مصنوعی نہیں قدرتی مشروبات استعمال کریں

نیاز عاطف (میڈیکل پامسٹ)  اتوار 18 جون 2017
مشروبات عام طور پر پھلوں، پھولوں اور دیگر نباتات سے بنائے جاتے ہیں۔ فوٹو : فائل

مشروبات عام طور پر پھلوں، پھولوں اور دیگر نباتات سے بنائے جاتے ہیں۔ فوٹو : فائل

مشروب شرب سے بنا ہے اور شرب کا مطلب ہے پینا، طبی اصطلاح میں شربت بطور دوا کے استعمال کیا جاتا ہے۔ مشروبات عام طور پر پھلوں، پھولوں اور دیگر نباتات سے بنائے جاتے ہیں،چوں کہ تمام پھل، پھول اور نباتات موسمی ہوتے ہیں، اس لیے اطباء نے ان کے فوائد سے سارا سال مستفید ہونے کی غرض سے شربت کو رواج دیا۔

ہم یہاں چند مفید اور عام استعمال ہونے والے مشروبات کے استعمال اور فوائد کا تذکرہ کیے دیتے ہیں تاکہ آپ ہماری معروضات پر عمل پیرا ہو کر پھلوں، پھولوں اور نباتات کے طبی فوائد سے مکمل اور بہترین استفادہ کرنے والے بن جائیں۔

شربتِ الائچی:۔ الائچی ایک خوشبو دار پھل ہے ۔ اس کا مزاج گرم و خشک اور ستارہ شمس ہے۔ طبیعت میں لطافت پیدا کرتی ہے اور منہ و پسینے کی بدبو کو خوشبو میں بدلتی ہے۔ دل اور معدے کو طاقت فراہم کرتی ہے۔تبخیر سے پیدا ہونے ہونے والے سر درد اور مرگی سے نجات دلاتی ہے۔ متلی، قے، ابکائی اور اسہال کو روکتی ہے۔ شربتِ الائچی کو شربتِ سکنجبین کے ساتھ ملا کر پینے سے عوارضِ جگر میں افاقہ نصیب ہوتا ہے۔ منہ میں رکھ کر چبانے سے مسوڑھے مضبوط کرتی ہے۔ ہاضمے کی قوت میں اضافہ کرتی ہے۔ الائچی کو عرقِ گلاب میں رات بھر تر کر کے صبح ہلکا جوش دے کر بطریقِ عام شربت تیار کریں۔

شربتِ صندل:۔ یہ شربت صندل کے درخت کی لکڑی کے برادہ سے بنایا جاتا ہے۔ صندل کا مزاج سرد خشک ہوتا ہے اور اس کی نسبت ستارہ زحل سے ہے۔ یہ دل و دماغ کو فرحت و تازگی بخشتا ہے اور معدہ و جگر کو طاقت دیتا ہے۔ خفقان کے مرض کو دفع کرتا ہے اور کمزوری کی وجہ سے ہونے والی تبخیر کو ختم کرتا ہے۔ یادداشت اور ذہن کو طاقتور بناتاہے۔صندل خون کو صاف بھی کرتی ہے، لہٰذا گرمی دانوں سے بچانے میں بھی معاون ہے۔صندل کا شربت دل کی گھبراہٹ اور جگر و معدے کی گرمی کو دور کرتا ہے اور گرمی کی وجہ سے ہو نے والے دردِ سر کو تسکین دیتا ہے۔ یہ صندل کے برادہ کوعرقِ گلاب میں بھگو کر بنایا جائے تو بہت زیادہ فائدہ مند ہے۔

شربتِ بادام:۔ بادام مشہور خشک میوہ ہے، جسے چھوٹے بڑے تمام بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔اس کا مزاج گرم تر ہے اور یہ ستارہ مشتری سے منسوب ہے۔یہ انسانی جسم کی تمام تر قوتوں کا نگہبان ہے۔ نظر،دماغ اور اعصاب کو کمال توانائی فراہم کرتا ہے،خشک کھانسی کا بہترین علاج ہے، مادہ حیات کثرت سے بناتا ہے، قطرہ قطرہ پیشاب آنے کے مرض کو دفع کرتا ہے، جسم کو خوبصورت اور فربہ بناتا ہے، قبض کو رفع کرتا ہے اور دماغ،انتڑیوں اور جسم کی خشکی کو دور کرتا ہے۔ شربتِ بادام بنانے کے لیے محنت درکار ہوتی ہے۔ باداموں کو رات بھر بھگو کر خوب گھوٹا لگایا جاتا ہے، یعنی باداموں کی سردائی کاعام طریقے سے شربت بنایا جاتا ہے۔

شربتِ فالسہ:۔ فالسہ ایک مشہور ، مزیدار اور کھٹا میٹھا پھل ہے، جو خواتین اور بچوں میں بڑا پسند کیا جاتا ہے۔اس کا مزاج سرد خشک اور اس کا ستارہ مریخ ہے۔ فالسہ دل، جگر اور معدے کو طاقت دیتا ہے، باالخصوص گرم مزاج والے افراد میں یہ بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ پتے کی خرابی سے پیدا ہونے والے عوارض،پیچش، قے،اسہال،ہچکی اور پیاس کی زیادتی میں بہت ہی فوائد کا حامل پھل ہے۔ پیشاب کی جلن کو دور کرتا ہے اور گرمی کی وجہ سے دل کی بے ترتیب دھڑکنوں کو اعتدال پر لاتا ہے، جسم کی غیر ضروری گرمی کو ختم کرتا ہے، صفراوی شوگر کے مریضوںکے لیے خدا کی ایک بہت بڑی نعمت ہے، یہ شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتا ہے۔ پیاس کو تسکین دیتا ہے اور گھبراہٹ دور کرتا ہے۔ تازہ فالسہ لے کر اسے پانی میں مکس کرکے بطریق عام شربت تیار کیا جاتا ہے۔ رواں موسم میں فالسے کا شیک بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

شربت نیلوفر:۔ نیلو فر سردی،تری اور گرمی و خشکی میں اعتدال کا حامل اور ستارہ زہرہ سے منسوب ہے۔ یہ نیلگوں رنگ کے خوبصورت پھولوں والا پودا تالابوں میں عام پایا جاتا ہے۔ نیلوفر دل ودماغ کو طاقت دیتا ہے اور گرمی میں سکون،پیاس کو بجھاتا ہے، خفقانِ قلب کے مریضوں کے لیے بہترین دوا ہے، دماغی خشکی اورگرمی سے ہونے والے سر درد کا کامیاب علاج ہے، غلبہ سودا و صفرا سے ہونے والے اسہال اور ضعف، امعاء کو دور کرتا ہے۔ نیلو فر کے پھولوں کو رات بھرپانی میں بھگو کر صبح بطریقِ معروف شربت تیار کریں۔ 2 سے 4 چمچ ٹھنڈے پانی میں ملا کر دن میں تین بار استعمال کریں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔