پاناما کیس؛ سیاست میں غیریقینی اور تلخی کی فضا

ایڈیٹوریل  پير 12 جون 2017
 جے آئی ٹی کے رویے کے حوالے سے بھی درخواستیں جمع ہو رہی ہیں . فوٹو : فائل

جے آئی ٹی کے رویے کے حوالے سے بھی درخواستیں جمع ہو رہی ہیں . فوٹو : فائل

پاناما کیس میں جب سے جے آئی ٹی نے اپنی کارروائی شروع کی ہے‘ تب سے پاکستان کی سیاست میں غیریقینی اور تلخی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔

نہال ہاشمی کی متنازعہ تقریر کے بعد صورت حال مزید تناؤ کا شکار ہوئی‘ اس سے قبل حسین نواز بھی جے آئی ٹی کے حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کر چکے تھے لیکن ان کی درخواست کو رد کر دیا گیا۔ پھر حسین نواز کی تصویر منظرعام پر آئی‘ یہ تصویر کیسے لیک ہوئی اس پر بھی درخواست دائر ہے۔ اس تصویر کی لیکیج پر بھی مختلف قسم کی بیان بازی سامنے آئی‘ اب صورت حال یہ ہے کہ جے آئی ٹی نے بھی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے‘ اخباری اطلاعات کے مطابق اس درخواست میں جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ کو تحقیقات میں درپیش رکاوٹوں اور دھمکیوں سے آگاہ کیا ہے۔

ادھر نیشنل بینک کے صدر نے بھی سپریم کورٹ کو خط لکھ کر پاناما پیپرز کیس میں جے آئی ٹی کے رویے سے آگاہ کیا ہے‘ انھوں نے بھی کہا ہے کہ دوران تفتیش انھیں جے آئی ٹی نے دھمکایا اور توہین آمیز رویہ اختیار کیا۔ پاناما کیس پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم مقدمہ ہے‘ اس پر سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ فیصلہ دے چکا ہے اور اس فیصلے کی روشنی میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم اس سارے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور یہ تحقیقات ابھی جاری ہے۔ اصولی طور پر دیکھا جائے تو یہ سارا معاملہ آئین و قانون سے تعلق رکھتا ہے۔

سیدھی سی بات ہے کہ اگر کسی پر کوئی الزام ہے یا کسی معاملے کی کوئی سرکاری ایجنسی‘ کمیشن یا جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی تحقیقات اور تفتیش کر رہی ہے تو یہ سب کچھ آئین اور قانون کے دائرہ اختیار میں کیا جانا چاہیے۔ کسی تحقیقاتی ٹیم کی راہ میں روڑے اٹکانا یا ٹیم کے ارکان پر کوئی الزام عائد کرنا یا انھیں دھمکانا درست طرز عمل نہیں۔ اسی طرح تحقیقاتی اور تفتیشی ٹیم کو بھی اپنے مینڈیٹ کے مطابق ہی کام کرنا چاہیے اور اپنے مینڈیٹ سے آگے بڑھ کر کوئی کام کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

یہ اصول ہر مقدمے کی تحقیقات پر لاگو ہوتا ہے۔ تاہم جب کوئی مقدمہ یا زیرتفتیش معاملہ اعلیٰ شخصیات کا ہو تو پھر اس میں احتیاط مزید لازم ہو جاتی ہے۔ پاناما کیس کی جو تحقیقات ہو رہی ہیں اس میں وزیراعظم کے خاندان کے افراد پیش ہو رہے ہیں‘ اسی طرح جن دیگر لوگوں کو تحقیقاتی ٹیم بلا رہی ہے وہ بھی طاقتور شخصیات ہیں‘ اس لیے اس مقدمے کے فیصلے کے دوررس اثرات مرتب ہوں گے‘ لیکن جس طرح فضا بنائی جا رہی ہے‘ اس سے فہمیدہ حلقوں میں یہ تاثر پیدا ہورہا ہے کہ اس سارے معاملے کو متنازع بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں‘ اس حوالے سے یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ بیان بازی بھی معاملات کو خراب کر رہی ہے‘ مثلاً نہال ہاشمی کی متنازعہ تقریر نے صورت حال کو خراب کیا‘ اس کے بعد حکومتی حلقوں کی جانب سے جے آئی ٹی کے ارکان کے حوالے سے منفی باتیں سامنے آئیں‘ ادھر پی ٹی آئی کے لوگوں نے بھی بیان بازی شروع کر دی۔ یوں معاملات الجھنے شروع ہو گئے۔

اب صورت حال یہ ہو گئی ہے کہ جے آئی ٹی کے رویے کے حوالے سے بھی درخواستیں جمع ہو رہی ہیں اور جے آئی ٹی نے بھی تحقیقات کی راہ میں رکاوٹوں اور دباؤ کے حوالے سے درخواست دی ہے۔ یہ صورت حال پاناما کیس کے معاملات کو خراب کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاناما کیس کو آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر آگے لے جایا جائے اور اس حوالے سے کسی قسم کی منفی سرگرمی معاملات کو مزید بگاڑ سکتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔