’میرے ابو میرا تحفظ‘

سید امجد حسین بخاری  اتوار 18 جون 2017
باپ کی محبت بیٹے کی نظر میں شاید شاہ خرچیوں کی کنجی ہو مگر بیٹیوں کے لئے باپ تحفظ کا احساس، سکون قلب کا ذریعہ اور محبت و الفت کا وہ مرکز ہے جس کو ساری زندگی وہ بھلا نہیں پاتیں۔

باپ کی محبت بیٹے کی نظر میں شاید شاہ خرچیوں کی کنجی ہو مگر بیٹیوں کے لئے باپ تحفظ کا احساس، سکون قلب کا ذریعہ اور محبت و الفت کا وہ مرکز ہے جس کو ساری زندگی وہ بھلا نہیں پاتیں۔

ماتھے پر پسینہ، ہاتھ میں لاٹھی اور کاندھے پر کھانے کا سامان، یہ ابو کا پہلا سراپا ہے جو میرے ذہن میں آج تک ہے۔ بچپن میں ٹی وی کمرشل اور اخبارات میں ایک خوبصورت اشتہار ’یااللہ میرے ابو سلامت رہیں‘ والد کی محبت کے حوالے سے پہلی یاد ہے جو میرے ذہن میں اب بھی محفوظ ہے۔ بچپن سے لڑکپن میں آنے کے بعد ہر دن میرے لئے یادگار رہا۔ مجھے آج تک علم نہیں ہوسکا کہ ابو جان کیسے پہاڑ کی چوٹی پر ہمیں کھانے پینے کی اشیاء پہنچاتے تھے۔ ابو سرکاری اسکول ٹیچر تھے جنہوں نے ہمیں پڑھانے اور ہماری پرورش کے لئے ہر سہولت دی۔ اپنی راتوں کا چین اور دن کا سکون ہماری پُرآسائش زندگی کی خاطر قربان کیا، اپنی خواہشات کا گلہ گھونٹ کر ہماری پرورش کی، اپنی خوشیوں کا محور ہماری مسکراہٹوں کو بنایا، تپتی دوپہروں اور ٹھٹھرتی شاموں میں ہمیں پُرسکون زندگی دی۔

باپ کے سراپے کے حوالے سے ہر فرد کی اپنی رائے اور اپنا نظریہ ہوتا ہے۔ باپ کی محبت بیٹے کی نظر میں شاید شاہ خرچیوں کی کنجی ہو مگر بیٹیوں کے لئے باپ تحفظ کا احساس، سکون قلب کا ذریعہ اور محبت و الفت کا وہ مرکز ہے جس کو ساری زندگی وہ بھلا نہیں پاتیں۔ میرے بعض دوستوں کا خیال ہے کہ باپ ایک ’اے ٹی ایم‘ ہے جہاں چند الفاظ بول کر اپنی عیاشی کے لئے رقم حاصل کی جاسکتی ہے، بعض کا خیال ہے کہ باپ عقاب ہے جو بیٹے کی خامیوں پر نظر رکھتا ہے جبکہ اِس کی خوبیوں کو نظر انداز کردیتا ہے۔ اکثر اِس بات پر مصر ہیں کہ باپ اللہ تعالیٰ کی جانب سے بنی نوع انسان کے لئے ایسا انعام ہے جس کا نعم البدل کوئی نہیں ہے۔ ہاں یقیناً باپ کا سایہ شفقت اولاد کے لئے اہمیت کا حامل ہے، خواہ اِس کی حیثیت ایک اے ٹی ایم ہی کیوں نہ ہو۔

میٹرک کے بعد گھر کی دہلیز سے باہر قدم رکھا لیکن یہ قدم اِس چوکھٹ پر دوبارہ نہ لوٹ سکے۔ مہمان بن کر گھر جانا اور دو چار دن مہمان نوازی کروا کے واپس لوٹ آنا، یہ سلسلہ میٹرک سے تادمِ تحریر جاری ہے۔ اِس سارے عرصے میں جہاں گھر والوں کی یاد آتی رہی وہاں قدم قدم پر ابو جان کی ضرورت محسوس ہوتی رہی۔ یہ ضرورت کالج اور یونیورسٹی کی فیس کے لئے ہی نہیں بلکہ جب جب عدم تحفظ کا شکار ہوا ابو کی یاد آئی۔ جب کبھی میری پیشانی پر پسینہ آیا مجھے ابو کی یاد آئی۔ شاید یہی وہ لمحات ہیں جن کے سبب بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ ماتھے سے ٹپ ٹپ کرکے بہنے والے پسینے کے قطرے کتنے قیمتی ہوتے ہیں۔ دورانِ ملازمت پہلی تنخواہ ملی تو اِس کو خرچ کرتے ہوئے ابو جان کی محنت کا خیال آیا۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ عیاشی تو باپ کے پیسوں سے ہوتی ہے، اپنے پیسوں سے تو بس ضرورتیں ہی پوری ہوتی ہیں۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا کہ عیاشی کا خیال تو درکنار ضروریات بھی ترس ترس کر پوری ہوئیں۔

باپ کے احترام کا جو درس مذہب اور معاشرے نے پڑھایا وہ آج تلک سینے میں اِس قدر گہرا ہے کہ کبھی سر اُٹھا کر ابو سے بات نہ کرسکا۔ ٹیلی فون پر جو سب سے طویل گفتگو میں نے ابو سے کی اِس کا دورانیہ بھی 1 منٹ اور 9 سکینڈز تھا۔ ویسے عموماً 31 سکینڈز سے زائد کبھی بات نہیں کرسکا۔ مجھے اِس بات کی آج تک سمجھ نہیں آسکی کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟ آخر کیوں میں ابو جان کے ساتھ بات نہیں کر پاتا؟ کیوں اُن کے سامنے میرے الفاظ غائب ہوجاتے ہیں؟ احساس ہوتا ہے کہ کاش ابو جان کے ساتھ میرا کمیونیکشن گیپ نہ ہوتا تو جی بھر کے اُن کے ساتھ باتیں کرتا، کچھ اپنی سناتا اور کچھ اُن سے سنتا۔

سوشل سائنسز کی تازہ تحقیق میں بتایا جا رہا ہے کہ باپ اور بیٹے کے درمیان تعلق دوستانہ ہونا چاہیے۔ اِس دوستانہ تعلقات کی وجہ سے اولاد اپنے باپ کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ مجھے تو اتنا علم ہے کہ باپ اور بیٹے میں احترام کا رشتہ ہونا چاہیئے، اِس پیار و محبت کے بندھن میں دونوں پوری طرح بندھے ہوئے ہونے چاہیئے جس کے باعث الفت و شفقت پدری سے لبریز عزت و احترام کی منزلیں طے ہوں۔

یورپ اور دیگر مغربی ممالک نے جون کا تیسرا اتوار یومِ پدر یا فادرز ڈے کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ اِس دن کو منانے کا خیال ویلنٹائن ڈے اور مدرز ڈے کی کامیابی کے بعد آیا۔ ویسے شاید فادرز ڈے منانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ایک خاص دن اپنے باپ کے لئے کارڈز اور چند تحائف بھیجے جائیں، اور اِس دن اولڈ ایج ہوم میں پڑے اِن ضعیف و لاغر اجسام کے کو چند تحائف اور کارڈ بھیج کر اپنے فرض سے سبکدوشی حاصل کی جائے۔

باپ کو بوجھ سمجھ کر اولڈ ایج ہوم یا گھر کے سرونٹ کوارٹر میں چھوڑ کر آنے کا جو احساسِ جرم پیدا ہوتا ہے، شاید اِس احساس سے چھٹکارے کے لئے اِس دن کو منانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

میں فادرز ڈے منانے کا حامی ہوں اور نہ ہی مخالف، میں تو اِس معاملے پر غیر جانبدارانہ رائے رکھنے کی کوشش کرتا ہوں مگر میں غیر جانبدار کیسے رہ سکتا ہوں؟ جس باپ نے اپنی خوشیوں کی قربانیاں دے کر ہمارے بچپن کو مسکان اور جوانی کو اُٹھان دی، جس نے اپنی تمام تر طاقت اور قوت اپنی اولاد کو طاقتور بنانے کے لئے وقف کردی، جس نے ہمیشہ یہ جھوٹ بولے کہ ’ہاں میں تھکا نہیں ہوں‘، ’میں خوش ہوں‘، لیکن کسی نے کبھی اِس کی تھکان دور کرنے یا اُس کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کی کوشش نہیں کی۔ پھر جب اولاد کمانے کے قابل ہوئی اور باپ کے فخر سے چھاتی چوڑی کرنے کا وقت آیا تو اُسی اولاد نے کہا باپ تو موبائل فون کے اولڈ ورژن کی طرح ہے جسے دوستوں کے سامنے نکالتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے، جس وجہ سے اُس کو ہمیشہ سائلنٹ موڈ پر ہی رکھا جاتا ہے۔ ہاں جب میں معاشرے میں ایسی چیزیں دیکھتا ہوں تو واقعی میری غیر جانبداری ختم ہوجاتی ہے۔

ایک لمحے کو خیال کیجئے کہ جس طرح باپ کو آپ ایک ’اولڈ ورژن کا موبائل‘ یا ’اے ٹی ایم مشین‘ سمجھتے ہیں، جسے ضرورت پوری ہونے کے بعد اپنی زندگی سے نکال دیتے ہیں اور سال میں ایک بار پرانی یادوں کو تازہ کرنے کے لئے اِس کا دیدار کرلیتے ہیں۔ اگر یہی کام باپ بھی کرتا تو کیا آپ جس مقام پر آج موجود ہیں اُس مقام کو کبھی حاصل کر پاتے؟ ذرا سوچیے۔

عالمی یوم پدر منائیے، ضرور منائیے، جوش و خروش سے منائیے، لیکن ایک بار جُھکی کمر والے اور لاٹھی کا سہارا لے کر کھڑے ہونے والے بوڑھے باپ سے اپنے دوستوں کو متعارف ضرور کروائیے گا۔ آپ ایک بار کہیں گے کہ یہ میرے ابو جان ہیں تو بوڑھے باپ کا سینہ فخر سے چوڑا ہوجائے گا۔ محض تحفے، تحائف سے کام نہ چلائیں بس محبت کے میٹھے بول ہی ان بوڑھے کانوں میں رس گھول دیں گے۔ آپ کے پیار و محبت اور احترام کے چند الفاظ ہی باپ کے لئے خطیر تحفوں سے بڑھ کر ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا لکھاری کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ  [email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی
سید امجد حسین بخاری

سید امجد حسین بخاری

لکھاری نے جامعہ پنجاب سے جرنلزم میں ایم ایس ای کیا۔ بچپن سے بچوں کے لئے کہانیاں لکھنا شروع کیں۔ آج کل قومی اخبارات میں ’’جلتی کتابیں‘‘ کے نام سے تعلیمی اور معاشرتی مسائل پر لکھ رہے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔