اسٹیٹ لائف کی سالانہ رینٹل آمدنی 1 ارب روپے سے تجاوز

بزنس ڈیسک  منگل 13 جون 2017
2016 میں 1123ملین روپے رہی،کئی شہروں میں مزید منصوبے شروع کرنے کافیصلہ۔ فوٹو: فائل

2016 میں 1123ملین روپے رہی،کئی شہروں میں مزید منصوبے شروع کرنے کافیصلہ۔ فوٹو: فائل

 کراچی: اسٹیٹ لائف انشورنس آف پاکستان بیمہ سیکٹر میں واحد حکومتی ملکیتی کارپوریشن ہے جوتقریباً 500ارب روپے کا لائف فنڈ آپریٹ کرنے کے ساتھ 56 لاکھ پالیسی ہولڈرز کے لیے کسٹمربینک کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہے۔

ایس ایل آئی سی ذرائع نے بتایا کہ ملک بھر میں پرائم لوکیشنز پر کارپوریشن کی ملکیت میں 54 کمرشل عمارتیں، 16کمرشل پلاٹس، 14 رہائشی یونٹس اور 7دیگر جائیدادیں ہیں جن کی مارکیٹ ویلیو 3400ملین روپے سے زیادہ ہے جس کا انتظام اسٹیٹ لائف کا ریئل اسٹیٹ ڈویژن چلاتا ہے، یہ جائیدادیں کارپوریشن کی آمدنی میں حصہ ملا رہی ہیں جس نے سال 2016 میں 1123ملین روپے کا لینڈمارک عبور کرلیا، پالیسی ہولڈرز کو زیادہ سے زیادہ مالی مدد دینے کے لیے ریئل اسٹیٹ ڈویژن مسلسل نئے منصوبے بنا رہا ہے۔

منصوبے کے مطابق جناح ایونیو اسلام آباد میں 22منزلہ اسٹیٹ لائف ٹاور کی 2018 میں تکمیل ایک اور لینڈمارک کامیابی ہوگی جس سے کارپوریشن کی رینٹل انکم میں مزید اضافہ ہوگا، اسی طرح اسٹیٹ لائف نے رحیم یارخان، ساہیوال، سرگودھا، سیالکوٹ اور بے نظیرآباد میں اپنے موجودہ پلاٹوں پر اسٹیٹ آف دی آرٹ منصوبے شروع کرنے کے اسٹریٹجک فیصلے بھی لیے ہیں، کراچی میں تجارتی سرگرمیاں بڑھنے کو بھانپتے ہوئے ایس ایل آئی سی نے شاہراہ فیصل، کلفٹن اور ٹاور کی پرائم کمرشل لوکیشنز پر 3 بلند عمارتیں تعمیرکرنے کابھی منصوبہ بنایا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔