹو/اے ایف پی/فائل

پی سی بی کے چیئرمین ایک سابق سفارتکار شہریارخان ہیں اور ان کی جگہ صحافی نجم سیٹھی سنبھالیں گے۔ فوٹو/اے ایف پی/فائل

بھارت سے میچ ختم ہونے کے بعد میں بوجھل قدموں سے اسٹیڈیم سے باہر جا رہا تھا کہ اچانک برابر سے گزرنے  والے گورے کرکٹ شائق نے مسکرا کر پوچھا’’ شکست پر مایوس ہو‘‘ میں نے ہاں میں جواب دیا تو وہ کہنے لگا کہ ’’میں بھی پاکستانی ٹیم کو بہت پسند کرتا تھا مگر اب اس میں پہلے والا دم خم نہیں رہا، اس کی کیا وجوہات ہیں تم کو تو پتا ہوں گی، اگر تمہارے پاس تھوڑا وقت ہو تو ہم کچھ دیر رک کر بات کر لیں‘‘ مجھے اسے انکار کرنا مناسب نہ لگا، وہ کہنے لگا کہ ’’ پاکستانی ٹیم نے یہاں انگلینڈ میں بھی کئی کارنامے انجام دیے جس کی وجہ سے میرے دل میں گھر کر لیا تھا، مگر اب نجانے اسے کیا ہو گیا، ماضی والی بات نظر ہی نہیں آتی، تمہارا کارڈ اور ہاتھ میں لیپ ٹاپ بیگ دیکھ کر پتا چل گیا تھا کہ تم صحافی ہو آج میں تم سے کچھ سوالات پوچھتا ہوں، اگر مناسب سمجھو تو جواب دے دینا‘‘۔

میں نے کہا کہ جناب ایسی باتیں تو بورڈ والوں سے پوچھیں، خیر پھر بھی مجھے جو معلوم ہوا آپ کو بتا دوں گا،اب اس نے پوچھا  کہ وسیم اکرم میرا فیورٹ بولر تھا، آج بھی اس کی ریورس سوئنگ مجھے یاد ہے، وہ اب کہاں ہے، دنیا بھر سے کوچز ڈھونڈ کر لاتے ہو اسے کیوں نہیں ذمہ داری سونپی جاتی،میں نے جواب میں اسے اپنے موبائل فون پر کلپ دکھائی جس میں وہ اور شعیب اختر مختلف روپ دھارے اوٹ پٹانگ حرکات کر رہے تھے، اسے دیکھ کر وہ حیرت سے دنگ رہ گیا اور کہنا لگا کہ  ’’ کیا یہ واقعی وسیم اور شعیب ہیں، او مائی گاڈ، انھیں یہ کیا ہو گیا، مالی تنگی کا شکار تو نہیں ہو گئے؟

کوچنگ نہیں تو کمنٹری ہی کر لیتے، کیا بھارت میں سچن ٹنڈولکر بھی ایسے شوز کرتا ہے‘‘ میں نے ناں میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ  ہمارے کرکٹرز کو شوق ہے اس لیے شاید ایسا کیا، وہ ارب پتی ہیں مالی تنگی کی کوئی بات نہیں،اب اس نے پوچھا کہ ’’ماجد خان، ظہیر عباس اور جاوید میانداد آج کل کہاں ہے،یقیناً کرکٹ بورڈ میں کوئی عہدہ سنبھالا ہوا ہو گا؟‘‘میں نے جواب دیا نہیں۔

پی سی بی کے چیئرمین ایک سابق سفارتکار شہریارخان ہیں اور ان کی جگہ صحافی نجم سیٹھی سنبھالیں گے، اب وہ پھر حیرت زدہ ہو کر کہنے لگا ’’سفارتکاروں اور صحافیوں کا کرکٹ بورڈ میں کیا کام‘‘ میں نے چڑ کر جواب دیا یہ تو آپ انہی سے پوچھیں پھرتلخی محسوس  کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ایسا ہی ہوتا ہے، وہاں وزیر اعظم پی سی بی کے سرپرست اعلیٰ اور وہی اپنی منظور نظر شخصیات کو نوازتے ہیں،’’ کیا بہت تنخواہ ملتی ہے جو لوگ کرکٹ بورڈ میں آنا پسند کرتے ہیں‘‘ یہ اس کا اگلا سوال تھا، سب کچھ  بتا دوں تمہیں، میں نے دل میں سوچا  مگر سوچا کہ ویسے ہی پاکستانیوں کا دنیا بھر میں امیج خراب ہے، بدتہذیبی دکھائی تو اور غلط بات ہو گی لہذا جواب دینے لگا کہ چیئرمین کا عہدہ ویسے تو اعزازی ہے مگر فوائد کسی ملٹی نیشنل کمپنی کے سی ای او سے بھی زیادہ ہیں۔

اہلیہ کے ساتھ غیرملکی دورے، فائیو اسٹار ہوٹلز میں قیام، وی وی آئی پی پروٹوکول، تمام یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی، ملازمین اور بھی بہت زیادہ سہولیات حاصل ہوتی ہیں، سب سے بڑھ کر ہر وقت میڈیا کا توجہ کا مرکز بنے رہنا تو ہر کسی کو ہی اچھا لگتا ہے، ’’مگرانگلینڈ میں تو ایسا نہیں ہوتا‘‘ وہ بولا، اسی لیے تو انگلش کرکٹ آگے بڑھتی جا رہی ہے، یہ میرا جواب تھا،’’ تمہارے ملک میں کیا کوئی کرکٹ اکیڈمی نہیں جو نیا ٹیلنٹ سامنے نہیں آتا‘‘۔

گورے کے اس سوال پر میں نے بتایا کہ نیشنل اکیڈمی موجود اور اس کے کئی کوچز  ماہانہ لاکھوں روپے تنخواہیں پا رہے ہیں،’’گڈ اس کا مطلب ہے موجودہ کوچنگ اسٹاف میں اکیڈمی کے بھی کئی لوگ ہوں گے‘‘ اس نے یہ کہا تو میں نے فوراً ہی غلط فہمی دور کر دی کہ ایسی کوئی بات نہیں ، شاہد اسلم کے سوا تمام غیرملکی ہیں، اظہر محمود بھی اب برطانوی شہری بن چکے،اکیڈمی میں میرٹ کا فقدان ہے، ان دنوں کوچز کی کارکردگی جانچنے کا کام جاری ہے اور لیول فور میں فیل ہونے والے ایک کوچ کبیرخان  پاس ہونے والوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

گورا مزید حیران ہوا اور کہنے لگا’’ میں نہیں مانتا ، شکست کے دکھ کی وجہ سے تم ایسی باتیں کر رہے ہو‘‘ جواب میں اسے میں نے اپنے موبائل فون میں موجود لیول فور امتحان کے نتائج دکھائے تو وہ کہنے لگا’’ ایسی باتیں تم میڈیا والے کیوں منظر عام پر نہیں لاتے‘‘ میں نے جواب دیا  کئی بار نشاندہی کی جا چکی مگر حکام نے ایکشن نہیں لیا، تو اس نے کہا’’ اب مجھے سمجھ آ رہا ہے  کہ پاکستانی کرکٹ  کیوں تباہی کی جانب گامزن ہے،خیر میں نے تمہارا بہت وقت لے لیا اب ایک، دو باتیں ہی اور پوچھوں گا، میچ کے دوران میرے ساتھ پاکستانی شائقین کا ایک گروپ بیٹھا تھا وہ بار بار نعرہ لگاتے جو مجھے سمجھ نہیں آتا، بعد میں ان سے پوچھا تو بتایا کہ سرفراز دھوکا نہیں دیتا،وہاں شور اتنا تھا کہ زیادہ بات نہیں ہو سکتی تھی، تم ہی بتا دو ایسا کیوں کہا جاتا ہے‘‘ دراصل یہ ایک بھارتی فلم کا ڈائیلاگ ہے کہ سرفراز دھوکا نہیں دے گا، ’’اچھا مگر بھارت تو تم لوگوں کا دشمن ہے، یہاں میچ میں بھی سب ایک دوسرے کو کھا جانے والی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے، اس  کی فلموں کے ڈائیلاگ تک یاد ہیں‘‘۔

میں نے جواب دیا کہ ہاں ہمارے ملک میں بھارتی فلموں کی  باقاعدہ سینما گھروں پر نمائش ہوتی ہے اور شوز ہاؤس فل جاتے ہیں، اس پر وہ کہنے لگا کہ ’’اب تم مجھے کنفیوژ کر رہے ہو‘‘ ایسے میں میرے فون کی گھنٹی بجی، دوسری جانب نسیم صدیقی تھے،انھوں نے  جگہ بتائی کہ وہاں آجاؤ پھر واپس لندن چلتے ہیں، میں بھی اب اس انگریز سے پیچھا چھڑانا چاہ رہا تھا، میں نے کہا کہ بہت باتیں ہو گئیں جناب اب مجھے جانا ہے،اس نے  گرمجوشی سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا ’’تھینک یو ویری مچ، اب مجھے کچھ کچھ اندازہ ہو چکا کہ پاکستانی  ٹیم کیوں اس حال میں پہنچی ہے‘‘ میں واپس جانے لگا تو محسوس ہوا کہ قدم مزید بوجھل ہو چکے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔