لندن برج حملہ ؛ جہلم میں خرم کے اہلخانہ کے ہوٹل میں سرچ آپریشن

تیسرا حملہ آور مراکشی سویف زغبہ نکلا، انتہا پسندوں کے شہریوں پر حملے قابل مذمت ہیں، میر لندن صادق خان، آبدیدہ نظر آئے
(فوٹو: فائل)

تیسرا حملہ آور مراکشی سویف زغبہ نکلا، انتہا پسندوں کے شہریوں پر حملے قابل مذمت ہیں، میر لندن صادق خان، آبدیدہ نظر آئے (فوٹو: فائل)

جہلم /  اسلام آباد /  لندن: جہلم میں سیکیورٹی ایجنسیوں نے لندن برج حملے میں مبینہ طور پر ملوث پاکستانی حملہ آور خرم شہزاد بٹ کے اہلخانہ کے ہوٹل میں سرچ آپریشن کیا۔ ایک نیوز چینل کے مطابق جی ٹی روڈ پر مجاہد آباد کے علاقے میں قائم ایک ہوٹل کا سرچ آپریشن کیا گیا، علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ سرچ آپریشن صبح میں کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق پولیس نے انسداد دہشتگردی ڈیپارٹمنٹ اور خصوصی سیکیورٹی برانچ کے اہلکاروں کےساتھ خرم شہزاد بٹ کے ایک عزیز کے ریسٹورنٹ میں سرچ آپریشن کیا۔ ذرائع نے تجویز پیش کی کہ خرم شہزاد بٹ پاکستان میں رہائش کے دوران بنیاد پرست نہیں تھا اور اس کے اہلخانہ کا کسی مذہبی جماعت سے کوئی تعلق ہے۔ لندن حملوں کاماسٹر مائنڈپاکستانی نژاد خرم شہزاد بٹ23 سال میں صرف 2 بار پاکستان آیا، خرم شہزادبٹ کاتعلق جہلم سے ہے جو(ن) لیگ جہلم کے سٹی صدراورمرکزی انجمن تاجران کے صدرشاہدرسول ڈاراورناصرڈارکا بھانجا ہے۔ خرم شہزادکے تین بھائی اورایک بہن ہے جبکہ آبائی گھرمجاہدآبادمحلہ چوہدریاں میں ہے۔ 1998ء میں خرم شہزاد کا والدسیف بٹ اپنے خاندان سمیت برطانیہ رہائش پذیرہوگیاتھا۔ خرم بٹ کالعدم تنظیم المہاجرون کارکن بھی ہے، گزشتہ ماہ اسے مشرقی لندن میں عام انتخابات میں حصہ لینے کی ترغیب دیتے ہوئے دیکھاگیا۔

برطانوی پولیس ذرائع کے مطابق خرم بٹ ابوزیتون کے نام سے بھی مشہوررہا،اسے ایک جمنازیم میں ایبس کے نام سے بھی پکاراجاتاتھا۔ خرم شہزاد بٹ4 سال قبل اپنے رشتہ داروں سے ملنے پاکستان آیاتھا۔ ایک ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خرم بٹ کے چچا ناصر ڈار نے بتایا ان کے بھتیجے نے اپنی پسند سے دوست کی بہن سے2013ء میں شادی کی جس کے بعد مذہب کی جانب مائل ہوا، اس کا دوست مذہبی اور باریش شخص تھا جبکہ اس کی والدہ گوری تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ لندن حملوں کے بعد پولیس نے پہلی بار ان سے رابطہ کیا ہے۔ ناصر ڈار نے لندن حملوں میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔ خرم شہزادکے ماموں ناصرڈارنے صحافیوں سے گفتگو میں کوئی ویڈیوبیان دینے سے گریزکیا اورکہا میرایا میری فیملی کا خرم شہزاد سے کوئی تعلق نہیں، خرم شہزادبرطانوی نیشنلٹی ہولڈر ہے اسے پاکستانی بتاکر پاکستان اور میری فیملی کو بدنام کرنیکی کوشش کی جارہی ہے اگرخرم شہزادکسی دہشت گردی کے واقعہ میں ملوث ہے تووہ اس کاخودذمہ دارہے، مجھے یامیری فیملی کواس واقعہ سے دوررکھا جائے۔

تحقیقات کے مطابق خرم بٹ ویسٹ منسٹر کے ٹیوب سٹیشن پر ملازم تھا ۔ پولیس کے مطابق اس کاتعلق سات جولائی2005ء میں لندن میں خودکش دھماکوں کے ملزم محمدصدیق خان سے بھی تھا۔ این این آئی کے مطابق برطانوی پولیس کاکہناہے خرم بٹ آن لائن ویڈیوزدیکھ کر انتہا پسندبنا، اس کے حملے کاپاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔خرم بٹ کے پڑوسیوں کاکہناہے خرم کاحلیہ ایساتھاکہ پاکستانی کمیونٹی اس سے کتراتے تھے۔ دوسری طرف لندن برج پر پیش آنیوالے دہشتگردی کے واقعے میں ملوث تیسرے حملہ آور کی شناخت یوسف زغبہ کے نام سے ہوئی ہے جو اطالوی مراکشی شخص ہے جبکہ اس کی والدہ ان دنوں اٹلی میں رہائش پذیر ہیں۔

گزشتہ روز 2 حملہ آوروں کی شناخت ہوئی تھی جن میں پاکستانی نژاد خرم بٹ اور لیبیائی نژاد رضوان راشد شامل تھے۔ این ایچ ایس انگلینڈ کا کہنا ہے کہ اب بھی 36 افراد ہسپتال میں موجود ہیں جن میں سے 18کی حالت نازک ہے۔ لندن برج میں دہشتگرد حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں منگل کو برطانیہ میں عمارتوں پر سوگ میں یونین جیک سرنگوں رکھا گیا، دریائے ٹیمز کے کنارے دعائیہ تقریب ہوئی جس میں برطانیہ بھر سے شہریوں نے شرکت کی جبکہ ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی، لندن ایمبولنس سروس کے ہیڈ کوارٹرز پر منعقدہ تقریب میں میئر لندن صادق خان بھی خصوصی طور پر شریک ہوئے جو آبدیدہ نظر آئے، تقریب میں بارش کے باوجود ہزاروں افراد جمع ہوئے، اظہار یکجہتی کیلئے شرکا پھول اور دل کی شکل میں بنے غبارے لے کر آئے۔ تقریب میں شریک لوگوں نے ہاتھوں میں بینرز بھی اٹھا رکھے تھے۔

لندن کے میئر صادق خان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ انتہا پسندوں کے شہریوں پر حملے قابل مذمت ہیں۔ ایک نیوز چینل کے مطابق برطانیہ میں خوف کی فضا برقرار ہے۔ لندن حملوں کے بعد سے ملک میں سکیورٹی ہائی الرٹ پر ہے اورتحقیقات نے نیارخ اختیار کرلیا۔ برطانوی میڈیا کے مطابق ایم آئی فائیو اور پولیس نے 2015 میںخرم بٹ سے تفتیش کی تھی اوراسے اس بنا پر رہاکردیاگیاکہ وہ ممکنہ طورپر دہشت گرد ہو سکتاہے۔ اس پرمیئر صادق خان اوروزیرخارجہ بورس جانسن نے پولیس کوآڑے ہاتھوں لیا۔ میئرلندن نے کہاپولیس اس حوالے سے اپناموقف بیان کرے کہ جب خرم بٹ کی دہشتگردانہ کارروائیوں سے وہ واقف تھی تو اس پرکارروائی کیوں نہیںکی گئی؟ برطانوی وزیرخارجہ نے بھی ایم آئی فائیو سے جواب تحریری طورپرجمع کرانےکامطالبہ کیاہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔