برمنگھم میں شائقین کا جوش و خروش

سلیم خالق  جمعرات 8 جون 2017
پاکستانی بولرز نے آج کئی یارکرز بھی کیے جنھیں دیکھ کر ماضی کی یاد تازہ ہو گئی۔ فوٹو: اے ایف پی

پاکستانی بولرز نے آج کئی یارکرز بھی کیے جنھیں دیکھ کر ماضی کی یاد تازہ ہو گئی۔ فوٹو: اے ایف پی

’’تم جیتو یا ہارو ہمیں تم سے پیار ہے‘‘ جب کبھی پاکستانی ٹیم کسی میچ میں فائٹ کر کے شکست کا شکار ہو تو بیشتر ٹی وی چینلز یہی گانا لگاتے ہیں، مجھے ہنسی بھی آتی کہ یہاں لوگ کھلاڑیوں کو برا بھلا کہہ رہے ہیں اور چینلز کا انداز الگ ہے، مگر آج ایجبسٹن آ کر احساس ہوا کہ واقعی شائقین ٹیم سے بیحد محبت کرتے ہیں، بھارت سے میچ میں گرین شرٹس بدترین ناکامی کا شکار ہوئے، لوگوں نے پلیئرز پر غصے کا بھی اظہار کیا، ایسے میں لگ رہا تھا کہ شاید جنوبی افریقہ سے میچ میں زیادہ کراؤڈ نہیں آئے گا، مگر اندازے غلط ثابت ہوئے، جب لندن سے برمنگھم پہنچا تو اسٹیڈیم کے باہر وہی ماحول پایا جو بھارت کیخلاف مقابلے سے قبل تھا۔

قومی پرچم لیے شائقین کی بڑی تعداد موجود تھی، بیشتر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے، کئی نے اپنے چہروں پر جھنڈے پینٹ کرا رکھے تھے، ایسے میں بڑی عمر کے ایک صاحب ’’ٹکٹ چاہیے، ٹکٹ چاہیے‘‘ کی سرگوشی کرتے ہوئے بھی قریب سے گذرے، شاید وہ بلیک میں ٹکٹیں بیچ رہے تھے، میں نے وہاں موجود ایک گروپ سے پوچھا آپ لوگوں کو تو پہلا میچ ہارنے پر بیحد مایوسی ہوئی ہو گی۔

ایسا خیال تو دل میں نہیں آیا کہ آج اسٹیڈیم نہیں جانا تو ان میں ایک لڑکے نے جواب دیا کہ’’ وقتی غصہ تھا جو ختم ہو گیا، اگر بھارت کے سوا کسی اور ٹیم سے ہارتے تو اتنا افسوس نہیں ہوتا، مگر کھلاڑیوں نے فائٹ بھی نہیں کی اس لیے زیادہ مایوسی ہوئی تھی، مگر یہ ہمارے ملک کی ٹیم ہے، ہم رہتے انگلینڈ میں مگر دل پاکستان کیلیے ہی دھڑکتا ہے، اپنے پلیئرز کو ہم سپورٹ نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا‘‘ یہ باتیں سن کر میں بیحد متاثر ہوا۔

یہ حقیقت ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی سرزمین سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں، پھر جب پریس باکس میں بیٹھے تھوڑی دیر ہوئی ہو گی تو دیکھا کہ اسٹیڈیم ہاؤس فل تو نہیں ہوا مگر بیشتر حصہ بھر چکا تھا ، زیادہ تر لوگ پاکستانی جھنڈے تھامے اور گرین شرٹس پہنے ہوئے تھے، وقفے وقفے سے ’’دل دل پاکستان‘‘ گانا چلایا جاتا تو شائقین کا جذبہ مزید بڑھ جاتا، پہلی اننگز میں ٹیم نے اپنے مداحوں کومایوس نہیں کیا، مجھے ڈر تھا کہ ابتدائی میچ میں ناقص کارکردگی کے بعد شاید ورلڈ نمبر ون کیخلاف ہماری آٹھویں پوزیشن کی حامل سائیڈ دباؤ کا شکار ہو مگر خلاف توقع آغاز بہت اچھا ہوا، فیلڈنگ بھی بہترین رہی، حسن علی نے ربادا کا جو کیچ تھاما وہ قابل دید تھا، پیسرز اور اسپنرز نے بھی اپنا کردار بخوبی نبھایا، البتہ مجھے سرفراز احمد کی کپتانی میں بعض خامیاں نظر آئیں۔

اگر وہ درست حکمت عملی اختیار کرتے تو پروٹیز کو 200 رنز سے پہلے ہی ٹھکانے لگایا جا سکتا تھا، مگر اس سے بڑی غلطی کیا ہو گی کہ میچ میں بہترین بولنگ کرنے والے حسن علی اور عماد وسیم کوٹے کے مکمل اوورز ہی نہ کر سکے، خیر انسان غلطیوں سے ہی سیکھتا ہے، سرفراز بھی امید ہے جلد اپنے انداز قیادت میں بہتری لائیں گے، اس میچ میں جنید خان اور فخر زمان کو کھلایا گیا، درست سلیکشن کے مثبت اثرات دکھائی دیے، جنید نے اچھی بولنگ کی جبکہ فخر زمان نے گوکہ رنز تو 31 بنائے مگر اس دوران پُراعتماد بیٹنگ سے اپنی صلاحیت ثابت کر دی، ہمیں ایسے ہی نوجوانوں کو مواقع دینا ہوں گے۔

ہو سکتا ہے وہ فوراًکامیاب نہ ہوں لیکن سیٹ ہو کر یقیناً کارنامے انجام دیں گے، کم از کم ایسے پلیئرز بار بار آزمائے ہوئے نام نہاد سینئرز سے تو بہتر ثابت ہوں گے، فخر زمان نے شعیب ملک سے ون ڈے کیپ وصول کی ، امید ہے وہ آئندہ ملک کیلیے بڑی اننگز کھیلنے میںکامیاب رہیں گے۔

پاکستانی بولرز نے آج کئی یارکرز بھی کیے جنھیں دیکھ کر ماضی کی یاد تازہ ہو گئی، خصوصاً عامر کے زوردار یارکر پر ملر کے قدم اکھڑنا قابل دید لمحہ تھا، کھلاڑیوں نے فیلڈ میں جارحیت بھی دکھائی اور باڈی لینگوئج بھارت کیخلاف میچ کے مقابلے میں مختلف رہی، البتہ ایسا محسوس ہوا کہ ابتدا میں زیادہ وکٹیں لینے کے بعد ٹیم سہل پسندی کا شکار ہو گئی، اسی لیے جنوبی افریقہ نے 219رنز بنا لیے، ساتویں اور آٹھویں وکٹ کیلیے 95 رنز بننا اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ اب بھی ٹیم میں کئی مسائل موجود جنھیں جلد حل کرنا ہو گا۔

چیمپئنز ٹرافی رمضان المبارک میں ہو رہی ہے، میں نے ٹیم کے میڈیا منیجر رضا راشد سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ کھلاڑی میچ کے سوا دیگر دنوں میں روزے رکھتے ہیں، جنوبی افریقی ٹیم میں بھی 2 مسلمان کھلاڑی ہاشم آملا اور عمران طاہر موجود ہیں،عمران کو حریف کیمپ میں دیکھ کر افسوس بھی ہوتا ہے کہ ہم اپنے خراب سسٹم کی وجہ سے ایک باصلاحیت کھلاڑی سے ہاتھ دھو بیٹھے، اگر انھیں درست وقت پر موقع مل جاتا تو جنوبی افریقہ ہجرت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

آج میڈیا سینٹر میں بھارت کے سابق کپتان روی شاستری اور سابق پروٹیز قائد گریم اسمتھ سے بھی مختصر ملاقاتیں ہوئیں، دونوں کمنٹری پینل میں شامل ہیں، وہیں پی سی بی کے ڈائریکٹر میڈیا بھی دکھائی دیے، انھوں نے شکوہ کیا کہ ’’آپ نے لکھ دیا کہ میں آج کے میچ میں نہیں آؤں گا‘‘ میں نے انھیں بتایا کہ آپ نجم سیٹھی صاحب کے ساتھ لندن گئے تو ایسا محسوس ہوا واپس نہیں آئیں گے،آپ کی تین قریبی شخصیات نے بھی اس کی تصدیق کر دی، خیر آج واپس آ گئے اچھی بات ہے، میچ سے لطف اندوز ہوں، سنا ہے چیئرمین شہریارخان بھی میچ دیکھنے آئے ہیں مگر ان سے میری ملاقات نہیں ہوئی۔

جس وقت میں یہ سطور تحریر کر رہا ہوں پاکستان کی 2 وکٹیں گری ہیں، بظاہر پوزیشن بہتر مگر بیٹنگ لائن کا کوئی بھروسہ نہیں، اگر آج فتح مل گئی تو پھر سری لنکا کیخلاف کامیابی سیمی فائنل میں پہنچا دے گی، مگر ابھی کوئی حتمی بات کہنا درست نہ ہوگا لہذا کل تک انتظار کر لیتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔