نادرا نے امیروں کا ڈیٹا دینے کیلیے ایف بی آر سے حصہ مانگ لیا

ارشاد انصاری  جمعـء 16 جون 2017
ممبر براڈننگ ٹیکس بیس کو نادرا ڈیٹاکی بنیادپر 100کیسزپرآزمائشی کام کی ہدایت۔ فوٹو: فائل

ممبر براڈننگ ٹیکس بیس کو نادرا ڈیٹاکی بنیادپر 100کیسزپرآزمائشی کام کی ہدایت۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد:  نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو قابل ٹیکس آمدنی رکھنے والے 8 لاکھ افراد کے ڈیٹا کی فراہمی کو ریونیو میں حصے کی فراہمی سے مشروط کردیا ہے۔

’’ایکسپریس‘‘ کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آر نے نادرا سے قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجود ٹیکس نیٹ سے باہر امیر ترین لوگوں کا ڈیٹا مانگا جس پر نادرا نے رضامندی ظاہر کردی ہے تاہم شرط عائد کی ہے کہ ایف بی آر کو نادرا سے حاصل کردہ 8 لاکھ امیروں کے ڈیٹا کو استعمال کرنے سے جو ریونیو ملے گا اس کی مخصوص شرح نادرا کو فراہم کی جائے، نادرا فیملی ٹری سے بھی ان لوگوں کے بارے میں تمام درکار معلامات ایف بی آر کو فراہم کرے گا۔

دستاویز میں بتایا گیاکہ گزشتہ ہفتے وزیراعظم کے مشیر برائے ریونیو ہارون اختر کی زیر صدارت ٹیکس اصلاحات کمیشن کے اجلاس میں نادرا سے ڈیٹا حاصل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے اور اس بات پر بھی اصولی اتفاق کیا ہے کہ نادرا کے ڈیٹا کو استعمال کرنے سے جو لوگ ٹیکس نیٹ میں آئیں اور ایف بی آر کو ان سے جو ریونیو حاصل ہوگا اس میں نادرا کا حصہ ہوگا اور اس کے لیے نادرا کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ریونیو میں حصے کی شرح کا تعین کیاجائے گا جس کے بعد نادرا سے تحریری معاہدہ یا ایم او یو سائن کیا جائے گا۔

دستاویز کے مطابق اجلاس میں ہارون اختر نے ایف بی آر کی ممبر براڈننگ آف ٹیکس بیس تسنیم رحمن کو ہدایت کی کہ نادرا کی جانب سے ریونیو شیئرنگ کی بنیاد پر8 لاکھ لوگوں کا ڈیٹا فراہم کرنے کی پیشکش پر مزید کام کیا جائے، ٹیسٹ کیس کے طور پر نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی سے 100 افراد کا ڈیٹا لے کر ان پر کام کیا جائے، اگر ان کیسز میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو حوصلہ افزا ریونیو حاصل ہوتا ہے تو اس کے بعد نادرا کے ساتھ باقاعدہ طور پر کوآرڈینیشن کیا جائے اور نادرا سے ڈیٹا لے کر اسے ٹیکس نیٹ و ٹیکس ریونیو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔