’’جب تک ہمت ہے، یہ سلسلہ جاری رکھوں گی‘‘

ع۔ر  جمعرات 8 جون 2017
بوڑھی عورت 40 سال سے فوجیوں کو خط لکھ رہی ہے۔ فوٹو : فائل

بوڑھی عورت 40 سال سے فوجیوں کو خط لکھ رہی ہے۔ فوٹو : فائل

اٹھانوے سالہ ایلین کُوپر امریکی ریاست کیلے فونیا کی رہائشی ہے۔ 1971ء کی بات ہے۔ اس کے نوجوان بیٹے لیری کو دوسالہ لازمی فوجی تربیت مکمل کرکے گھر پر آئے ہوئے چند ہی روز ہوئے تھے کہ اس کا بُلاوا آگیا۔ معلوم ہوا کہ اسے امریکی مفادات کی جنگ کا ایندھن بننے کے لیے ویت نام بھیجا جارہا ہے۔

ایلین اکلوتے بیٹے کی میدان جنگ روانگی کے خیال سے بے حد پریشان تھی، مگر اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ لیری کی روانگی کے چند روز کے بعد اس نے بیٹے کو پہلا خط لکھا اور اس کی خیریت دریافت کی۔ جواباً لیری نے تحریر کیا کہ وہ خیریت سے ہے اور ماں کا خط پہنچنے سے اسے بہت حوصلہ ملا ہے۔ ماں بیٹے کے درمیان خط و کتابت کا سلسلہ 1975ء میں جنگ کے خاتمے تک جاری رہا۔ خوش قسمتی سے لیری جنگ کا ایندھن بننے سے محفوظ رہا تھا اور ماں کے پاس لوٹ آیا تھا۔جنگ نے اس کے اعصاب پر بہت بُرا اثر ڈالا تھا۔ لیری اب عمررسیدہ ہوچکا ہے مگر اس جنگ کے اثرات وہ آج بھی محسوس کرتا ہے۔

لیری سے خط وکتابت کے دوران ہی ایلین کو اندازہ ہوگیا تھا کہ بیت سے فوجی ایسے تھے جنھیں خط لکھنے والا کوئی نہ تھا، کوئی ان کی ڈھارس بندھانے والا نہیں تھا۔ لیری کی گھر واپسی کے بعد ایلین نے سوچا کیوں نا وہ اپنی فوج کے بہادر سپوتوں کی حوصلہ افزائی کا عمل جاری رکھے۔ چناں چہ اس نے فوجی جوانوں کے نام خطوط لکھنے شروع کردیے۔

چالیس برسوں کے دوران وہ سات ہزار سے زائد خط بھیج چکی ہے۔ اس کے لکھے ہوئے خطوط کم از کم چار صفحات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ہر خط وہ اپنے ہاتھ سے لکھتی ہے اور اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ کوئی بھی دو خطوط ایک جیسے نہ ہوں۔ خطوط میں وہ جوانوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، انھیں دل چسپ لطیفے سناتی، اور اپنے معمولات سے آگاہ کرتی ہے۔ کوئی دل چسپ اور غیرمعمولی واقعہ پیش آجائے تو وہ بھی بیان کردیتی ہے۔ فوجی جوان اس کے خطوط پاکر خوش ہوتے ہیں۔ وہ اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جوابی خطوط کے ساتھ بعض اوقات تحائف بھی روانہ کرتے ہیں۔

پیرانہ سالی کے باعث ایلین کے ہاتھوں میں پہلے جیسی طاقت نہ رہی، وہ چند سطریں لکھنے کے بعد تھک جاتی ہے۔ اس کے باوجود ایلین کا کہنا ہے جب تک ہمت ہے وہ یہ سلسلہ جاری رکھے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔