صارفین کی مزاحمت اور سوشل میڈیا

ڈاکٹر توصیف احمد خان  ہفتہ 10 جون 2017
tauceeph@gmail.com

[email protected]

سوشل میڈیا صارفین کے حقوق کے لیے متحرک ہوا۔ ایک خاتون صحافی نے رمضان المبارک میں پھلوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو لگام دینے کا فارمولہ تلاش کیا۔ سوشل میڈیا پر اپیلیں وائرل ہونے لگیں کہ 2،3 اور 4 جون کو صارفین پھل خریدنے سے گریزکریں۔یہ اپیل کراچی سے شروع ہوئی اور لاہور اوراسلام آباد تک پھیل گئی۔ برصغیر میں افطارکے مینو میں پکوڑے اور سموسموں کے ساتھ مختلف اقسام کے پھل اوراس کی چاٹ کے آئٹم لازمی بن گئے ہیں۔

عام تصور یہ ہے کہ پھل کھانے اور پھلوں کا تازہ رس پینے سے روزہ کی حالت میں کھوئی ہوئی توانائی واپس آجاتی ہے مگر پھلوں کی خریداری نہ کرنے کی اپیل کا خاطرخواہ نتیجہ نکلا۔ کراچی کے بہت سے علاقوں میں عصر سے مغرب تک بازاروں میں پھلوں کی خریداری کے لیے بڑی گہما گہمی ہوتی ہے مگر تین دنوں میں خریداروں کی تعداد کم نظر آئی۔ ملک کے معروف انگریزی اخبار جو انویسٹی گیٹو رپورٹنگ کے لیے بین الاقوامی شہرت کا حامل ہے، میں شایع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹھیلے والوں اور دکانداروں کی آمدنی میں 40 سے 50 فیصد تک فرق پڑا مگر رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ تھوک  مارکیٹ اس بائیکاٹ کی اپیل سے متاثر نہیں ہوئی اورفروٹ مارکیٹ میں پھلوں کی قیمتوں پرکوئی خاطرخواہ فرق نہیں پڑا۔اس رپورٹ میں تفصیلی سروے کے بعد تحریرکیا گیا کہ قیمتوں کے کم ہونے سے عام آدمی کو خاص فائدہ ہوا مگر تھوک فروش اورکمیشن ایجنٹوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی آمدنی ویسی ہی رہی جیسی سوشل میڈیا پر ہڑتال کی اپیل سے پہلے تھی۔

سوشل میڈیا پر مہم چلانے والے افراد اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں جو صارفین کے حقوق کے لیے جدوجہد کررہی ہیں، ان کے ماہرین کہتے ہیں کہ صرف ریٹیلرزکا منافع 300 فیصد ہے تو دکانداروں اور ٹھیلے والوں کی تھوڑی سے آمدنی کم ہوئی۔ایک دکاندار نے کچھ یوں کہا کہ پہلے دو دن گاہک کم آئے پھر پاکستان اور بھارت کے برطانیہ میں ہونے والے کرکٹ میچ کا اثر بھی خریداری پر پڑا مگر خوردہ فروش مزے میں رہے۔ ان کی آمدنی میں صرف 15 فیصد کا فرق آیا۔ ہول سیل ویجیٹیبل مارکیٹ فلاحی انجمن کے سربراہ حاجی شاہ جہاں کا کہنا ہے کہ دکانداروں نے منافعے کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے تھے۔

سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اورسوسائٹی کی طرف سے دکانداروں کا بالکل صحیح بائیکاٹ کر کے انھیں ایک سبق مل گیا اورصارفین کو ایک دن مکمل طور پر پھلوں کی خریداری کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ شاہ جہاں نے تجویزدی کہ حکومت کوکراچی کے ہرضلع میں پھلوں کی خریداری کے تین مراکز قائم کرنے چاہیئیں۔ان مراکز میں معیاری پھل سستے داموں ملنے چاہئیں۔سندھ میں صارفین کی عدالتیں نہیں ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ میں دائر ایک شہری عمران شہزاد کی درخواست پر حکومت کے جمع کیے گئے جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے صارفین عدالتیں قائم کرنے کے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا، یوں صارفین کے اشیاء کی قیمتوں اوران کے معیارکے تحفظ کے معاملے کی داد رسی کے لیے یہ عدالتیں قائم ہی نہیں ہوئیں۔

پنجاب میں سابق وزیر اعلیٰ پرویزالٰہی کے دورمیں یہ عدالتیں قائم ہوگئی تھیں۔ صارفین عدالتیں بننے سے پہلے صوبائی صارفین کے حقوق کے تحفظ کی کونسل کا قیام ضروری ہے۔ سندھ میں صارفین کے حقوق کے تحفظ کا قانون 2014ء میں نافذ ہوا مگر صوبائی حکومت اس قانون پر عملدرآمدکرانا بھول گئی۔ حکومت نے صارفین کے تحفظ،کونسل اورصارفین عدالتوں کے قیام کے لیے گزشتہ بجٹ میں رقم مختص کردی تھی جو 30 جون کو اختتام پذیر ہونے والے مالیاتی سال میں خرچ کیے بغیر سرکاری خزانے میں پہنچ جائے گی۔صارفین کسی قیمت میں اضافہ یا اس کے خراب معیارکے بارے میں عدالت سے رجوع نہیں کرسکتے۔ سول رائٹس ایکٹوسٹ عمران شہزاد نے گزشتہ سال سندھ ہائی کورٹ میں ایک عرضداشت داخل کی تھی کہ حکومت سندھ کو صارفین تحفظ کے قانون پر عملدرآمد کا پابندکیا جائے مگر صوبائی حکومت نے عدالتی احکامات پر توجہ نہیں دی۔ اب حکومت سندھ نے اپنے جواب میں کہا کہ صارفین تحفظ کونسل کے اراکین کے تقررکے لیے ناموں پر مشتمل سمری وزیر اعلیٰ کو بھجوادی گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ کے احکامات کے بعدکونسل بن جائے گی۔ اس طرح سندھ ہائی کورٹ کے رجسٹرار سے استدعا کی گئی کہ وہ کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں صارفین عدالتوں کے لیے مجسٹریٹس کا تقررکریں۔ درمیانی طبقہ اور نچلا متوسط طبقہ مہنگائی سے براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔  رمضان المبارک کا مہینہ برکتوں اوررحمتوں کا مہینہ ہوتا ہے، مگر پاکستان میں یہ دکانداروں اورخوردہ فروشوں کے لیے برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ثابت ہوتا ہے۔ رمضان سے چند دن قبل پھل، سبزیوں،گوشت، مصالحوں، دودھ ،کپڑوں اورجوتوں غرض ہر شے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ صرف کتابوں کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوتا کیونکہ کتابیں پڑھنے والے افراد کی تعداد کم ہوتی ہے۔

مہنگائی کا شور بازاروں سے بلند ہوتا ہے اوراخبارات اورٹی وی چینلز کے نیوز رومز تک پہنچ کر محدود ہوجاتا ہے۔ جب ذرایع ابلاغ پر روزانہ اشیاء کی قیمتوں کے آسمان تک پہنچنے کی خبریں شایع ہوتی ہیں تو پھر کمشنر صاحبان ڈپٹی کمشنروں اور اسسٹنٹ کمشنروں کوگشت کی ہدایات دیتے ہیں۔ مجسٹریٹ چند علاقوں کا دورہ کرتے ہیں، چند دکانداروں پر جرمانے ہوتے ہیں اورجو دکاندر متعلقہ عملے کو پیشگی عیدی نہیں دے پاتے وہ ایک دو روز کے لیے تھانوں کے لاک اپ کی ہوا کھا آتے ہیں مگر صارفین کے حالات بگڑے ہی رہتے ہیں۔ ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ صارفین کی منظم بغاوت کی صورت سامنے آئی ہے۔ سوشل میڈیا اورسوسائٹی نے صارفین میں یہ شعور پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ متحد ہو کر بائیکاٹ کا ہتھیار استعمال کریں گے۔ قیمتوں کو آسمان سے اتارا جاسکتا ہے مگر جب یہ مہم شروع ہوئی تو بعض صاحبان علم نے یہ سوال اٹھایا کہ غریب دکانداروں کا بائیکاٹ کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ بڑے تاجر جو چور بازاری کرتے ہیں اور آڑھتی اور مڈل مین پر جب تک ضرب نہیں پڑے گی مہنگائی کا جن قابو میں نہیں آئے گا۔ یہ بات کسی حد تک درست مگر سوشل میڈیا نے پہلی دفعہ صارفین کو ان کے مضبوط ہتھیارکو استعمال کرنے پر آمادہ کیا تھا۔ یہ بہت بڑی کامیابی تھی۔

اس ہڑتال کے اچھے نتائج برآمد ہوئے اور یہ حقیقت سامنے آئی کہ تھوک فروٹ تو نفع کماتے ہی ہیں دکاندار اور ٹھیلے والوں کا بھی منافع کم نہیں ہے مگر اس لیے تھوک فروشوں اورکسانوں سے پھل خریدنے والے مڈل مین کا احتساب ضروری ہے۔ ابلاغ عامہ کے استاد ڈاکٹر اسامہ شفیق نے اس مہم کے خاتمے پر بازاروں کا جائزہ لینے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ تحریر وائرل کی کہ پھلوں کی قیمتیں پھر بڑھ گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک غیر مسلم جوڑے کا یہ مکالمہ بھی مقبول ہوا کہ شوہر نے بیوی سے کہا کہ مسلمانوں کا رمضان کا مہینہ ختم ہونے کوہے پھر ہم پھل اور سبزیاںخرید لیں گے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ بھارت، یورپ اور امریکا میں ہندو، یہودی اورعیسائی دکانداروں نے رمضان کے مہینے میں سیل لگائی مگر پاکستان میں یہ مہینہ منافع کا مہینہ ہوتا ہے۔

صارفین کی مزاحمت کا ایک تاریخی پس منظر ہے۔ امریکا، یورپ اور جاپان میں صارفین نے مہنگی اشیاء کا بائیکاٹ کر کے منافعے کو قابو میں لانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ جاپان میں ایک زمانے میں نمک کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا تھا۔ صارفین کے بجٹ کی کونسلوں نے نمک کی قیمتوں میں اضافے کو غیرمناسب جانا اور جاپانی عوام سے اپیل کی کہ وہ نمک کا استعمال ترک کردیں۔ پورے جاپان میں لوگوں نے نمک کی خریداری بندکردی تھی جس کا نتیجہ یہ نکلاکہ جاپان میں نمک کی قیمتیں معمول پر آگئیں۔ سندھ میں صارفین کے حقوق کی کونسل کے قائم نہ ہونے اور صارفین عدالتیں نہ ہونے سے عام آدمی کے لیے دادرسی کے راستے محدود ہیں۔

اصولی طور پر صوبے میں صارفین کے تحفظ کی کونسل فوری طور پر قائم ہونی چاہیے۔ اس کونسل کو زرعی اور صنعتی اشیاء کی تیاری پر لاگت اور دیگر اخراجات کے ساتھ قیمتوں کا تعین کرنے کے اختیارات ہونے چاہیئیں۔  صارفین کے مفادکو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر صارفین عدالتیں قائم ہونی چاہئیں۔ دنیا بھرکی اس طرح کی عدالتوں کی طرح سندھ میں صارفین عدالتوں کا طریقہ کارآسان اور سہل ہونا چاہیے۔ عام آدمی کو بغیر وکیل کے ان عدالتوں سے انصاف ملنا چاہیے۔ سوشل میڈیا کی کوششوں سے صارفین کا بائیکاٹ اس خراب اورکشیدہ صورتحال میں اچھی خبر ہے۔ صارفین کی مزاحمت کو منظم کرنے کا سہرا صحافی حسنیٰ علی کو جاتا ہے۔اس مزاحمت کو پورے سال منظم رکھنے کی ضرورت ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔