خدارا! ہم سے ہمارا بچپن تو نہ چھینو

مہوش کنول  پير 12 جون 2017
آدمی نے غصے سے بچے کو دیکھا اور غصے میں زبان سے زہر اگلنا شروع کردیا۔ پتہ نہیں کہاں کہاں سے آجاتے ہیں بھیک منگے، جہاں اچھی گاڑی دیکھی فوراً مظلومیت کا تماشہ شروع کردیتے ہیں۔ فوٹو: فائل

آدمی نے غصے سے بچے کو دیکھا اور غصے میں زبان سے زہر اگلنا شروع کردیا۔ پتہ نہیں کہاں کہاں سے آجاتے ہیں بھیک منگے، جہاں اچھی گاڑی دیکھی فوراً مظلومیت کا تماشہ شروع کردیتے ہیں۔ فوٹو: فائل

سُننے میں آیا ہے کہ آج بچہ مزدوری کے خاتمے کا عالمی دن منایا جارہا ہے، چائے کے ہوٹل کے مالک نے اپنے پاس کام کرنے والے آدمی کی معلومات میں اضافہ کیا۔ 

وہ تو پچھلے کئی سالوں سے منایا جارہا ہے لیکن یہ سب دن منانے کا فائدہ کیا اور کِسے ہوگا؟ اُس نے حیران ہوکر مالک سے پوچھا۔

مالک ایک طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئے بولا، بھائی فائدہ تو کسی کا نہیں ہونا۔ اُن کا بھی نہیں جن کے نام پر دن منایا جا رہا ہے، کچھ بڑے لوگ گھروں اور دفتروں سے مختلف این جی اوز کے دفتر پہنچیں گے، وہاں دن کی مناسبت سے لمبا سا لیکچر دیں گے، اپنی لاکھوں کی کمائی میں سے ادارے کو چند سو روپے کی امداد دیں گے، داد وصول کریں گے، چند بچوں کے ساتھ تصاویر بنوائیں گے تاکہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر لوگوں کی داد و تحسین بھی وصول کرسکیں اور پھر اپنے گھروں کی راہ لیں گے۔ بھئی یہ بڑے لوگوں کے چونچلے ہیں خبروں میں رہنے کے لیے۔ اِن سے کچھ نہیں ہونا، اللہ ہی اِن بچوں کے حالات پھیرے تو پھیردے۔

یہ کہتے ہوئے مالک نے دیکھا کہ کام کرنے والے ایک بچے کے ہاتھ سے صفائی کے دوران ایک کپ زمین پر گر کر ٹوٹ گیا۔ بچے کو بُلا کر دو موٹی سی گالیاں دے کر ایک ہاتھ اُس کے منہ پر جڑ دیا۔ بچہ روتا ہوا پھر سے اپنے کام میں لگ گیا۔

ذرا سے فاصلے پر روڈ پر سگنل بند ہوجانے کے باعث گاڑیاں رُکی ہوئی تھیں۔ سوٹ بوٹ پہنے ایک صاحب نے دیکھا کہ ایک بچہ آکر اُس کی گاڑی کی کھڑکی کے پاس کھڑا کچھ کہہ رہا ہے، ہاتھ میں چند کھلونے بھی ہیں، کھڑکی کا شیشہ ذرا نیچے سرکایا تو جھٹ سے بچے نے کھلونوں والا ہاتھ اندر ڈال کر التجا کی، صاحب یہ کھلونے لے لیں اور ساتھ میں قیمت بھی بتائی۔

آدمی نے غصے سے بچے کو دیکھا اور غصے میں زبان سے زہر اگلنا شروع کردیا۔ پتہ نہیں کہاں کہاں سے آجاتے ہیں بھیک منگے، جہاں اچھی گاڑی دیکھی فوراً مظلومیت کا تماشہ شروع کردیتے ہیں، یہ کہہ کر اپنے ڈرائیور سے بولا، ہٹاؤ اِس بھکاری کی اولاد کو یہاں سے۔ دیکھ نہیں رہا میں تقریر پڑھ رہا ہوں ابھی پانچ منٹ میں این جی او کے دفتر پہنچ جائیں گے اور میری تقریر کی تیاری بھی نہیں ہے۔ این جی او کے مالک نے مجھے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے عالمی دن کی تقریب میں مہمانِ خصوصی کے طور پر بُلایا ہے۔ تقریر یاد نہ ہوئی تو اتنے لوگوں کے سامنے کیا بولوں گا وہاں جاکر؟ اتنے میں سگنل کی ہری بتی جلی اور گاڑی تیز رفتاری سے آگے بڑھ گئی۔

گاڑی زناٹے سے آگے بڑھ گئی اور وہ معصوم سا بچہ اپنی اتنی بے عزتی پر آنسو پیتا ہوا فُٹ پاتھ پر چڑھ گیا اور پھر سے سگنل رُکنے کا انتظار کرنے لگا۔ یہ ہمارے معاشرے کی انتہائی بدصورت شکل ہے۔

ایسے مناظر ہم میں اکثر افراد روز و شب ملاحظہ کرتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم ہر برس اِس دن بڑی شور و غوغا مچاتے ہیں، چائلڈ لیبر کے خلاف مضامین، سیمنار، تقاریب منعقد کی جاتی ہیں، لیکن افسوس کہ عملاً کچھ نہیں ہو پاتا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اِس کا جواب کس سے طلب کریں؟ میں بلاگ لکھ رہی ہوں، آپ کسی سیمینار میں شریک ہوں گے، کچھ تقریر سُن رہے ہوں گے اور ہم میں سے ہی کوئی تقریر کر رہا ہوگا، ہم شاید اِس سے زیادہ کچھ کر بھی نہیں سکتے۔ لیکن افسوس تو یہ ہے کہ جن کو کچھ کرنا چاہئیے وہ بھی تماشہ دیکھنے کے سوال کچھ نہیں کرتے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا لکھاری کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ  [email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی۔
مہوش کنول

مہوش کنول

بلاگر جامعہ کراچی سے ایم اے ماس کمیونیکیشن کرنے کے بعد نجی چینل سے وابستہ ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔