ایپل کمپیوٹرز بھی اب وائرس سے غیر محفوظ

ویب ڈیسک  جمعـء 16 جون 2017
محفوظ آپریٹنگ سسٹم کے حوالے سے ایپل میکنٹوش کمپیوٹر استعمال کرنے والوں کی خوشی اب صرف چند کی مہمان رہ گئی ہے۔ (فوٹو: فائل)

محفوظ آپریٹنگ سسٹم کے حوالے سے ایپل میکنٹوش کمپیوٹر استعمال کرنے والوں کی خوشی اب صرف چند کی مہمان رہ گئی ہے۔ (فوٹو: فائل)

سلیکان ویلی: گزشتہ چند مہینوں کے دوران رینسم ویئر حملوں اور قیمتی کمپیوٹر ڈیٹا کے ’اغوا برائے تاوان‘ کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر ایپل میکنٹوش کمپیوٹرز کے صارفین خاصے مطمئن تھے کیونکہ ان حملوں میں صرف ونڈوز آپریٹنگ سسٹم ہی کو نشانہ بنایا گیا تھا لیکن یوں لگتا ہے جیسے اب ان کی خوشی صرف چند دن کی مہمان رہ گئی ہے۔

جرائم اور مجرموں پر مشتمل انٹرنیٹ یعنی ’’ڈارک ویب‘‘ پر نظر رکھنے والے سائبر سیکیوریٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ انٹرنیٹ کی اس تاریک دنیا میں ایسے رینسم ویئر بھی فروخت کے لیے رکھ دیئے گئے ہیں جن کا مقصد ایپل میکنٹوش کمپیوٹروں کو متاثر کرنا اور ان پر محفوظ کیے گئے ڈیٹا کو یرغمال بنانا ہے۔

اس خبر کو بھی پڑھیں: عالمی رینسم ویئر حملہ، 100 ملکوں میں ہزاروں کمپیوٹروں کا ڈیٹا یرغمال

واضح رہے کہ اس سال امریکا میں ایپل کمپیوٹرز پر ایک رینسم ویئر حملہ ہوا تھا لیکن اپنی معمولی شدت اور نہایت کم نقصان کی بناء پر وہ عالمی خبروں میں جگہ نہیں بناسکا تھا تاہم اسی وقت ہی سائبر سیکیوریٹی ماہرین نے اسی وقت خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔

چونکہ ایپل میکنٹوش پر ماضی میں ہیکروں کی جانب سے بہت ہی کم حملے کیے گئے ہیں جبکہ بہت ہی کم وائرس ان کمپیوٹروں کو متاثر کرنے کےلیے بنائے گئے ہیں اسی لیے یہ تاثر عام تھا کہ ’’میک او ایس‘‘ (میکنٹوش آپریٹنگ سسٹم) کو اینٹی وائرس یا اسی نوعیت کے دوسرے سیکیوریٹی پروگرامز کی کوئی خاص ضرورت نہیں لیکن ڈارک ویب پر ’میک اسپائی‘ اور ’میک رینسم‘ جیسے اسپائی ویئر اور رینسم ویئر پیش ہونے کے بعد سے ایپل میکنٹوش صارفین کے لیے بھی خطرہ بڑھ گیا ہے۔

ماضی میں ونڈوز اور دوسری مائیکروسافٹ مصنوعات کو نشانہ بنانے والے وائرسز وغیرہ کے پس پشت کام کرنے والے ہیکر کہا کرتے تھے کہ وہ مائیکروسافٹ کی اجارہ داری کے خلاف ہیں اور اسی لیے یہ سب کچھ کر رہے ہیں لیکن سائبر سیکیوریٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایپل میکنٹوش کمپیوٹرز پر حملوں کی غرض سے بنائے گئے رینسم ویئر خاصی مختلف سوچ کے تحت تیار کیے گئے ہیں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں: ڈارک ویب؛ امریکی حکومت مُجرموں کے تعاقب میں

ایپل میکنٹوش کا شمار دنیا کے مہنگے کمپیوٹرز میں ہوتا ہے جنہیں عام طور پر صرف امیر اور مالدار طبقے کے لوگ ہی استعمال کرسکتے ہیں جبکہ ڈیٹا ہیک ہوجانے کی صورت میں یہی لوگ دیگر صارفین کی نسبت زیادہ تاوان ادا کرسکتے ہیں۔ غالباً یہی وہ سوچ ہے جس کے تحت ایپل میکنٹوش کے لیے بھی رینسم ویئر، اسپائی ویئر اور وائرس وغیرہ تیار کیے گئے ہیں۔

زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ایسے خطرناک پروگرام ’’ڈارک ویب‘‘ پر کھلم کھلا فروخت بھی ہو رہے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مستقبل میں ایپل میکنٹوش کمپیوٹرز پر بھی کوئی بڑا وائرس حملہ ہونے والا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔