شاعری میری ادھوری ذات کی تکمیل کا عمل ہے

اقبال خورشید / اشرف میمن  بدھ 30 جنوری 2013
ہمیں عوام کو غربت کی دلدل سے نکالنا ہوگا، مسرور پیر زادہ ۔ فوٹو : فائل

ہمیں عوام کو غربت کی دلدل سے نکالنا ہوگا، مسرور پیر زادہ ۔ فوٹو : فائل

کہانی کا آغاز ضلع لاڑکانہ کے ایک پُرسکون گائوں، بلھڑیجی سے ہوتا ہے، جس کی فضائوں میں ماضی تیرتا تھا کہ پہلو ہی میں موئن جودڑو کے عظیم آثار تھے۔

جس کے ہر پتھر پر ایک قدیم، مگر پُرشکوہ تہذیب کی پُراسرار کہانی درج تھی۔ ایسی کہانی، جس کی تازگی، نیاپن صدیوں سے قائم تھا۔ اور جب کبھی یہ کہانی بیان ہوتی، مسرور کے دل میں جل ترنگ سا بجنے لگتا۔ وہ موئن جودڑو کی سمت چل پڑتا، جہاں اُس کا پورا وجود دھڑکتا تھا، جہاں سناٹا اُسے شعر کہنے کی تحریک دیتا تھا!

یہ بلھڑیجی میں شعور کی آنکھ کھولنے والے مسرور پیرزادہ کی داستان ہے، جن کا شمار سندھی زبان کے اُن نوجوان شعرا میں ہوتا ہے، جو ادبی میدان میں اپنی شناخت بناچکے ہیں۔ اُن کے دو شعری مجموعے منظرعام پر آچکے ہیں۔ مضمون نگاری کا سلسلہ بھی گذشتہ کئی برس سے جاری ہے۔ نثری میدان میں وہ آج کل شاہ لطیف اور شیخ ایاز کے فن و شخصیت پر کام کر رہے ہیں۔ مترجم کی حیثیت سے بھی مصروف ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے وہ ویٹرنری ڈاکٹر ہیں۔ صحافت کا بھی خاصا تجربہ رکھتے ہیں۔

موئن جودڑو کے کھنڈرات سے اِس کوی کا گہرا سمبندھ ہے۔ ماضی کھوجتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ کم سنی میں اکثر کھنڈرات کی جانب نکل جاتے تھے، جہاں غیرملکی سیاحوں سے ملاقات ہو جاتی کہ اُس وقت تک 9/11 کا سانحہ رونما نہیں ہوا تھا، پاکستان نسبتاً محفوظ تصور کیا جاتا تھا۔ مسرور کے بہ قول،’’موئن جودڑو ہمارا ورثہ ہے۔ یہ ہمارے زرخیز ماضی کا سب سے بڑا ثبوت ہے، جس پر ہمیں فخر کرنا چاہیے۔‘‘ دُکھ اِس بات کا ہے کہ اِن آثار کی اُس طریقے سے دیکھ ریکھ نہیں کی جارہی، جس طرح کی جانی چاہیے تھی۔ خواہش مند ہیں کہ حکومت اور عوام اِس عالمی ورثے کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔

خود کو ادب کا طالب علم گرداننے والے مسرور کے لیے شاعری فقط ذریعۂ اظہار نہیں، بلکہ یہ خود سے ملاقات کا وسیلہ ہے، خود شناسی کا راستہ ہے۔ ’’شاعری میری ادھوری ذات کی تکمیل کا عمل ہے۔ یہ بہتر انسان بننے کی ایک کوشش ہے۔‘‘

اُن کا اصل نام گلزار علی ہے۔ گھر والے پیار سے مسرور کہا کرتے تھے۔ ادبی میدان میں قدم رکھا، تو یہی نام اختیار کیا۔ اُنھوں نے 1976 میں کراچی میں آنکھ کھولی۔ اُن کے والد، محمد سلیمان پیرزادہ زمیں دار تھے۔ بلھڑیجی ہی میں زمینیں تھیں۔ رہایش بھی وہیں تھی۔ گائوں کی ایک جانب موئن جودڑو کے آثار تھے، دوسری جانب دریائے سندھ بہتا تھا۔ دونوں ہی مسرور کے دوست تھے۔ والد سے قربت اپنی جگہ، مگر اُن پر والدہ کا زیادہ اثر ہے۔ کھیلوں میں کرکٹ اُن کی توجہ کا مرکز رہی۔ ’’آل رائونڈر‘‘ تھے، گائوں کی ٹیم کے کپتان رہے۔ کرکٹ سے محبت آج بھی قائم ہے۔ زندگی اور ادب کو کرکٹ سے جوڑنے کا ہنر جانتے ہیں۔ اِس ضمن میں کہتے ہیں،’’کم سنی میں میری تین خواہشات تھیں۔ پہلی خواہش کرکٹر بننا تھی، دوسری ڈاکٹر بننا اور تیسری شاعر بننا۔ مجھے خوشی ہے کہ تینوں ہی خواہشیں پوری ہوئیں۔‘‘

دو بھائی، دو بہنوں میں اُن کا نمبر دوسرا ہے۔ ماضی بازیافت کرتے ہوئے کہتے ہیں،’’میں بچپن میں بہت ڈرپوک تھا۔ اِسی وجہ سے میں نے سائیکل، بائیک یا کار چلانا نہیں سیکھی۔ مجھے یاد ہے، میں اسکول جانے یا کرکٹ کھیلنے کے لیے ہی گھر سے نکلتا، ورنہ زیادہ وقت گھر ہی میں گزرتا تھا۔‘‘

اُن کی گنتی قابل طلبا میں ہوتی تھی۔ اُنھوں نے گورنمنٹ ہائی اسکول، ڈوکری سے، سائنس سے میٹرک کیا۔ گورنمنٹ سائنس کالج، ڈوکری سے انٹر کرنے کے بعد زرعی یونیورسٹی، ٹنڈو جام چلے گئے، جہاں سے ’’ڈاکٹر آف ویٹرنری میڈیسن‘‘ کی سند حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے فوراً بعد وہ کراچی میں مقیم اپنے ماموں کے ویٹرنری کلینک سے، پندرہ سو روپے ماہ وار پر منسلک ہوگئے۔ پھر پرائیویٹ پریکٹس شروع کی۔ ابتداً گلبرک کے علاقے میں کلینک کیا۔ پھر گلشن اقبال میں پریکٹس کرتے رہے۔ کلائنٹس کی تعداد اب خاصی بڑھ چکی ہے، کلینک کا جھنجھٹ نہیں، فقط ’’ہوم وزٹ‘‘ کرتے ہیں۔

ادب دوستی ہی نے اُنھیں صحافت کی جانب دھکیلا۔ کراچی سے نکلنے والے ایک اردو روزنامے سے اُنھوں نے بہ طور ’’سب ایڈیٹر‘‘ اپنے کیریر کا آغاز کیا۔ دو برس اُس سے منسلک رہے۔ سندھی اخبارات میں شایع ہونے والے مضامین اور سندھی چینلز سے نشر ہونے والی خبروں کا ترجمہ اُن ہی کے ذمے تھا۔ پھر ایک سندھی اخبار ’’مقدمو‘‘ کا حصہ بن گئے۔ اگلا قدم اٹھایا، تو انگریزی صحافت کی جانب آگئے۔ ’’ڈیلی میسنجر‘‘ سے جُڑ گئے۔ پھر ایک ٹی وی چینل سے نتھی ہوگئے، جہاں انگریزی ویب سائٹ کی دیکھ ریکھ اُن کے ذمے ہے۔

مسرور کے مطالعاتی سفر کا آغاز شیخ ایاز کی شاعری سے ہوا، جن کے کلام نے اُنھیں اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا۔ اِسی باعث شیخ ایاز کو اپنا پہلا عشق قرار دیتے ہیں۔ پھر شاہ عبداللطیف بھٹائی، غالب، میر، فیض اور جون ایلیا کی شاعری سے حظ اٹھایا۔ فکشن میں خلیل جبران نے متاثر کیا۔ روسی ادیبوں کا بھی مطالعہ کیا۔ گرو رجنیش (اوشو) کے لیکچرز سنے۔ اردو ادیبوں میں کرشن چندر اور منٹو کی تخلیقات سے لطف اندوز ہوئے۔

شعر کہنے کا آغاز میٹرک ہی میں ہوگیا تھا، مگر، مسرور کے بہ قول، اُس وقت پختگی نہیں تھی، اپنا کلام کسی کو سناتے ہوئے شرماتے تھے۔ ’’جس طرح پہلی محبت چُھپائی جاتی ہے، اِسی طرح میں بھی اپنی شاعری چُھپا کر رکھتا تھا۔‘‘ خوش قسمتی سے اُن کی تخلیقات، ادبی ذوق کے حامل ایک رشتے دار کے ہاتھ لگ گئیں۔ اُن کی حوصلہ افزائی نے مسرور کو تحریک دی۔ دھیرے دھیرے، مشق کے طفیل کلام میں پختگی آتی گئی۔ ادبی حلقوں میں اٹھنے بیٹھنے لگے، مگر کسی تنظیم کے باقاعدہ رکن نہیں بنے۔ پھر امداد حسینی جیسے قدآور شاعر کی سرپرستی میسر آئی، جنھوں نے مسرور کی بھرپور راہ نمائی کی، حوصلہ بڑھایا۔ ’’سچ تو یہ ہے کہ امداد حسینی سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ میں اُن کا ممنون ہوں۔‘‘

یوں تو اُنھوں نے غزل، نظم، ہائیکو، ابیات اور گیت سمیت شاعری کی تمام اصناف کا تجربہ کیا، البتہ اصل میدان غزل ہی ہے۔ اِس موضوع پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں،’’سندھی میں غزل کی ساخت اور ہیئت ٹھیک ویسی ہے، جیسے اردو میں ہے۔ البتہ اردو کے مانند سندھی غزل میں بھی نئے نئے تجربات ہورہے ہیں، جس سے شاعری میں جدت آرہی ہے۔‘‘ وہ ہیئت کے خلاف بغاوت کے قائل نہیں، تا آں کہ ہیئت اظہار کو محدود نہ کردے۔ ’’اگر ہیئت سودمند ہے، ابلاغی عمل میں معاون ہے، تو بغاوت بے معنی ہے۔‘‘

غزل کے ساتھ مسرور نے نظمیں بھی کہیں۔ انٹر کے زمانے میں اُن کی تخلیقات باقاعدگی سے ادبی جراید میں چھپنے لگیں۔ یونیورسٹی میں آتے آتے اتنا مواد اکٹھا ہو گیا تھا کہ کتاب کی اشاعت کا امکان نظر آنے لگا۔ 2001 میں اُن کا پہلا مجموعہ ’’چاندنی تو سوا نہ تھیندی‘‘ (چاندنی ترے بن نہ ہوگی) منظر عام پر آیا۔ غزلوں اور نظموں پر مشتمل اس مجموعے کا دیباچہ معروف صحافی اور شاعر، اعجاز منگی نے لکھا تھا۔ قارئین کا ردعمل خاصا مثبت رہا۔

مسرور کا تخلیقی سفر جاری رہا۔ اُن کا دوسرا مجموعہ 2008 میں ’’سرور‘‘ کے عنوان سے منصۂ شہود پر آیا۔ پیش لفظ امداد حسینی نے لکھا۔ تیسرے مجموعے کی اشاعت جلد متوقع ہے۔

نثر کے میدان میں بھی سرگرم ہیں۔ شیخ ایاز کی شاعری تحقیق کا موضوع ہے۔ مسرور کے بہ قول، ’’ہمارے ہاں شیخ ایاز کو انقلابی شاعر کے طور پر دیکھا جاتا ہے، مگر موضوعاتی اعتبار سے اُن کے ہاں بہت وسعت ہے۔‘‘ وہ اُن کی شاعری کو تین ادوار میں تقسیم کرتے ہیں۔ ’’پہلے دور میں اُن کی شاعری پر رومانوی رنگ غالب تھا۔ دوسرے دور میں انقلابی رنگ نظر آنے لگا، تیسرے دور میں اُن کے کلام سے روحانی رنگ جھلکنے لگا۔ اُن کی شاعری میں فطری استعارے باکثرت ملتے ہیں، پھول، بارش اور مٹی کا ذکر آتا ہے۔‘‘ شیخ ایاز کی بابت سندھی میں تحریر کردہ اُن کے کئی مضامین اخبارات و رسائل میں چھپ چکے ہیں۔ اب اُنھیں اکٹھا کر کے، چند دیگر مضامین کے ساتھ، کتابی شکل دی جارہی ہے۔ اُن کے مطابق یہ سندھی کے اِس قدآور شاعر کو خراج تحسین پیش کرنے کی حقیر سی کوشش ہے۔

سندھی ادیبوں اور شاعروں کے حالاتِ زندگی پر بھی کام کر رہے ہیں۔ اِس ضمن میں اُن ادیبوں اور شاعروں کا انتخاب کیا ہے، جنھوں نے اُنھیں متاثر کیا۔ سندھی میں تحریر کردہ یہ کتاب زیرتکمیل ہے۔ غیرملکی ادب کو سندھی کے قالب میں ڈھالنے میں بھی جُٹے ہیں۔ ساتھ ہی شاہ لطیف پر، اردو زبان میں، کام کر رہے ہیں۔ اِس کام کا مقصد شاہ لطیف کی شاعری کا نئے زاویے سے جائزہ لینا ہے۔

شیخ ایاز کے بعد وہ امداد حسینی کو سندھی کا سب سے بڑا شاعر قرار دیتے ہیں۔ اِس ضمن میں حسن درس مرحوم کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ مسرور کے مطابق حسن درس کا ایک ہی مجموعہ منظرعام پر آیا، مگر یہ مجموعہ اوروں کے دس مجموعوں پر بھاری ہے۔ موجودہ سندھی شاعری کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں،’’یہاں بھی اردو شاعری والی صورت حال ہے۔ شاعری ہورہی ہے، نئے شاعر سامنے آرہے ہیں، لیکن ایسے شاعر کم ہی ہیں، جن کا کلام قارئین کو گرویدہ بنانے کی قوت رکھتا ہو۔‘‘

وہ غزل کو سندھی شاعری کی مقبول ترین صنف قرار دیتے ہیں۔ دوسرے درجے پر، اُن کے بہ قول، نظم ہے۔ سندھی میں نثری زبان کا بھی تجربہ ملتا ہے، مسرور اِسے سراہتے ضرور ہیں، لیکن خواہش مند ہیں کہ اِس جانب آنے والے شعرا کلاسیکی شاعری کی روایات سے بھی واقف ہوں۔ ’’شاعر کو قافیے، ردیف، اوزان کا علم ہونا چاہیے۔ اِس کے بغیر نثری نظم کہنا، میرے نزدیک سہل پسندی ہے۔‘‘

مسرور کے مطابق اُنھوں نے ایک مطمئن زندگی گزاری۔ سفر زیست میں کئی خوش گوار لمحات آئے، جن کی یادیں آج بھی دل و دماغ کو مہکاتی ہیں۔ چھوٹی بہن کا انتقال زندگی کا سب سے کرب ناک دن تھا۔ یہ سانحہ کم سنی میں جھیلنا پڑا، جس نے شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

اپنے ادبی نظریات پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں،’’میں ادب کو کسی سیاسی نظریے میں قید کرنے کے خلاف ہوں۔ ہاں، ادب بامقصد ہونا چاہیے، لیکن اِسے پرچار کے لیے استعمال کرنے کی میں حمایت نہیں کرتا۔‘‘ وہ ’’ادب برائے ادب‘‘ اور ’’ادب برائے زندگی‘‘ کی بحث کو غیرضروری قرار دیتے ہیں کہ اُن کے بہ قول، ادب کی ہر جہت زندگی کا پرتو ہے۔ ’’ادب بہ ذات خود ایک مکمل نظریہ ہے، جو پوری زندگی کا احاطہ کرتا ہے۔ آپ چاند تاروں کی بات کرتے ہیں، روشن زندگی کی بات کرتے ہیں۔ درحقیقت ادیب ایک بہتر دنیا کا خواب دیکھتا ہے، اُسے کسی مخصوص نظریے تک محدود کرنا درست نہیں۔‘‘ اُن کے نزدیک شاعر کے لیے ضروری ہے کہ اُس کے فن میں گہرائی ہو، ادبی چاشنی ہو۔ ’’فقط جذبات پر بھروسا نہ کیا جائے، شعری تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اظہار ہونا چاہیے۔‘‘ وہ ادبی میدان میں قدم رکھنے والے نواردوں کو اپنے دل کی آواز سننے، مطالعہ کرنے اور محنت کرنے کا پیغام دیتے ہیں۔

غربت اور تعلیم کے فقدان کو مسرور ملک کا بنیادی مسئلہ گردانتے ہیں۔ کہنا ہے،’’ہمیں عوام کو غربت کی دلدل سے نکالنا ہوگا، کیوں کہ افلاس تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کر دیتا ہے، انسان کی سوچ بنیادی ضروریات تک محدود ہوجاتی ہے، حالاں کہ انسان کے سامنے غوروفکر کے لیے کئی مسائل ہیں۔ غربت پر قابو پانے کے بعد ہمیں تعلیم کی جانب توجہ دینی ہوگی۔‘‘

2007 میں مسرور کی شادی ہوئی۔ خدا نے اُنھیں ایک بیٹے سے نوازا۔ مصروفیات کے باوجود گھر کو نظرانداز نہیں کرتے۔ چُوں کہ تخلیقی سرگرمیوں کا مرکز گھر ہی ہے، اِس لیے کبھی اہل خانہ کو شکایت کا موقع نہیں ملا۔ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں،’’گھر والوں کو زیادہ وقت دیتا ہوں۔ آفس سے سیدھا گھر جاتا ہوں۔ دوست اکثر شکایت کرتے ہیں کہ آپ ہمیں وقت نہیں دیتے۔‘‘ بیگم کے ہاتھ کے بنے تمام کھانے پسند ہیں۔ عام طور سے پینٹ شرٹ پہنتے ہیں۔ گہرے رنگ طبیعت کے قریب ہیں۔ گائیکی میں وہ نصرت فتح علی خان اور مہدی حسن کے مداح ہیں۔

نصیرالدین شاہ اور نانا پاٹیکر کی صلاحیتوں کے معترف ہیں۔ آرٹ فلمیں اچھی لگتی ہیں۔ ’’بازار‘‘ اور ’’اجازت‘‘ بہت پسند آئیں۔ گلزار صاحب کے تخلیقی کام کو سراہتے ہیں۔ سندھی فکشن میں امرجلیل، اردو فکشن میں کرشن چندر کے مداح ہیں۔ شاعری میں شاہ لطیف، شیخ ایاز اور فیض کو سراہتے ہیں۔ ’’شاہ جو رسالو‘‘ من پسند کتاب ہے۔ بیرونی ادب میں شیکسپئر اور خلیل جبران کا نام لیتے ہیں۔ خود کو بہ طور ادیب، بہ طور انسان بہتر بنانے کے لیے سرگرداں ہیں، یہی اُن کی زندگی کا مقصد ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔