پاکستان کا اصل چہرہ درحقیقت یہی لوگ ہیں!

شاہد کاظمی  ہفتہ 17 جون 2017
ہم نہ جانے پاکستان کا مثبت تشخص دنیا میں اُجاگر کرنے کے لیے کروڑوں روپے کیوں خرچ کرتے ہیں۔ ایک پُرعزم لالی ہی اِس تشخص کے لیے کافی ہے۔

ہم نہ جانے پاکستان کا مثبت تشخص دنیا میں اُجاگر کرنے کے لیے کروڑوں روپے کیوں خرچ کرتے ہیں۔ ایک پُرعزم لالی ہی اِس تشخص کے لیے کافی ہے۔

گاڑی میں ایک نوجوان سوار ہوا، ایک بازو سے محروم تھا۔ اِس کمی کا احساس ایسے ہوا کہ ایک بازو کا کپڑا ہوا میں جھول رہا تھا جو ظاہر کررہا تھا کہ بدن کا یہ حصہ ماس سے محروم ہے یا پھر مکمل حصہ ہی غائب ہے۔ ہم پاکستانی کیوں کہ نسبتاً سخی واقع ہوئے ہیں اور سخی بھی ایسے کہ ہمدردی سے زیادہ ہمارے دل میں یہ خیال راسخ ہے کہ ہم جب لوگوں کے سامنے کسی کی مدد کریں گے یا ترس جتائیں گے تو اردگرد کے دیکھنے والوں پر ہمارا رعب پڑے گا اور معاشرے میں ہمارا مثبت تاثر اجاگر ہوگا۔

ایک پاکستانی ذہنیت ہوتے ہوئے راقم نے بھی ازراہِ ہمدردی نوجوان سے بازو کے بارے میں استفسار کیا تو اُس نے نہایت اعتماد سے واقعے کی تفصیل بتا دی۔ ہم بھلا کہاں ایک جواب سے مطمئن ہوتے ہیں۔ دوسرا سوال روزگار کا داغا تو جواب ملا کہ بس گزارا ہو ہی جاتا ہے۔ دل میں خیال کیا کہ کہاں سے گزارا ہوتا ہوگا بے چارہ کا، مانگ تانگ کر ہی معاملات چلتے ہونگے۔ اِسی خیال سے جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کچھ مڑے تڑے نوٹ نکالتے ہوئے اگلا سوال کیا کہ کیا کرتے ہو؟

سچ پوچھیے تو مجھے اِس جواب کی اُمید تھی کہ کہے گا کہ وہ بھیک مانگتا ہے یا کسی ایسے ہی دوسرے کام کا کہے گا، مگر میں اُس وقت حیرت زدہ رہ گیا جب اُس نے جواب دیا کہ وہ ایک ماہر درزی ہے، اور اللہ کا شکر ہے بہت سارے لوگوں سے اچھا کمالیتا ہے۔ مجھے اُس کے جواب نے اتنا شرمندہ کردیا کہ جیب میں ڈالا ہاتھ جیب میں ہی رہ گیا اور بس کانوں میں ایک سوچ سائیں سائیں کرنے لگی کہ معذور وہ ہے یا میں؟

ہم بطور مجموعی معذور افراد کو معاشرے کا ایک ایسا ناکارہ حصہ تصور کرتے ہیں جو صرف دوسروں کے محتاج ہوتے ہیں۔ اِس نوجوان نے جس طرح یہ احساس دلایا کہ معذوری اُس وقت تک معذوری نہیں ہوتی، جب تک اُسے معذوری سمجھا نہ جائے۔ ’لالی‘ کی مثال بھی ایسی ہی ہے کہ جس نے معاشرے میں پھیلے معذوروں کے حوالے سے عمومی رجحان کی نفی کردی ہے۔

بدین جیسے پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے کے باوجود لالی نے ایک عورت ہو کر معاشرے کو دکھا دیا کہ معذوری کسی بھی انسان پر صرف اُس وقت حاوی ہوسکتی ہے جب وہ آپ کی سوچ کو گرفت میں لے۔ وہ سلامت ہاتھ پیروں والے بھیک منگوں کے لیے بھی مشعل راہ ہے کہ یہ نہ صرف عورت ہے بلکہ ٹانگوں سے محروم ہے اور کیا آپ جانتے ہیں اُس نے رزقِ حلال کے کس شعبے کو چنا؟ موٹر مکینک۔ ایک ایسا شعبہ کہ جس میں کوئی صحت مند عورت بھی آپ کو آج تک نظر نہیں آئی لیکن ٹانگوں سے محروم لالی آج ایک کامیاب موٹر مکینک ہے اور وہ لوکل ٹرانسپورٹ میں سفر کرتی ہے۔

نہ جانے کیوں دل یہ لکھنے کو بضد ہے کہ یہ چلتی پھرتی پاکستان ہے۔ ہم برانڈ ایمبیسڈر سنتے ہیں، اور پوری دنیا میں سفارت کاروں کا تقرر کرتے ہیں کہ پاکستان کا روشن چہرہ دنیا کو دِکھا پائیں لیکن میرے لیے تو اِن سب سے بڑھ کر لالی ہے کہ لالی پُرعزم پاکستان ہے۔ مجھے ذاتی طور پر لالی جیسی باعزم خاتون سے متعارف ہونے کے بعد اپنی یہ عارضی سی مشکلات حقیر لگنے لگی ہے۔ کیوںکہ اگر لالی ٹانگوں سے محروم ہوکر اپنے ہاتھوں کو ٹانگیں بناچکی ہے تو ہم میں کیا کمی ہے کہ آگے بڑھنے کے لیے کوئی تاویلیں پیش کریں؟

ہم نہ جانے پاکستان کا مثبت تشخص دنیا میں اُجاگر کرنے کے لیے کروڑوں روپے کیوں خرچ کرتے ہیں۔ ایک پُرعزم لالی ہی اِس تشخص کے لیے کافی ہے۔ وہ کہنے کو تو ایک موٹر مکینک کہی جاسکتی ہے مگر حقیقت میں وہ پاکستان کی مکینک ہے جو اِس دیس کی بنیادوں کی دراڑیں پُر کررہی ہے۔ دراصل وہ اِس معاشرے کی مکینک ہوکر اِس معاشرے کے پیچ کس رہی ہے جہاں معذوری سوچ کو بھی اپاہج کردیتی ہے۔ لالی حقیقی معنوں میں پاکستان کا وہ روشن چہرہ ہے جس سے دنیا آشنا نہیں ہے۔ لالی جیسے کردار ہی پاکستان کا حُسن ہیں، پاکستان کا سنگھار ہیں، یہ کردار ہمارے ذہنوں کو صبح شام جنجھوڑتے ہیں کہ معذوری اگر سوچ پر قابو نہ پائے تو ہاتھ پاؤں کی معذوری معنی نہیں رکھتی۔

یہ کردار اِس معاشرے کے منہ پر بھی ایک طمانچے کی صورت ہے، جہاں معذوروں کو دوسرے درجہ کا شہری تصور کیا جاتا ہے۔ لالی جیسے ہزاروں کردار چیخ چیخ کر یہ اعلان کرتے نظر آتے ہیں کہ معذور ہم نہیں جو معذوری کے باجود رزقِ حلال کی تگ و دو میں مصروف ہیں بلکہ معذور تو تم ہو جو ہمیں معذور سمجھ کر ہمیں معاشرے کا ناکارہ حصہ سمجھ لیتے ہو۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا لکھاری کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی۔
شاہد کاظمی

شاہد کاظمی

بلاگر کی وابستگی مختلف روزناموں بشمول، روزنامہ جناح، روزنامہ اوصاف سے رہی ۔ آج کل بلاگر ہفت روزہ ہائی کلاس نیوز کے ساتھ بطور ایڈیٹوریل سربراہ منسلک ہیں۔ بلاگر سے ان کے ٹویٹر www.twitter.com/ssakmashadi اور فیس بک پر www.facebook.com/100lafz رابطہ کیا جا سکتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔