’’پہلی نظر کی محبّت‘‘؛ کیا ہے حقیقت، کیا ہیں وجوہات

ڈاکٹر صابر حُسین خان  اتوار 11 جون 2017
ایک نظر کے سحر کا شکار یہ چہرہ پھر تمام عُمر کا ہم سفر بنے یا زمانے کے شور کی نذر ہوجائے اور پھر کبھی دِکھائی نہ دے۔ فوٹو : فائل

ایک نظر کے سحر کا شکار یہ چہرہ پھر تمام عُمر کا ہم سفر بنے یا زمانے کے شور کی نذر ہوجائے اور پھر کبھی دِکھائی نہ دے۔ فوٹو : فائل

(کنسلٹنٹ سائیکاٹرسٹ و سائیکو تھراپسٹ)
پہلی نگاہ میں محبّت  (Love at first sight)  کی کہانیاں ہر معاشرے پر ثقافت میں عام ہیں۔ اِس طرح کی بے شمار سچّی کہانیاں ہمارے چاروں طرف ہر لمحے پیدا ہورہی ہیں۔ کچھ، کچھ دِنوں میں مرجھاجاتی ہیں اور کچھ عُمر بھر کے بندھن میں بندھ جاتی ہیں۔ ہر دو صورتوں میں محبّت کا معصوم اور نرم و نازک جذبہ ہمارے دِل کے تاروں کو چھیڑتا ہوا، خوابوں کے مختلف مدارج طے کرتا ہوا کبھی شبنم کی بوندوں کی طرح شب بھر میں ہوا میں تحلیل ہوجاتا ہے تو کبھی، کبھی نہ ختم ہونے والی سوچ کا حصّہ بن کر ہماری روح سے ہم کلام رہتا ہے۔

نام، چہرے اور کِردار بدل جاتے ہیں مگر محبّت کی ہر کہانی کا مرکزی خیال ایک ہی رہتا ہے۔ وقت کی دھوپ چھاؤں میں اِس خیال کی شمع کبھی بھڑکتی ہے، کبھی لرزتی ہے کبھی ٹمٹماتی ہے کبھی آپ ہی آپ بجھ جاتی ہے تو پھر اچانک تیز بارش میں ازخود جل بھی اٹھتی ہے۔ کبھی ایک ہی نام ایک ہی چہرہ ایک ہی کِردار، محبّت کے کینوس پر ایک کے بعد دوسرے اور دوسرے کے بعد کِسی تیسرے نام، چہرے اور کِردار کی تصویر اُجاگر کرتے رہتے ہیں۔ ہر دو صورتوں میں محبّت کا معصوم اور نرم و نازک جذبہ، نمو، روشنی اور توانائی پاتا رہتا ہے۔

پھر زندگی کے دوسرے کنارے پر ایسے لوگ بھی سانسیں لے رہے ہوتے ہیں، جن کے دِلوں کی زمین پر کبھی بھی محبّت کی پھوار نہیں پڑی ہوتی۔ ایسے لوگوں کی پیاس اُنہیں ساحل بہ ساحل، کوچہ بہ کوچہ زرد پّتوں کی طرح پھراتی رہتی ہے۔ وہ حیرت اور حسرت سے محبّت کرنے والو ں کو دیکھتے ہیں۔ لاکھ جتن کرتے ہیں مگر نہ تو اُن کو کِسی سے محبّت ہوپاتی ہے نہ کوئی اور اُن سے محبّت میں آہیں بھرپاتا ہے۔ محبّت سے محرومی اُن کی شخصیت میں کانٹے اُگانا شروع کردیتی ہے۔ اور جو اُنہیں اپنے فِشار کے اظہار کے ذرائع بھی نہ مِل پائیں تو پھر اُن کے اندر کی تلخی اُن سمیت اُن کے گردواطراف کے ماحول اور لوگوں کی بھی تلخ اور ترش کرتی چلی جاتی ہے۔

زندگی کے ایک اور گوشے میں ایسے لوگوں کا ہجوم بھی ہوتا ہے۔ جو تمام عُمر محبوب بننے کی تمنّا میں دوسروں سے محبّت کیے چلے جاتے ہیں لیکن کوئی دوسرا اُن سے محبّت نہیں کرپاتا۔ یک طرفہ محبّت کے سہارے، آدھی ادھوری شخصیت اور ٹوٹے پھوٹے جذبات کے بوجھ تلے اِن کا سفر جاری رہتا ہے۔

پھر تقدیر کی چاندنی میں چمکتے ایسے لوگ بھی ہمارے آس پاس بستے ہیں جو اپنی محبّت کے اسیر ہوتے ہیں۔ یہ لوگ کِسی اور سے محبّت نہیں کرپاتے لیکن زندگی کے ہر قدم پر اِن کا تن من محبّت میں بھیگتا رہتا ہے۔ ہر گام پر اِن کا ہاتھ تھامنے اور اِن کو سہارا دینے کے لیے دوسرے ہاتھ بڑھتے رہتے ہیں اور اِن کے سروں پر محبّت کے تاج سجاتے رہتے ہیں۔

محبّت دو طرفہ ہو یا یک طرفہ، جب تک اعتدال کے دائرے میں رہتی ہے، ہمیں توانائی فراہم کرتی رہتی ہے۔ لیکن جونہی یہ دائرہ ٹوٹتا ہے، حدود مشروط ہوتی ہیں یا انتہا کی طمع جاگتی ہے، محبّت کی طاقت کا پہّیا اُتنی ہی تیزی سے اُلٹی طرف چلنا شروع کردیتا ہے اور محبّت میں مبتلا افراد کے ساتھ خاندان اور معاشرے کی سالمیت پر بھی ضرب پڑنا شروع ہوجاتی ہے۔

درحقیقت، اُنسیت، لگاؤ، محبّت، عشق، یہ تمام جذبے جنس مخالف کی طرف جھکاؤ، کشش اور رغبت کے مختلف مراحل و مدارج ہوتے ہیں۔ جہاں ایک طرف لاشعوری سطح پر ہر انسان کے اندر چاہنے اور چاہے جانے کی تمنّا کے پھول ہمہ وقت کِھلتے رہتے ہیں۔ وہاں عُمر کے مختلف حصّوں میں جنسِ مخالف کی طرف ہمارا جھکاؤ اور اُس کی رفاقت کی خواہش کی وجوہات میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ اوائلِ عمری یا Teen Age میں لڑکے اور لڑکیاں، اندرونی لاشعوری جنسی تبدیلیوں اور ہارمونز کے مدّوجزر سے مجبور ہوکر ایک دوسرے کی رفاقت اور دوستی کی جستجو اور تگ و دو کرتے ہیں۔ پھر اگلے چند برسوں میں یہی لاشعوری دباؤ، جسمانی تعلق کی خواہش میں ڈھلنا شروع ہوجاتا ہے۔ زندگی کے اِن دہ مراحل میں Love at first sight  یا پہلی نطر کی محبّت کے پسِ پردہ یا پسِ لا شعور عام طور پر یہی وجہ بنیادی یا اوّلین ہوتی ہے۔

30 تا 40 برس کی عُمر چوںکہ بدن کے ساتھ ساتھ ذہن، دماغ و نفسیات کی نشوونما کے سامان بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ لہذا عُمر کے اِس حصّے میں مرد اور عورت کے درمیان کشش کا عنصر محض جسمانی تعلق نہیں رہ پاتا بل کہ پھر اُس میں ذہنی، جذباتی اور معاشرتی رفاقت یا  Bond  کے عناصر بھی شامل ہوجاتے ہیں۔ گو اِس عُمر میں ہونے والی محبتوں کا دارومدار کئی سماجی عوامل پر ہوتا ہے۔ عُمر کے اِس حصّے تک پہنچنے کے باوجود غیرشادی شدہ زندگی یا نا خوش گوار و ناہموار ازدواجی زندگی، فطرت کے رنگ یا نفسیاتی اُلجھنیں، آزادی و مخلوط ماحول، حرص ہوس لالچ، ضرورت یا مجبوری یا پھر کوئی اور وجہ اِس عُمر میں مرد اور عورت کو ایک دوسرے کی کشش میں اُلجھا سکتی ہے۔

پھر ہمارے معاشرے میں 40 تا 50 سال کی عُمر تک کے افراد بھی عشق کا شکار ہوتے دِکھائی دیتے ہیں۔ Middle Age Crisis ہر سوسائٹی میں نظر آتا ہے۔ ہر نسل ہر قوم میں ماہرین نفسیات نے عُمر کے اِس حصّے میں پیدا ہونے والی معاشی، نفسیاتی، سماجی وجوہات کو اپنی ریسرچ کا موضوع بنایا ہے۔ اور Addescent Crisis (نوبلوغیت کی عُمر کے درمیان پیدا ہونے والے نفسیاتی و سماجی و روّیہ جاتی ردّ عمل) کی طرح اِس عُمر میں بھی خصوصاً مردوں کے اندر ایک نئی زندگی، ایک نئے لائف پارٹنر، ایک نئے ماحول کی لاشعوری خواہش کے بیدار ہونے کے کئی عوامل پر روشنی ڈالی ہے۔ چند اہم وجوہات جو 40 تا 50 سالہ مردوں کو پہلی بار یا ازسرِ نو  Crushes یا Infatuation یا جنسِ مخالف کی طرف کھنچاؤ یا محبّت یا محبّت نما جذبے کی جانب مائل کرتی ہیں، کیا کیا ہوسکتی ہیں؟

1)  اب تک مجرّد زندگی۔

2)  نا آسودہ، ناخوش گوار، ناپسندیدہ ازدواجی زندگی۔

3)  دولت، کام یابی، مرتبے کے حصول کے بعد معیارات و نظریاتِ زندگی میں تبدیلی۔

4)  لائف پارٹنر سے ذہنی، روحانی، سماجی مطابقت نہ رکھنا یا نہ رکھ پانا۔

5)  بچوں کی پیدائش کے بعد عورتوں کا اپنی قدرتی نسوانی و جسمانی کشش کھوبیٹھنا۔

6)  امورِخانہ داری اور بچوں کی پرورش میں اتنا مصروف ہوجانا کہ شوہر کی ضروریات کا خیال رکھنا ترک کردینا اور شوہر کو عدم توجہی اور سردمہری کا سامنا کرنا۔

7)  مخلوط ماحول اور آزادانہ میل ملاپ کے ذرائع۔

8)  مخصوص مردوں کی مخصوص نفسیات یا فطرت۔

9)  مردوں کے سماجی مرتبے اور دولت کو دیکھ کر غیرشادی شدہ زیادہ عمر کی لڑکیوں کا اُن کی طرف جھکاؤ اور لگاؤ کا اظہار۔

10)  بیوی کی وفات، دوسرے شہر یا دوسرے مُلک میں رہائش یا کوئی اور ضرورت۔

11)  بِنا کِسی ظاہری، خانگی، سماجی وجد کے پہلی نظر کی محبّت یا وارفتگی۔

قطع نظر اِس کے کہ محبّت کی پہلی نظر کے اسباب کیا رہے ہوں یا پہلی، دوسری اور تیسری محبتوں کے وقت جسمانی اور ذہنی عُمر کیا رہی ہو۔ اور حالات و اسباب کیا رہے ہو۔ یہ امر مسلمّہ حقیقت ہے کہ محبّت کا چراغ جب بھی جلتا ہے، عقل کی روشنی سِمٹنے لگتی ہے۔ آسمانی دلائل سے بالاتر۔ محبّت کی مالا گلے میں ڈالنے کے بعد پھر چاروں طرف کچھ اور نظر نہیں آتا۔ بس ایک چہرے کے سوا۔ ایک نظر کے سحر کا شکار یہ چہرہ پھر تمام عُمر کا ہم سفر بنے یا زمانے کے شور کی نذر ہوجائے اور پھر کبھی دِکھائی نہ دے۔

دونوں صورتوں میں محبّت کے خُمار کا اثر تمام عُمر کے لیے انسان کے دِل اور دماغ پر ایسے نقش ضرور ثبت کرتا ہے۔ جو اُس کے حال اور مستقبل کے تمام ذاتی، سماجی، کاروباری فیصلوں اور راستوں کے رُخ کے انتخاب میں اُس کی شخصیت اور نفسیات کے اندرونی رنگوں کی عکاسی کرتے رہتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔