جنگلی حیات کی پناہ گاہ ’’لنگھ جهيل‘‘

نبیل ابڑو  ہفتہ 10 جون 2017
صوبائی حکومت کے محکمہ جنگلی حیات کے زیر نگرانی اِس جھیل کو جنگلی حیات کی پناہ گاہ بھی قرار دیا گیا ہے۔

صوبائی حکومت کے محکمہ جنگلی حیات کے زیر نگرانی اِس جھیل کو جنگلی حیات کی پناہ گاہ بھی قرار دیا گیا ہے۔

صبح سویرے جھیل کے ساحل پر بیٹھی کوئیل کی ’کوکو‘ اور چڑیا کی ’چو چو‘ سن کر میرے دل و دماغ تازہ ہوگئے۔ صبح کا سورج طلوع ہوتے ہی جھیل پر معاملات زندگی شروع ہو رہے تھے۔ ماہی گیر مچھلیوں کے جال اور کشتیاں صاف کرکے اپنے کام کا آغاز کر رہے تھے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ دن کے آغاز میں ہی ایسے خوبصورت اور پرسکون مناظر دیکھ کر انسان اپنے تمام دکھ اور تکلیفیں بھولنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

ویسے تو سندھ میں بہت ساری چھوٹی بڑی جھیلیں ہیں، جس سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے، لیکن ضلع قمبر شہداد کوٹ کے انڈس ہائی وے پر گوٹھ پکھو کے قریب قدرتی خوبصورتی کا دلکش منظر پیش کرنے والی لنگھ جھیل اپنے انداز میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔

اِس جھیل کو سکھر بیراج سے نکلنے والی رائس کینال کے ذریعے پانی سے بھرا جاتا ہے، چاولوں کی کاشت کے دنوں میں یہ جھیل پانی سے پوری طرح بھری ہوتی ہے، لیکن جب سکھر بیراج میں پانی کی قلت ہوتی ہے تو اِس جھیل میں بھی پانی بالکل ہی کم ہوجاتا ہے۔

400 ایکڑ پر مشتمل یہ جھیل ہزاروں افراد کے پیٹ کی بھوک مٹانے کا بھی ذریعہ ہے۔ مقامی افراد اپنا گزر بسر بھی اِسی جھیل سے کرتے ہیں۔ کچھ مچھلی فروخت کرکے اور کچھ پرندے پکڑ کر انہیں فروخت کرکے اپنے لئے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرتے ہیں۔

لنگھ جھیل پر ہر سال ہزاروں کی تعداد میں پردیسی پرندے آتے ہیں۔ اکتوبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی پرندوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ صوبائی حکومت کے محکمہ جنگلی حیات کے زیرِ نگرانی اِس جھیل کو جنگلی حیات کی پناہ گاہ بھی قرار دیا گیا ہے۔ 1974ء میں سروے کے مطابق لنگھ جھیل میں آبی پرندوں کی تعداد 50 ہزار سے زائد تھی۔

جھیل کی صفائی ستھرائی اور دیگر انتظامات پر معمور ایک بزرگ سرکاری ملازم چاچا برکت نے بتایا کہ ذوالفقار علی بھٹو، ایوب خان، یاسر عرفات، ایرانی شہنشاہ رضا شاہ پہلوی سمیت عرب شہزادے بھی اِس جھیل پر آکر پرندوں کا شکار کیا کرتے تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سابق صدر ایوب خان سال میں ایک مرتبہ ضرور اِس جھیل پر شکار کرنے آتے تھے۔ جب اُن کے آنے کی اطلاع آیا کرتی تھی تو علاقے میں خوف پھیل جایا کرتا تھا لیکن اِس کے برعکس بھٹو کے آنے کا سُن کر مقامی لوگ ننگے پاﺅں اِس عوامی لیڈر کیلئے دوڑے چلے جاتے تھے۔

جھیل کے آس پاس زرعی زمینیں بھی ہیں، لیکن قبضہ مافیا کی جانب سے اپنی زرعی زمین میں اضافہ کرنے کی وجہ سے اِس جھیل کا رقبہ دن بہ دن کم ہوتا جارہا ہے۔ حکومتی عدم توجہ کے باعث قبضہ مافیا جھیل کے آس پاس کی زمین گھیرتا جارہا ہے۔

کہنے کو تو اِس جھیل پر ماہی گیری اور جھیل کے پانی کو زرعی مقاصد کے لئے استعمال کرنے پر مکمل پابندی ہے لیکن یہاں کی انتظامیہ نے جھیل پر اپنے من پسند ماہی گیروں کو مچھلی کے شکار کی چھوٹ دے رکھی ہے۔ جبکہ جھیل کی حدود میں تین کلومیٹر کے اندر فائر کرنے پر بھی مکمل پابندی ہے لیکن افسوس کہ موسم سرما میں بااثر افراد یہاں آکر آبی پرندوں کا شکار بھی کرتے ہیں۔

یہ ساری صورتحال یہاں بتانے مقصد صرف یہی ہے کہ سندھ حکومت اور مقامی انتظامیہ اِس خوبصورت اور تاریخی جھیل کو قبضہ مافیا سے بچانے کے لیے حرکت میں آئے، بصورت دیگر کچھ سالوں بعد ہم کہیں یہ کہنے پر مجبور نہ ہوجائیں کہ کچھ سال پہلے بھی یہاں ایک خوبصورت جھیل ہوا کرتی تھی۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا لکھاری کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ  [email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی۔
نبیل ابڑو

نبیل ابڑو

بلاگر سندھ یونیورسٹی میں میڈیا اینڈ کمیونی کیشن اسٹڈیز کے طالب علم ہیں اور سیاست و فلسفے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہیں ٹویٹر آئی ڈی @abronabeel66 پر فالو کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔