چورکے ماتھے پر ’’میں چور ہوں‘‘ کا ٹیٹو بنانے والا آرٹسٹ گرفتار

ویب ڈیسک  اتوار 18 جون 2017
اس سارے عمل کی ویڈیو بناکر ٹیٹو آرٹسٹ نے اپنے خلاف ثبوت خود ہی پولیس کو فراہم کردیا۔ (فوٹو: فائل)

اس سارے عمل کی ویڈیو بناکر ٹیٹو آرٹسٹ نے اپنے خلاف ثبوت خود ہی پولیس کو فراہم کردیا۔ (فوٹو: فائل)

ساؤ پالو: بات فلمی سی لگتی ہے کہ چوری کرنے والے کے ماتھے پر ’’میں چور ہوں‘‘ لکھ دیا جائے لیکن آج کی حقیقی دنیا میں نہ صرف ایسا واقعہ ہو چکا ہے بلکہ اس حرکت کے مرتکب افراد کو حراست میں بھی لیا جاچکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق برازیلی ریاست ساؤ پالو میں پولیس نے ایک مقامی ٹیٹو آرٹسٹ میکون ویزلی کاروالو دوس ریس اور اس کے پڑوسی کو تشدد کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے کیونکہ ان دونوں نے سائیکل چرانے کی کوشش کرنے والے ایک 17 سالہ نوجوان کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کے بعد اس کے ماتھے پر برازیلی زبان میں ٹیٹو تحریر کر دیا جس کا مطلب تھا ’’میں چور اور نکما ہوں۔‘‘

لیکن بات صرف یہیں پر ختم نہیں ہوئی کیونکہ ٹیٹو آرٹسٹ اور اس کے پڑوسی نے اس پوری کارگزاری کی ویڈیو بناکر واٹس ایپ پر بھی ڈال دی جس میں پہلے اس لڑکے سے مار پیٹ کر کے اقبالِ جرم کروایا گیا اور پھر اسے باندھ کر اس کے ماتھے پر ’’میں چور اور نکما ہوں‘‘ کی عبارت والا ٹیٹو بنادیا گیا۔

دیکھتے ہی دیکھتے یہ ویڈیو وائرل ہوگئی جسے اس نوجوان کے گھر والوں نے بھی دیکھ لیا اور فوری طور پر پولیس سے رجوع کیا۔ انہوں نے ٹیٹو آرٹسٹ اور اس کے پڑوسی کے خلاف تشدد کا مقدمہ درج کرواتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ وہ لڑکا منشیات کا عادی ضرور ہے لیکن چور ہر گز نہیں جبکہ گزشتہ ایک رات سے وہ گھر نہیں آیا تھا۔

نوجوان کے اہلِ خانہ کا مؤقف تھا کہ اوّل تو اس ویڈیو میں ان کے لڑکے سے مار پیٹ کر کے ’چوری کی کوشش‘ کا زبردستی اعتراف کروایا گیا یعنی آرٹسٹ کی سائیکل بہرحال چوری نہیں ہوئی تھی؛ اور دوسرے یہ کہ ماتھے پر شرمناک عبارت کا ٹیٹو بنانا بھی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے کیونکہ اس آرٹسٹ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کو اپنے طور پر مجرم قرار دے اور پھر اسے اپنی مرضی کی سزا بھی دے ڈالے۔

زیرِ حراست ٹیٹو آرٹسٹ نے بتایا کہ ماتھے پر ٹیٹو بنانے کے بعد اس نے لڑکے کو جانے دیا تھا اور اسے نہیں معلوم کہ وہ لڑکا کہاں چلا گیا۔ اس آرٹسٹ کے خلاف تشدد کا مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے جبکہ دریں اثنا انٹرنیٹ پر سے وہ اصل ویڈیو اور اس کی تمام آن لائن کاپیاں بھی ہٹوا دی گئی ہیں کیونکہ ان سب میں خون اور تشدد نمایاں ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔